اردو

  1. کاشفی

    دوگانا چاند سے مُکھڑا کیوں شرمایا - آنکھ ملی اور دل گھبرایا - محمد رفیع اور آشا بھوسلے

    چاند سے مُکھڑا کیوں شرمایا - آنکھ ملی اور دل گھبرایا
  2. کاشفی

    دوگانا دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے - محمد رفیع اور لتا

    دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے
  3. کاشفی

    کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے - نظام رامپوری

    غزل (نظام رامپوری) کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے بدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے وہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی وہ ہنس ہنس کر ترا مجھ کو رُلانا یاد آتا ہے گلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا پھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے بدلنا کروٹ اور تکیہ مرے...
  4. کاشفی

    وہ بگڑے ہیں، رکے بیٹھے ہیں، جھنجلاتے ہیں، لڑتے ہیں - نظام رامپوری

    غزل (نظام رامپوری) وہ بگڑے ہیں، رکے بیٹھے ہیں، جھنجلاتے ہیں، لڑتے ہیں کبھی ہم جوڑتے ہیں ہاتھ گاہے پاؤں پڑتے ہیں گئے ہیں ہوش ایسے گر کہیں جانے کو اُٹھتا ہوں تو جاتا ہوں اِدھر کو اور اُدھر کو پاؤں پڑتے ہیں ہمارا لے کے دل کیا ایک بوسہ بھی نہیں دیں گے وہ یوں دل میں تو راضی ہیں مگر ظاہر جھگڑتے ہیں...
  5. کاشفی

    بشیر بدر دل میں اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں میں - بشیر بدر بھوپالی

    غزل (بشیر بدر بھوپالی) دل میں اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں میں شاید ہم نے آج غزل سی بات لکھی ہے آنکھوں میں جیسے اک ہریجن لڑکی مندر کے دروازے پر شام دیوں کی تھال سجائے جھانک رہی ہے آنکھوں میں اس رومال کو کام میں لاؤ اپنی پلکیں صاف کرو میلا میلا چاند نہیں ہے دھول جمی ہے آنکھوں میں پڑھتا...
  6. راحیل فاروق

    اردو ہے جس کا نام

    اردو کے حوالے سے اکثر دلچسپ اور بعض اوقات خاصے پرتفنن قسم کے سوالات موصول ہوتے رہتے ہیں۔ بعض تو ان میں سے خاصے چکرا دینے والے بھی معلوم ہوتے ہیں۔ میری خواہش ہو گی کہ اس قسم کے معاملات پر بحث اس لڑی میں ہو جایا کرے۔ جہاں تک میری بساط ہو گی میں جواب دیا کروں گا ورنہ بہت لوگ محفل پر موجود ہیں۔ ---...
  7. کاشفی

    بشیر بدر سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے - بشیر بدر بھوپالی

    غزل (بشیر بدر بھوپالی) سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے باوضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے بُت بھی رکھے ہیں، نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں دل میرا دل...
  8. ن

    احباب درج ڈیل سوالات کے درست جوابات مطلوب ہیں۔

    سوال: ذیل میں سے کون سا جزو نحویات سے متعلق نہیں ؟ ⁠⁠⁠الف:ترکیب ب:جزو ج:جزومتصل د:صوت رکن سوال:مفروضہ کا تعلق کس سے ہے؟ الف:تنقید ب:تخلیق ج:تفسیر د:تحقیق سوال:کون سی شاخ اسلوبیات میں شامل نہیں؟ الف:صوتیات ب:مارفیمیات ج:معنیات د:سماجی لسانیات
  9. کاشفی

    لتا کسی نے اپنا بنا کے مجھ کو مُسکرانا سکھا دیا

    کسی نے اپنا بنا کے مجھ کو مُسکرانا سکھا دیا
  10. کاشفی

    لتا رنگ دل کی دھڑکن بھی لاتی تو ہوگی

    رنگ دل کی دھڑکن بھی لاتی تو ہوگی یاد میری اُن کو بھی آتی تو ہوگی فلم: پتنگ
  11. کاشفی

    گلزار پھولوں کی طرح لب کھول کبھی - سمپورن سنگھ کلرا، گلزار

    غزل ( سمپورن سنگھ کلرا، گلزار) پھولوں کی طرح لب کھول کبھی خوشبو کی زباں میں بول کبھی الفاظ پرکھتا رہتا ہے آواز ہماری تول کبھی انمول نہیں لیکن پھر بھی پوچھ تو مفت کا مول کبھی کھڑکی میں کٹی ہیں سب راتیں کچھ چورس تھیں کچھ گول کبھی یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی
  12. م

    غزل - جہان بنتا عدن تو کیسے؟ - منیب احمد

    نئی غزل پیش خدمت ہے۔ خوبیوں خامیوں پر روشنی ڈالیں۔ بہت شکریہ! :) گہن لگائے نہ رنگِ گل کو جمالِ سیمیں بدن تو کیسے؟ وہ سیم تن جب ہو عکس افگن سمن کو دیکھے چمن تو کیسے؟ نہ وہ سجاوٹ نہ جگمگاہٹ نہ تمتماہٹ نہ جھل جھلاہٹ ہمارے یاقوت لب کے آگے جو بولے لعلِ یمن تو کیسے؟ پتا وہ میرا ہی پوچھتا ہے گلی میں...
  13. کاشفی

    کوئی دستار سلامت نہ گریباں اب کے - محمود شام

    غزل (محمود شام - کراچی) کوئی دستار سلامت نہ گریباں اب کے کیسے آغاز ہوئی صبحِ بہاراں اب کے روز ملتا ہے نیا رقصِ جنوں دیکھنے کو فارغ اک لمحہ نہیں دیدہء حیراں اب کے وحشتیں توڑ کے ہر بند نکل آئی ہیں نادم انسان کی حرکت پہ ہے حیواں اب کے فیصلے زور سے اور جبر سے کرتے ہیں ہجوم یہ ہے سلطانی جمہور کا...
  14. کاشفی

    بیدار اِس خیال سے اب ہو رہا ہوں میں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) بیدار اِس خیال سے اب ہو رہا ہوں میں آنکھیں کھُلی ہیں لاکھ مگر سو رہا ہوں میں شاید مری طرح یہ نہیں واقفِ مآل گو پھُول ہنس رہے ہیں مگر رو رہا ہوں میں کیا ہو مآلِ سعی مجھے کچھ خبر نہیں کشتِ عمل میں بیج مگر بو رہا ہوں میں کرنی کی راہ اور ہے، بھرنی کی راہ اور...
  15. کاشفی

    فکر کی کون سی منزل سے گزرتا ہوں میں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) فکر کی کون سی منزل سے گزرتا ہوں میں اب تو اک شعر بھی کہتے ہوئے ڈرتا ہوں میں حوصلہ دل کا بڑھاتی ہے عزائم کی شکست خونِ جذبات سے کچھ اور نکھرتا ہوں میں کس کے پَرتو سے مری رُوح کو ملتا ہے جمال کس کی تہذیب کے صدقے میں سنورتا ہوں میں میری فن کار طبیعت کا یہ...
  16. کاشفی

    رُخ تو میری طرف سے پھیرے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) رُخ تو میری طرف سے پھیرے ہیں پھر بھی مدِّنظر وہ میرے ہیں جس طرف میں نگاہ کرتا ہوں کچھ اُجالے ہیں، کچھ اندھیرے ہیں آپ کی مُسکراہٹوں کے نثار پُھول چاروں طرف بکھیرے ہیں کروٹیں وقت کی انہیں کہیئے نہ ہیں شامیں نہ یہ سویرے ہیں میں ہوں اُن کے سلوک کا کشتہ جو...
  17. کاشفی

    رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں بیگانوں کا ذکر ہی کیا جب اپنے ہم سے چُھوٹ رہے ہیں اُن کی غیرت کو ہم روئیں یا روئیں اپنی قسمت کو جن کو بچایا تھا لُٹنے سے اب وہ ہم کو لُوٹ رہے ہیں ساقی تیری لغزشِ پیہم ختم نہ کر دے میخانے کو کتنے ساغر ٹُوٹ چکے...
  18. کاشفی

    ہم اِسے نعمتِ ہستی کا بدل کہتے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) ہم اِسے نعمتِ ہستی کا بدل کہتے ہیں عشق کو لوگ حماقت میں اجل کہتے ہیں اکبر آباد ہے قرطاسِ محبت کی زمیں ہم تو ہر اشک کو اک تاج محل کہتے ہیں وقت نے آج تک اِس راز کی تشریح نہ کی نام کِس کا ہے ابد، کِس کا ازل کہتے ہیں کوئی دیوانہ ہی زنجیر میں رہتا ہے اسیر عین...
  19. کاشفی

    تُو میرے ہر راز سے محرم - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) تُو میرے ہر راز سے محرم پھر بھی مجھ سے واقف کم کم سب کے لب پر تیرا نغمہ سب کے ہاتھ میں تیرا پرچم تجھ میں گنگا، تجھ میں جمنا تُو ہی تربینی کا سنگم اور نہیں کچھ خواہش میری دے دے بخشش میں اپنا غم موت آئی کس وقت منوّر ہر گھر میں ہے تیرا ماتم
  20. کاشفی

    سودا باتیں کِدھر گئیں وہ تِری بھولی بھالِیاں؟ - سودا

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی سودا) باتیں کِدھر گئیں وہ تِری بھولی بھالِیاں؟ دِل لے کے بولتا ہَے، جو اَب تو، یہ بولِیاں ہر بات ہَے لطیفہ و ہر یک سُخن ہَے رمز ہر آن ہَے کِنایہ و ہر دم ٹھٹھولِیاں حَیرت نے، اُس کو بند نہ کرنے دیں پِھر کبھو آنکھیں، جب آرسی نے، تِرے مُنہ پہ کھولِیاں کِس نے کیا...
Top