اردو

  1. کاشفی

    رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں بیگانوں کا ذکر ہی کیا جب اپنے ہم سے چُھوٹ رہے ہیں اُن کی غیرت کو ہم روئیں یا روئیں اپنی قسمت کو جن کو بچایا تھا لُٹنے سے اب وہ ہم کو لُوٹ رہے ہیں ساقی تیری لغزشِ پیہم ختم نہ کر دے میخانے کو کتنے ساغر ٹُوٹ چکے...
  2. کاشفی

    ہم اِسے نعمتِ ہستی کا بدل کہتے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) ہم اِسے نعمتِ ہستی کا بدل کہتے ہیں عشق کو لوگ حماقت میں اجل کہتے ہیں اکبر آباد ہے قرطاسِ محبت کی زمیں ہم تو ہر اشک کو اک تاج محل کہتے ہیں وقت نے آج تک اِس راز کی تشریح نہ کی نام کِس کا ہے ابد، کِس کا ازل کہتے ہیں کوئی دیوانہ ہی زنجیر میں رہتا ہے اسیر عین...
  3. کاشفی

    تُو میرے ہر راز سے محرم - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) تُو میرے ہر راز سے محرم پھر بھی مجھ سے واقف کم کم سب کے لب پر تیرا نغمہ سب کے ہاتھ میں تیرا پرچم تجھ میں گنگا، تجھ میں جمنا تُو ہی تربینی کا سنگم اور نہیں کچھ خواہش میری دے دے بخشش میں اپنا غم موت آئی کس وقت منوّر ہر گھر میں ہے تیرا ماتم
  4. کاشفی

    سودا باتیں کِدھر گئیں وہ تِری بھولی بھالِیاں؟ - سودا

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی سودا) باتیں کِدھر گئیں وہ تِری بھولی بھالِیاں؟ دِل لے کے بولتا ہَے، جو اَب تو، یہ بولِیاں ہر بات ہَے لطیفہ و ہر یک سُخن ہَے رمز ہر آن ہَے کِنایہ و ہر دم ٹھٹھولِیاں حَیرت نے، اُس کو بند نہ کرنے دیں پِھر کبھو آنکھیں، جب آرسی نے، تِرے مُنہ پہ کھولِیاں کِس نے کیا...
  5. کاشفی

    سودا چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا - سوداؔ

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی متخلص بہ سوداؔ) چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کُچھ مَیں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اُس کے لیے یاں خراب دیکھا بے جُرم و گناہ، قتلِ عاشِق مذہب میں تِرے ثواب دیکھا جِس چشم نے مُجھ طرف نظر کی اُس چشم کو میں پُرآب دیکھا بھوَلا ہے وہ دِل سے لُطف اُس کے...
  6. کاشفی

    انساں ہوں گھِر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں - خاطر غزنوی

    غزل (خاطر غزنوی) انساں ہوں گھِر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں اب بستیاں بساؤں گا جا کر خلاؤں میں یادوں کے نقش کندہ ہیں ناموں کے روپ میں ہم نے بھی دن گزارے درختوں کی چھاؤں میں دوڑا رگوں میں خوں کی طرح شور شہر کا خاموشیوں نے چھین لیا چین گاؤں کا یوں تو رواں ہیں میرے تعاقب میں منزلیں لیکن میں...
  7. کاشفی

    کہا گیا تھا یہ وطن بنا ہے سب کے واسطے - حمایت علی شاعر

    کہا گیا تھا یہ وطن بنا ہے سب کے واسطے اردو نظمیں اور غزلیں (حمایت علی شاعر)
  8. کاشفی

    بدن پہ پیرہنِ خاک کے سوا کیا ہے - حمایت علی شاعر

    غزل (حمایت علی شاعر) بدن پہ پیرہنِ خاک کے سوا کیا ہے مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے یہ شہرِ سجدہ گزاراں دیارِ کم نظراں یتیم خانہء اداک کے سوا کیا ہے تمام گنبد و مینار و منبر و محراب فقیہِ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے کھلے سروں کا مقدر بہ فیض جہلِ خرد فریب سایہء افلاک کے سوا کیا ہے یہ میرا...
  9. کاشفی

    اک جبرِ وقت ہے کہ سہے جارہے ہیں ہم - حمایت علی شاعر

    غزل (حمایت علی شاعر - کراچی) اک جبرِ وقت ہے کہ سہے جارہے ہیں ہم اور اس کو زندگی بھی کہے جارہے ہیں ہم
  10. کاشفی

    لتا اِن ہی لوگوں نے لے لینا دوپٹہ میرا

    اِن ہی لوگوں نے لے لینا دوپٹہ میرا فلم: پاکیزہ (1972) گلوکار: لتا منگیشکر موسیقی: غلام محمد نغمہ نِگار:مجروح سُلطانپوری
  11. کاشفی

    لتا یہ کون آیا روشن ہوگئی محفل کس کے نام سے

    یہ کون آیا روشن ہوگئی محفل کس کے نام سے
  12. کاشفی

    رفیع جب جب بہار آئی اور پھول مسکرائے مُجھے تم یاد آئے

    جب جب بہار آئی اور پھول مسکرائے، مُجھے تم یاد آئے
  13. کاشفی

    لتا دھیرے دھیرے مچل اے دلِ بیقرار

    دھیرے دھیرے مچل اے دلِ بیقرار
  14. کاشفی

    پھول بننا کسی گلشن میں مہکتے رہنا - ڈاکٹر نسیم نکہت لکھنوی

    غزل (ڈاکٹر نسیم نکہت لکھنوی) پھول بننا کسی گلشن میں مہکتے رہنا پھر بھی کانٹوں کی نگاہوں میں کھٹکتے رہنا میری قسمت میں نہ سورج نہ ستارا نہ دِیا جگنوؤں تم میرے آنگن میں چمکتے رہنا باندھ کر ہاتھ میرے رسموں کی زنجیروں سے چوڑیوں سے یہ تقاضہ ہے کھنکتے رہنا داستانوں سی وہ بھیگی ہوئی بوڑھی آنکھیں وہ...
  15. کاشفی

    لتا تم ہی میرے مندر، تم ہی میری پوجا، تم ہی دیوتا ہو

    تم ہی میرے مندر، تم ہی میری پوجا، تم ہی دیوتا ہو
  16. کاشفی

    ریشمی شلوار کُرتا جالی کا

    ریشمی شلوار کُرتا جالی کا
  17. کاشفی

    چھپنے والا سامنے آ

    چھپنے والے سامنے آ
  18. کاشفی

    اک دامن میں پھول بھرے ہیں، اک دامن میں آگ ہی آگ - شو رتن لال برق پونچھوی

    غزل (شو رتن لال برق پونچھوی) اک دامن میں پھول بھرے ہیں، اک دامن میں آگ ہی آگ یہ ہے اپنی اپنی قسمت، یہ ہیں اپنے اپنے بھاگ راہ کٹھن ہے، دور ہے منزل، وقت بچا ہے تھوڑا سا اب تو سورج آگیا سر پر، سونے والے اب تو جاگ پیری میں تو یہ سب باتیں زاہد اچھی لگتی ہیں ذکر عبادت بھری جوانی میں، جیسے بےوقت کا...
  19. کاشفی

    جب ترا آسرا نہیں ملتا - شو رتن لال برق پونچھوی

    غزل (شو رتن لال برق پونچھوی) جب ترا آسرا نہیں ملتا کوئی بھی راستا نہیں ملتا اپنا اپنا نصیب ہے پیارے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ملتا تو نے ڈُھونڈا نہیں تہ دل سے ورنہ کس جا خدا نہیں ملتا لوگ ملتے ہیں پھر بچھڑتے ہیں کوئی درد آشنا نہیں ملتا ساری دنیا کی ہے خبر مجھ کو صرف اپنا پتا نہیں ملتا حسرتیں...
  20. کاشفی

    نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے - شو رتن لال برق پونچھوی

    غزل (شو رتن لال برق پونچھوی) نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے مجھے منزل عطا کی گمرہی نے بنا ڈالا زمانے بھر کو دشمن فقط اک اجنبی کی دوستی نے وہ کیوں محتاج ہو شمس و قمر کا جلا بخشی ہو جس کو تیرگی نے بدن کانٹوں سے کر ڈالا ہے چھلنی ہمارا گُل رُخوں کی دوستی نے بدل ڈالا مذاق گُل پرستی چمن میں ادھ کھلی...
Top