نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ابن انشا بھارت اور پاکستان - از: ابن انشاء

    بھارت تحریر: ابن انشاء یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہیں پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں...
  2. کاشفی

    غالب کے انتقال کی پہلی خبر - اکمل الاخبار - دہلی

    غالب کے انتقال کی پہلی خبر (اکمل الاخبار، دہلی - 17 فروری 1869) مرزا غالب کے انتقال کی خبر سب سے پہلے دہلی کے اکمل الاخبار میں شائع ہوئی تھی اور پھر سارے ملک میں پھیل گئی تھی۔۔۔یہ خبر غالب کے انتقال کی بھی تھی اور ان کے حضور خراجِ عقیدت بھی ! ذیل میں یہ پوری خبر مع عنوان دی جارہی ہے۔۔۔۔اس...
  3. کاشفی

    نعتِ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - از: خلیل یوسف صدیقی

    نعتِ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (از: خلیل یوسف صدیقی) پیئوں تو عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میکدے کی پیئوں چلوں جو سوئے مدینہ تو پا پیادہ چلوں جیئوں تو صورتِ سنگِ درِ حبیب رہوں مروں تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کی آرزو میں مروں یہی تو بات ضمانت ہے، سرفرازی کی...
  4. کاشفی

    درد دونوں جہاں کو روشن کرتا ہے نور تیرا - خواجہ میر درد

    حمد باریء تعالی سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم دونوں جہاں کو روشن کرتا ہے نور تیرا اعیان ہیں مظاہر، ظاہر ظہور تیرا یاں افتقار کا تو امکاں سبب ہوا ہے ہم ہوں نہ ہوں ولے ہے ہونا ضرور تیرا باہر نہ ہوسکی تو قیدِ خودی سے اپنی اے عقل بے حقیقت دیکھا شعور تیرا ہے جلوہ گاہ تیرا کیا...
  5. کاشفی

    درد مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا - خواجہ میر درد

    حمد باریء تعالی سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا حقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا جس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دَیر و حَرم کا ہے خوف اگر جی میں...
  6. کاشفی

    یاس جلوہء قاتل سے کچھ ایسا میں حیراں رہ گیا - یاس لکھنوی

    غزل (مرزا واجد حسین یاس لکھنوی) جلوہء قاتل سے کچھ ایسا میں حیراں رہ گیا اک تڑپنے کا تھا ارماں وہ بھی ارماں رہ گیا شکر ہے لاشہ مرا مقتل میں عریاں رہ گیا مرحبا اے عشق تیرے ہاتھ میداں رہ گیا رازِ اُلفت داغ بن کر دل میں پنہاں رہ گیا آہ تک میں نے نہ کی گھٹ گھٹ کے ارماں رہ گیا تجھ سے...
  7. کاشفی

    الحمد اللہ - ابوالفاضل راز چاند پوری

    الحمد اللہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم سحر کو مطلعِ مشرق سے جب سورج نکلتا ہے اُفق سے نورِ بے پایاں کا اک چشمہ اُبلتا ہے چمن میں سبزہء خوابیدہ بھی کروٹ بدلتا ہے ہر اک غنچہ چٹکنے کے لئے پیہم مچلتا ہے تری رحمت سے دَورِ بادہء گلرنگ چلتا ہے جمال شام جب رنگِ شفق بن کر نکھرتا ہے...
  8. کاشفی

    زندہ عورت کا جنازہ تھا - روبیہ مہدی

    زندہ عورت کا جنازہ تھا (روبیہ مہدی - ڈنمارک) بن آنسو بہائے، بے نہلائے، بے کفنائے گاڑ آئے! یہ کیسا جنازہ تھا آخر؟ بے بین کئے، بے رحم کئے! بے کرم کئے، بے شرم کئے! بے سوچ کئے، بے فکر کئے! بے سمجھ کئے، بے ذکر کئے! بن نام لئے، بن آنسو بہائے، بے نہلائے، بے کفنائے، گاڑ آئے! کوئی چیخا، نہ...
  9. کاشفی

    جگر سراپا - جگر مراد آبادی

    سراپا (جگر مراد آبادی) وہ حسنِ کافر اللہ اکبر تخریبِ دوراں، آشورِ محشر وہ قدِ رعنا، وہ روئے رنگیں عالم ہی عالم، منظر ہی منظر گیسو و عارض، شانہ بہ شانہ شام معطر، صبحِ منور شرمائیں جن سے ساون کی راتیں وہ حلقہ ہائے زلف معنبر وہ مست نظریں جب اُٹھ گئی ہیں ٹکرا گئے ہیں ساغر سے...
  10. کاشفی

    کچھ زباں سے بھی بولئے صاحب - رشی پال دِھمن رشی

    غزل (رشی پال دِھمن رشی) کچھ زباں سے بھی بولئے صاحب یوں نہ نظروں سے تولئے صاحب آپ شانہ پہ رولئے صاحب ہم نے تکیے بھگو لئے صاحب پیار ہی دے رہا نہ ہو دستک دل کے دروازے کھولئے صاحب من ہے ہلکا سا، درد کم سا ہے جب سے جی بھر کے رو لئے صاحب ناگ بن جائیں گے کسی دن بھی خواہشوں کے سنپو...
  11. کاشفی

    حصارِ ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں - راج کمار قیس

    غزل حصارِ ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں تری صفات کو سمجھوں تو تجھ سے بات کروں تو کوہسار میں، وادی میں، دشت و صحرا میں میں تجھ کو ڈھونڈ نکالوں تو تجھ سے بات کروں! تو شاخ شاخ پہ بیٹھا ہے، پھول کی صورت، میں خار خار سے اُلجھوں تو تجھ سے بات کروں! ترے اشاروں سے بڑھ کر ترا بیاں مبہم...
  12. کاشفی

    ابھی آزادیء کامل کہاں ہے - ضیاء الحسن رضوی

    غزل (ضیاء الحسن رضوی) ابھی آزادیء کامل کہاں ہے سکون دل ابھی حاصل کہاں ہے ابھی انساں کا ہے انساں دشمن ابھی دل درد کا حامل کہاں ہے خزاں کو فصل گل سمجھا ہے ناداں‌ کہاں ہے تو ارے غافل کہاں ہے؟ تڑپ اٹھے مصیبت پر کسی کی زمانے میں اب ایسا دل کہاں ہے نہ اب وہ لوگ ہیں نہ پچھلی باتیں...
  13. کاشفی

    قرار مانگتی ہیں، اعتبار مانگتی ہیں - نیہا زیدی

    غزل (نیہا زیدی - کراچی پاکستان) قرار مانگتی ہیں، اعتبار مانگتی ہیں وفائیں میری یہ کیا اختیار مانگتی ہیں ہوائے سرد سے دل کے چراغ بجھ بھی گئے یہ آنکھیں پھر بھی ترا انتظار مانگتی ہیں دکھوں کی بھیڑ میں شامل تری جدائی ہے یہ راہیں پیار کی کیوں وصل یار مانگتی ہیں بھلانا تم کو تو اب اپنی...
  14. کاشفی

    اللہ ھو ۔ اللہ ھو ۔ اللہ ھو ۔ اللہ ھو ۔ رحمت الٰہی برق اعظمی

    حمد باریء تعالیٰ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مالک دو جہاں، خالق رنگ و بو تیرے جلوے ہیں بکھرے ہوئے چار سو جس طرف دیکھئے ہے اُدھر تو ہی تو نغمہ زن کیوں نہ ہو بلبل خوش گلو اللہ ھو ۔ اللہ ھو ۔ اللہ ھو ۔ اللہ ھو ہیں تیری صنعتیں اس قدر دل نشیں محو حیرت ہیں سب آسماں و زمیں...
  15. کاشفی

    نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم - بقا بلوچ

    نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم (بقا بلوچ) اے بقا چارہّ درد کیا چاہیئے شہرِ خیرالوریٰ کی ہوا چاہیئے خاکِ بطحا پہ سجدے کی ہے آرزو! کوئے طیبہ میں‌ رہنے کو جا چاہیئے میں کہاں اور کہاں مدحِ شمس الضحیٰ میرے لفظوں کو ان کی ضیاء چاہیئے ذکرِ سرکار ہو میرے وردِ زباں بس یہی دولتِ دو...
  16. کاشفی

    قطعات - یاسر شاہ

    قطعات یاسر شاہ کاٹے نہیں‌کٹتی ہیں بَرہ کی گھڑیاں تھامے نہیں‌تھمتیں اشکوں کی لڑیاں در عشق کجا شاہ کجا مہر علی گستاخ اکھیاں اے وی کتھے جا لڑیاں ------------------------------------------------------------------ میرے اندر مجھ سے مخاطب ہے کوئی مجھ میں‌گویا مرا طالب ہے کوئی چھانی جب...
  17. کاشفی

    اُس کی آنکھوں نے کہی کیسی کہانی مجھ سے - نیہا زیدی

    غزل (نیہا زیدی - کراچی پاکستان) اُس کی آنکھوں نے کہی کیسی کہانی مجھ سے رات بھر روٹھی رہی نیند کی رانی مجھ سے موسمِ ہجر میں ممکن ہے میری یاد آئے آج تم لے لو کوئی تازہ نشانی مجھ سے کیا کوئی سوچنا اور کیا کوئی شجرہ پڑھنا اُس کے بارے میں سنو بات! زبانی مجھ سے سامنے اُس کے میں خاموش...
  18. کاشفی

    دُنیا کو ملا چین، مجھے رنج ملا ہے - زرقا مفتی

    غزل (زرقا مفتی) دُنیا کو ملا چین، مجھے رنج ملا ہے ہر اشکِ تمنا کا لہو رنگ ہوا ہے آلام کی کثرت کا گلہ جب بھی کیا ہے اعمال کے نامے میں ہوئی درج خطا ہے فردا کے دلاسے پہ فقط میں ہی رہوں کیوں امروز کی راحت پہ بھی کچھ حق تو مرا ہے یہ لوگ کسی حال میں‌‌ خوش ہو نہیں سکتے بے فیض زمانے سے...
  19. کاشفی

    سمندر پار آبیٹھے، مگر کیا - عبداللہ جاوید

    غزل (عبداللہ جاوید) سمندر پار آبیٹھے، مگر کیا نئے ملکوں میں بن جاتے ہیں گھر کیا نئے ملکوں میں لگتا ہے نیا سب زمیں کیا، آسماں کیا، اور شجر کیا اُدھر کے لوگ کیا کیا سوچتے ہیں اِدھر بستے ہیں خوابوں کے نگر کیا ہر اک رستے پہ چل کر سوچتے ہیں یہ رستہ جارہا ہے اپنے گھر کیا کبھی...
  20. کاشفی

    تمہید - آصفہ نشاط

    تمہید (آصفہ نشاط) سنو تم نے کبھی مجھ سے میری تصویر مانگی تھی کہا تھا تم اسے چھو چھو کے دیکھو گے یا آنکھوں سے لگاؤ گے اسے گھر میں بساؤ گے اگر وہ مسکرائے گی تم بھی مسکراؤ گے سنو تم نے کبھی مجھ سے میری تصویر مانگی تھی مگر میں سوچتی ہوں اب بجائے سب یہ کہنے کے بہت آسان سا اک کام تم نے...
Top