عرفان سرور

محفلین
تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے
انھیں اس کی نہیں پروا کوئی مرتا ہے مرجائے

پریشان بال کرتے ہیں انھیں شوخی سے مطلب ہے
بکھرتا ہے اگر شیرازہ عالم، بکھر جائے

حیات ِدائمی کی لہر سے اس زندگانی میں
اگرمرنے سے پہلے بن پڑے تو جوش مرجائے
(جوش ملیح آبادی)
 

عرفان سرور

محفلین
کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا

ترے ہجر میں‌خور و خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ
کوئی لقمہ ہاتھ سے گر پڑا تو خیال تیری طرف گیا

لیاقت علی عاصم
 

کاشفی

محفلین
دل ہی اُس کافر کا پتھر ہو تو کوئی کیا کرے
ورنہ ایسی آہ سوزاں بے اثر میری نہیں
(شیخ قلندر بخش جراءت)
 

کاشفی

محفلین
مرے ہی سامنے دامن اُٹھا کر ناز سے چلنا
مجھ ہی سے پھر گلہ اُلٹا مرے چاکِ گریباں کا
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
 
Top