رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 20, 2017

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی)
    رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں
    بیگانوں کا ذکر ہی کیا جب اپنے ہم سے چُھوٹ رہے ہیں

    اُن کی غیرت کو ہم روئیں یا روئیں اپنی قسمت کو
    جن کو بچایا تھا لُٹنے سے اب وہ ہم کو لُوٹ رہے ہیں

    ساقی تیری لغزشِ پیہم ختم نہ کر دے میخانے کو
    کتنے ساغر ٹُوٹ چکے ہیں، کتنے ساغر ٹُوٹ رہے ہیں

    ابن الوقتوں کا کیا کہنا انکی ہمیشہ سے چاندی ہے
    پہلے بھی تھا عیش میسّر، اب بھی مزے یہ لُوٹ رہے ہیں

    ترکِ تعلّق کی ساعت بھی آج منوّر آ پہنچی ہے
    دُنیا ہم سے چُھوٹ رہی ہے، ہم دُنیا سے چُھوٹ رہے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. کمورا شہباز

    کمورا شہباز محفلین

    مراسلے:
    181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت اچھی غزل ہے بلکہ ہمارے حالات کا قضیہ ہی سمجھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ غزل کی پسندیدگی کے لیئے۔۔خوش رہیئے۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر