نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اے وطن - فرخندہ رضوی

    اے وطن (فرخندہ رضوی) تیرے خوابوں تیری یادوں کو مٹا سکتے نہیں اے وطن ہر گز بھی ہم تجھ کو بھلا سکتے نہیں ساری دنیا میں تیری تعظیم کا کہرام ہے تیرے گُن گانا میری تہذیب کا پیغام ہے تو زمانے بھر کی دولت سے بڑا انعام ہے تُو ہے اجلی صبح اپنی تو ہی رنگین شام ہے تیر ے ہو کر تجھ سے ہم نظر...
  2. کاشفی

    تا قیامت رہے قائم یہ مرا پاکستان - اشتیاق زین

    تا قیامت رہے قائم یہ مرا پاکستان (اشتیاق زین) ”تا قیامت رہے قائم یہ مرا پاکستان“ اس کے ہونے سے ہے مشروط مری آن اور شان تا قیامت رہے قائم یہ مرا پاکستان یہ ہے اقبال کا سپنا، یہ ہے ماؤں کی دعا یہ ہے قائد کی شب و روز کی محنت کا صلہ اِس کی بنیاد میں شامل ہے شہیدوں کی وفا اِس کی تقدیس پہ...
  3. کاشفی

    محسن نقوی علی علیہ السلام کی بیٹی - مُحسن نقوی شہید

    علی علیہ السلام کی بیٹی قدم قدم پر چراغ ایسے جلا گئی ہے علی علیہ السلام کی بیٹی یزیدیت کی ہر ایک سازش پہ چھا گئی ہے علی علیہ السلام کی بیٹی کہیں بھی ایوانِ ظلم تعمیر ہو سکے گا نہ اب جہاں میں ستم کی بنیاد اس طرح سے ہلا گئی ہے علی علیہ السلام کی بیٹی عجب مسیحا مزاج خاتون تھی کہ لفظوں کے...
  4. کاشفی

    زندگي نامہ حضرت امام حسين عليہ السلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ”لاالہ الااللہ محمد حبیب اللہ علی ولی اللہ وفاطمتہ امتہ اللہ والحسن والحسین صفوتہ اللہ ومن ابغضہم لعنہ اللہ“ خداکے سواکوئی...
  5. کاشفی

    جیتے ہیں یہ ہم کہ مر گئے ہیں - سید عالم محمود

    غزل (سید عالم محمود) جیتے ہیں یہ ہم کہ مر گئے ہیں اچھے رہے جو گزر گئے ہیں جینے کا مزا انہیں سے پوچھو مرنے سے جو پہلےمرگئے ہیں مدہوش ہیں یہ زمانے والے یا ہوش سے ہم گزر گئے ہیں اکثر یہ ہوا ہے بیٹھے بیٹھے ہم چونک گئے ہیں ڈر گئے ہیں کل ہی تو حضور میرے آگے دم غیر کا آپ بھر گئے...
  6. کاشفی

    میری جانب نہ دیکھو بے رخی سے - سارا جبیں

    غزل (سارا جبیں) میری جانب نہ دیکھو بے رخی سے خطا ہوتی ہے صاحب آدمی سے گھٹا ساون کی جب برسے گی ساجن مچل جائے گا دل دیوانگی سے سلگ جائیں گے یادوں کے دیئے سب وہ آجائیں جو خوابوں میں‌ خوشی سے خطا میری جو میں نے دل گنوایا ادا اُس کی جو پایا دل لگی سے اٹھیں پلکیں لیئے حسرت کے...
  7. کاشفی

    اختر شیرانی ہم دُعائیں کرتے ہیں جن کے لئے - اختر شیرانی

    غزل (اختر شیرانی) ہم دُعائیں کرتے ہیں جن کے لئے کاش وہ مِل جائیں اِک دن کے لئے میرے ارمانوں سے کہتی ہے اجل اِس قدر سامان ، دو دِن کے لئے وہ غیُور اور پاسِ رُسوائی ہمیں کیا بتائیں مر مٹے کِن کے لئے موت لینے آ گئی ، جانا پڑا زندگی لائی تھی اِس دن کے لئے اُن کی صحبت کا تصوّر...
  8. کاشفی

    حضرت اُم رومان رضی اللہ عنہا

    حضرت اُم رومان رضی اللہ عنہا سن 9 ہجری میں رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی خاتون کی وفات کی خبر ملی جو شمع رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر پروانہ وار فدا تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر سخت حزن و ملال کے عالم میں ان کے جنازے پر تشریف لے گئے۔ خود قبر میں اتارا اور ان کو حور...
  9. کاشفی

    رسول خدا کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا

    بسم اللہ الرحمن الرحیم سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول خدا کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا وہب اپنی شریک حیات کے پاس گئے اور کہا : ''آج عبدالمطلب کے سجیلے بیٹے عبداللہ علیہ السلام نے ایسے...
  10. کاشفی

    اُردو غزل - ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

    اُردو غزل (ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی) سوز و ساز عشق کا اظہار ہے اُردو غزل انبساط و کیف سے سرشار ہے اُردو غزل ترجمان کوچہ و بازار ہے اُردو غزل مظہر رنج و غم و آزار ہے اُردو غزل ہے "حدیث دلبری" بھی اور تفسیر حیات سربسر گنجینہء افکار ہے اُردو غزل درحقیقت ہے یہ "اُردو شاعری کی آبرو"...
  11. کاشفی

    جائیں تو کہاں اب جائیں ہم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے - ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

    غزل (ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی) جائیں تو کہاں اب جائیں ہم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ہوتا نہیں وہ مائل بہ کرم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے سب وعدہ شکن ہوتے ہیں صنم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے سہتے ہی رہے ہم اُن کے ستم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے چبھتے رہے دل میں...
  12. کاشفی

    میں تو اِک دائمی سفر میں ہوں - اویس ضمیر

    غزل (اویس ضمیر) جب تلک پیکرِ بشر میں ہوں منقسم قدرِ خیر و شر میں ہوں در بدر ٹھوکریں میں کھا کر بھی دیکھ تیری ہی رہ گذر میں ہوں شعلہ بھڑکے تو روشنی مجھ سے راکھ کا ڈھیر ہو، شرر میں‌ ہوں کچھ یقیناً نشے میں بک بیٹھا اب کھٹکتا جو ہر نظر میں ہوں کھویا کھویا سا میں جو رہتا ہوں...
  13. کاشفی

    خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور ہم مناتے ہیں ‌جشنِ آزادی - اسماعیل اعجاز (خیال)

    جشنِ آزادی 2009 اسماعیل اعجاز (خیال) - کراچی پاکستان خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور عزتیں دیکھو لٹ رہی ہیں اور کرب میں سسکیاں دبی ہیں اور ہم مناتے ہیں‌جشنِ آزادی چاک دامن گریباں ہے سینے کو تشنگی میں ہیں اشک پینے کو زندگی لڑ رہی ہے جینے کو ہم مناتے ہیں جشنِ آزادی اپنے ہی ملک میں...
  14. کاشفی

    مصحفی جان سے تا وہ مجھے مار نہیں جانے کا - غلام ہمدانی مصحفی

    غزل (غلام ہمدانی مصحفی) جان سے تا وہ مجھے مار نہیں جانے کا جان جاوے گی ولے یار نہیں جانے کا بعد مُردن جو رہیں گے یونہیں وَادِیدہء شوق المِ حسرت دیدار نہیں جانے کا مرضِ عشق کی شاید ہو پسِ مرگ، شفا زندگی میں تو یہ آزار نہیں جانے کا رحم کر ضعف پر اُس کے کہ چمن تک صیاد نالہء مرغِ...
  15. کاشفی

    کتنی مہنگی چیز تھی دُنیا، کتنی سَستی چھوڑ چلے - قیصر الجعفری

    کتنی مہنگی چیز تھی دُنیا، کتنی سَستی چھوڑ چلے (قیصر الجعفری) دل کی آگ کہاں لے جاتے، جلتی بُجھتی چھوڑ چلے بنجاروں سے ڈرنے والو! لو ہم بستی چھوڑ چلے آگے آگے چیخ رہا ہے صحرا کا اک زرد سفر دریا جانے، ساحل جانے، ہم تو کشتی چھوڑ چلے مٹی کے انبار کے نیچے ڈوب گیا مُستقبل بھی دیواروں نے...
  16. کاشفی

    سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے - پروفیسر شہریار

    تعارف شاعر: پروفیسر شہریار - اصل نام کُنور اخلاق محمد خان۔ جون 1936 کو آنولہ ، ضلع بریلی ، اُتر پردیش میں پیدا ہُوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948 میں علی گڑھ آئے ۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966 میں لیکچرر ہوئے۔ 1996 میں پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔...
  17. کاشفی

    وفا، اخلاص، ممتا، بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے - عادل رشید

    غزل (عادل رشید) وفا، اخلاص، ممتا، بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے ترقی کے لیے انسان کیا کیا چھوڑ دیتا ہے تڑپنے کے لیے دن بھر کو پیاسا چھوڑ دیتا ہے اذاں ہوتے ہی وہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے سفر میں زندگی کے لوگ ملتے ہیں بچھڑتے ہیں کسی کے واسطے کیا کوئی جینا چھوڑ دیتا ہے کسی کو یہ جنوں...
  18. کاشفی

    زمانہ کی ادا ہے کافرانہ - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) زمانہ کی ادا ہے کافرانہ جُدا میرا ہے طرزِ عاشقانہ ترا ذوقِ طلب نا محرمانہ نہ آہِ صبح، نے سوزِ شبانہ شباب و شعر و صہبائے محبت بہت یاد آئے ہے گذرا زمانہ "چہ نسبت خاک رابا عالم پاک" کہاں میں اور کہاں وہ آستانہ بہت نازک ہے ہر شاخ تمنا بنائیں ہم کہاں پھر...
  19. کاشفی

    کہیں اِک معصوم نازک سی لڑکی - کمال امروہوی

    کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی بہت خوبصورت مگر سانولی سی مجھے اپنے خوابوں کی بانہوں میں پاکر کبھی نیند میں مسکراتی تو ہوگی اُسی نیند میں کسمسا کسمسا کر سرہانے سے تکیے گراتی تو ہوگی کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی بہت خوبصورت مگر سانولی سی وہی خواب دن کے منڈیروں پہ آکے اُسے مَن ہی مَن میں...
  20. کاشفی

    آپ اور آپ کی خوشی صاحب - عائشہ انمول

    " آپ اور آپ کی خوشی صاحب " ۔ ۔ بات بے بات برہمی صاحب ہم سے کوئی خطا ہوئی صاحب ؟ مجھ کو بھائے نہ دشمنی صاحب میرا مسلک ہے دوستی صاحب ! میں نے سچ بولنے کی جراءت کی بات سب کو لگی بری صاحب چلو مانا ! قصور میرا ہے آپ اچھے ہیں ، میں بُری صاحب کیوں پریشان اِس قدر ہیں آپ ؟ کوئی...
Top