زندگي نامہ حضرت امام حسين عليہ السلام

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

کاشفی

محفلین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم
اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم


لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ
”لاالہ الااللہ محمد حبیب اللہ علی ولی اللہ وفاطمتہ امتہ اللہ والحسن والحسین صفوتہ اللہ ومن ابغضہم لعنہ اللہ“

خداکے سواکوئی معبودنہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں علی علیہ السلام ، اللہ کے ولی ہیں ۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا اللہ کی کنیز ہیں، حسن علیہ السلام اورحسین علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ ہیں اوران سے بغض رکھنے والوں پراللہ کی لعنت ہے۔

السلام علیک یاابا عبداللہ الحسین علیہ السلام


زندگي نامہ حضرت امام حسين عليہ السلام

آپ علیہ السلام کی ولادت

ابھی آپ علیہ السلام کی ولادت نہ ہونے پائی تھی کہ بروایتی ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کاایک ٹکڑا کاٹ کرمیری آغوش میں رکھا گیا ہے اس خواب سے وہ بہت گھبرائیں اوردوڑی ہوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض پرداز ہوئیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج ایک بہت برا خواب دیکھا ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب سن کرمسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ خواب تونہایت ہی عمدہ ہے۔ اے ام الفضل رضی اللہ عنہا خواب کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہو گا جو تمہاری آغوش میں پرورش پائے گا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد فرمانے کوتھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ نورنظررسول صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین علیہ السلام بتاریخ ۳/ شعبان ۴ ء ہجری بمقام مدینہ منورہ بطن مادرسے آغوش مادرمیں آ گئے۔

ام الفضل رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں حسب الحکم ان کی خدمت کرتی رہی، ایک دن میں بچے کولے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغوش محبت میں لے کر پیارکیا اور آپ رونے لگے میں نے سبب دریافت کیا توفرمایا کہ ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے وہ بتلاگئے ہیں کہ یہ بچہ امت کے ہاتھوں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہید ہوگا اور اے ام الفضل رضی اللہ عنہا وہ مجھے اس کی قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دے گئے ہیں۔

اورمسن امام رضا ص ۳۸ میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا دیکھو یہ واقعہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے کوئی نہ بتلائے ورنہ وہ سخت پریشان ہوں گی، ملا جامی لکھتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھراس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے سرمبارک کے بال بکھرے ہوئے تھے اورچہرے پرگرد پڑی ہوئی تھی ، میں نے اس پریشانی کودیکھ کرپوچھا کیا بات ہے فرمایا مجھے ابھی ابھی جبرئیل عراق کے مقام کربلامیں لے گئے تھے وہاں میں نے جائے قتل حسین علیہ السلام دیکھی ہے اوریہ مٹی لایا ہوں اے ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسے اپنے پاس محفوظ رکھو جب یہ سرخ ہوجائے توسمجھنا کہ میرا حسین علیہ السلام شہید ہوگیا۔


خداوند عالم کی طرف سے ولادت امام حسین علیہ السلام کی تہنیت اور تعزیت

علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطراز ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے بعد خلاق عالم نے جبرئیل کوحکم دیاکہ زمین پرجاکرمیرے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کومیری طرف سے حسین علیہ السلام کی ولادت پرمبارک باد دے دو اورساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی مطلع کرکے تعزیت ادا کردو، جناب جبرئیل علیہ السلام بحکم رب جلیل زمین پر وارد ہوئے اورانہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہادت حسینی کی تعزیت بھی منجانب اللہ اداکی جاتی ہے، یہ سن کرسرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ماتھا ٹھنکا اورآپ نے پوچھا، جبرئیل علیہ السلام ماجرا کیا ہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی کہ مولا صلی اللہ علیہ وسلم ایک وہ دن ہوگا جس دن آپ کے چہیتے فرزند”حسین علیہ السلام “ کے گلوئے مبارک پرخنجر آبدار رکھا جائے گا اورآپ کا یہ نورنظر بے یار و مددگار میدان کربلامیں یکہ و تنہا تین دن کا بھوکا پیاسا شہید ہوگا یہ سن کرسرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم محو گریہ ہوگئے آپ کے رونے کی خبرجونہی امیرالمومنین علیہ السلام کوپہنچی وہ بھی رونے لگے اورعالم گریہ میں داخل خانہ سیدہ سلام اللہ علیہا ہوگئے ۔

جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے جوحضرت علی علیہ السلام کوروتا دیکھا دل بے چین ہوگیا، عرض کی ابوالحسن رونے کاسبب کیا ہے فرمایا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں اوروہ حسین علیہ السلام کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبردے گئے ہیں حالات سے باخبر ہونے کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گریہ گلوگیر ہوگیا، آپ سلام اللہ علیہا نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کی باباجان یہ کب ہوگا، فرمایا جب میں نہ ہوں گا نہ تو سلام اللہ علیہا ہوگی نہ علی علیہ السلام ہوں گے نہ حسن علیہ السلام ہوں گے فاطمہ سلام اللہ علیہا نے پوچھا بابا میرابچہ کس خطا پرشہید ہوگا فرمایا فاطمہ سلام اللہ علیہا بالکل بے جرم وخطا صرف اسلام کی حمایت میں شہادت ہوگی۔


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
(بشکریہ: اسلامی جمہوریہ ایران)
 

کاشفی

محفلین
امام حسین علیہ السلام

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

آپ علیہ السلام کااسم گرامی

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور اپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا، اس کے بعد داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے خیرفرما کر حسین علیہ السلام نام رکھاہے۔

علماء کابیان ہے کہ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کا بھی نہیں تھا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نام خود خداوندعالم کا رکھا ہوا ہے ۔

کتاب اعلام الوری طبرسی میں ہے کہ یہ نام بھی دیگرآئمہ کے ناموں کی طرح لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔


آپ علیہ السلام کا عقیقہ

امام حسین علیہ السلام کانام رکھنے کے بعد سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا کہ بیٹی جس طرح حسن علیہ السلام کا عقیقہ کیا گیا ہے اسی طرح اس کے عقیقہ کا بھی انتظام کرو، اور اسی طرح بالوں کے ہم وزن چاندی تصدق کرو، جس طرح اس کے بھائی حسن علیہ السلام کے لیے کرچکی ہو، الغرض ایک مینڈھا منگوایا گیا اور رسم عقیقہ ادا کردی گئی ۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

کنیت و القاب

آپ علیہ السلام کی کنیت صرف ابوعبداللہ تھی، البتہ القاب آپ کے بے شمارہیں جن میں سید وصبط اصغر ، شہیداکبر ، اورسیدالشہداء زیادہ مشہورہیں۔ علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ سبط اور سید خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معین کردہ القاب ہیں ۔

فطرس کا واقعہ

علامہ مذکور رقمطراز ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تہنیت کے سلسلہ میں جناب جبرئیل علیہ السلام بے شمارفرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف آرہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظر زمین کے ایک غیرمعروف طبقہ پرپڑی دیکھا کہ ایک فرشتہ زمین پر پڑا ہوا زاروقطار رو رہا ہے آپ اس کے قریب گئے اورآپ علیہ السلام نے اس سے ماجرا پوچھا اس نے کہا اے جبرئیل علیہ السلام میں وہی فرشتہ ہوں جوپہلے آسمان پرستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرتا تھا میرا نام فطرس ہے جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا تجھے کس جرم کی یہ سزاملی ہے اس نے عرض کی ،مرضی معبود کے سمجھنے میں ایک پل کی دیرکی تھی جس کی یہ سزابھگت رہا ہوں بال وپرجل گئے ہیں یہاں کنج تنہائی میں پڑاہوں ۔

ائے جبرئیل علیہ السلام خدارا میری کچھ مدد کرو ابھی جبرئیل علیہ السلام جواب نہ دینے پائے تھے کہ اس نے سوال کیا ائے روح الامین علیہ السلام آپ کہاں جا رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کا نام حسین علیہ السلام ہے میں خدا کی طرف سے اس کی ادائے تہنیت کے لیے جا رہا ہوں، فطرس نے عرض کی اے جبرئیل علیہ السلام خدا کے لیے مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلو مجھے اسی درسے شفا اورنجات مل سکتی ہے جبرئیل علیہ السلام اسے ساتھ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب کہ امام حسین علیہ السلام آغوش رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جلوہ فرما تھے جبرئیل علیہ السلام نے عرض حال کیا، سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فطرس کے جسم کوحسین علیہ السلام کے بدن سے مس کر دو، شفا ہوجائے گی جبرئیل علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اورفطرس کے بال وپراسی طرح روئیدہ ہوگیے جس طرح پہلے تھے ۔

وہ صحت پانے کے بعد فخرومباہات کرتا ہوا اپنی منزل”اصلی“ آسمان سوم پرجا پہنچا اورمثل سابق ستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرنے لگا، بعد از شہادت حسین علیہ السلام چوں برآں قضیہ مطلع شد“ یہاں تک کہ وہ زمانہ آیا جس میں امام حسین علیہ السلام نے شہادت پائی اوراسے حالات سے آگاہی ہوئی تواس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی مالک مجھے اجازت دی جائے کہ مین زمین پرجا کردشمنان حسین علیہ السلام سے جنگ کروں ارشاد ہوا کہ جنگ کی ضرورت نہیں البتہ توستر ہزار فرشتے لے کر زمین پر جا اوران کی قبرمبارک پرصبح وشام گریہ ماتم کیا کر اوراس کا جو ثواب ہو اسے ان کے رونے والوں کے لیے ہبہ کردے چنانچہ فطرس زمین کربلا پرجا پہنچا اورتا قیام قیامت شب و روز روتا رہے گا۔۔


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

امام حسین علیہ السلام سینہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر

صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث کا بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے اورامام حسین علیہ السلام نہایت کمسنی کے عالم میں ان کے سینہ مبارک پرہیں، ان کے دونوں ہاتھوں کوپکڑے ہوئے فرماتے ہیں اے حسین علیہ السلام تومیرے سینے پرکود چنانچہ امام حسین علیہ السلام آپ کے سینہ مبارک پر کودنے لگے اس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کا منہ چوم کرخداکی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے میں اسے بے حد چاہتا ہوں توبھی اسے محبوب رکھ، ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین علیہ السلام کا لعاب دہن اوران کی زبان اس طرح چوستے تھے جس طرح کجھور کوئی چوسے۔

جنت کے کپڑے اور فرزندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عید

امام حسن علیہ السلام اورا مام حسین علیہ السلام کا بچپنا ہے عید آنے والی ہےاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کا کیا ذکر پرانے کپڑے بلکہ نان جویں تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عید کے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عید منائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤ نہیں، تمہارے کپڑے درزی لائے گا عید کی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کا تقاضا کیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا، دروازہ کھٹکھٹایا فضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدئہ عالم سلام اللہ علیہا کی خدمت میں اسے پیش کیا اب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرض یہ کہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کا دل باغ باغ ہوگیا وہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا بچوں کوجگایا کپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہا مادرگرامی یہ توسفید کپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان سلام اللہ علیہا ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع ملی، تشریف لائے، فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل علیہ السلام آفتابہ لیے ہوئے آ پہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن علیہ السلام نے پہنا سرخ جوڑاحسین علیہ السلام نے زیب تن کیا، ماں سلام اللہ علیہا نے گلے لگا لیا باپ علیہ السلام نے بوسے دئیے نانا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے نونہالو، رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو۔

بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ بچوں کوپشت پربٹھا کردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے ۔

اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

امام حسین علیہ السلام کا سردار جنت ہونا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مسلمات اورمتواترات سے ہے کہ ”الحسن و الحسین سیدا شباب اہل الجنتہ و ابوہما خیر منہما“ حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدر بزرگواران دنوں سے بہتر ہیں (ابن ماجہ) صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جناب حذیفہ یمانی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا مسرور دیکھ کرپوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ،افراط مسرت کی کیا وجہ ہے فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہ آج ایک ایسا ملک نازل ہوا ہے جومیرے پاس اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا اس نے مجھے میرے بچوں کی سرداری جنت پرمبارک دی ہے اورکہا ہے کہ”ان فاطمتہ سیدتہ نساء اہل الجنتہ وان الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنتہ“ فاطمہ سلام اللہ علیہا جنت کی عورتوں کی سردارہیں اورحسنین علیہ السلام جنت کے مردوں کے سردارہیں ۔
(کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۷، تاریخ الخلفاص ۱۲۳، اسدالغابہ ص ۱۲، اصابہ جلد ۲ ص ۱۲، ترمذی شریف، مطالب السول ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴) ۔


امام حسین علیہ السلام عالم نماز میں پشت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر

خدا نے جوشرف امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کوعطا فرمایا ہے وہ اولاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورفرزندان علی علیہ السلام میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سواکسی کونصیب نہیں ان حضرات کا ذکرعبادت اوران کی محبت عبادت، یہ حضرات اگرپشت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرعالم نمازمیں سوارہوجائیں، تونمازمیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، اکثرایسا ہوتا تھا کہ یہ نونہالان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پشت پرعالم نمازمیں سوار ہوجایا کرتے تھے اورجب کوئی منع کرنا چاہتا تھا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ سے روک دیاکرتے تھے اورکبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں اس وقت تک مشغول ذکررہا کرتے تھے جب تک بچے آپ کی پشت سے خود نہ اترآئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خدایا میں انہیں دوست رکھتا ہوں توبھی ان سے محبت کر۔ کبھی ارشاد ہوتا تھا اے دنیا والو! اگرمجھے دوست رکھتے ہوتومیرے بچوں سے بھی محبت کرو۔

اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

حدیث «حسین منی»
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے دنیا والو! بس مختصریہ سمجھ لوکہ ”حسین منی وانامن الحسین“حسین علیہ السلام مجھ سے ہے اورمیں حسین علیہ السلام سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین علیہ السلام کو دوست رکھے۔
(مطالب السؤل ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴، نورالابصار ص ۱۱۳ ،صحیح ترمذی جلد ۶ ص ۳۰۷ ،مستدرک امام حاکم جلد ۳ ص ۱۷۷ و مسند احمد جلد ۴ ص ۹۷۲، اسدالغابہ جلد ۲ ص ۹۱ ،کنزالعمال جلد ۴ ص ۲۲۱)

اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم


امام حسین علیہ السلام اور صفات حسنہ کی مرکزیت
یہ تومعلوم ہی ہے کہ امام حسین علیہ السلام حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے نواسے،حضرت علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بیٹے اورامام حسن علیہ السلام کے بھائی تھے اورانہیں حضرات کو پنجتن پاک کہا جاتا ہے اور امام حسین علیہ السلام پنجتن کے آخری فرد ہیں یہ ظاہرہے کہ آخرتک رہنے والے اور ہردورسے گزرنے والے کے لیے اکتساب صفات حسنہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، امام حسین علیہ السلام ۳/ شعبان ۴ ہجری کو پیدا ہو کرسرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش و پرداخت اور آغوش مادرمیں میں رہے اورکسب صفات کرتے رہے، ۲۸/ صفر ۱۱ ہجری کوجب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ فرمالیا اور ۳/ جمادی الثانیہ کوماں سلام اللہ علیہا کی برکتوں سے محروم ہوگئے توحضرت علی علیہ السلام نے تعلیمات الہیہ اورصفات حسنہ سے بہرہ ورکیا، ۲۱/ رمضان ۴۰ ہجری کوآپ کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام کے سرپرذمہ داری عائد ہوئی ،امام حسن علیہ السلام ہرقسم کی استمداد و استعانت خاندانی اورفیضان باری میں برابرکے شریک رہے، ۲۸/ صفر ۵۰ ہجری کوجب امام حسن علیہ السلام شہید ہوگئے توامام حسین علیہ السلام صفات حسنہ کے واحد مرکز بن گئے، یہی وجہ ہے کہ آپ میں جملہ صفات حسنہ موجود تھے اورآپ کے طرزحیات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسن علیہ السلام کا کردارنمایاں تھا اورآپ نے جوکچھ کیا قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا، کتب مقاتل میں ہے کہ کربلامیں حب امام حسین علیہ السلام رخصت آخری کے لیے خیمہ میں تشریف لائے توجناب زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا تھا کہ ائے خامس آل عبا آج تمہاری جدائی کے تصورسے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، علی مرتضی علیہ السلام ، فاطمتہ الزہراء سلام اللہ علیہا ، حسن مجتبی علیہ السلام ہم سے جدا ہو رہے ہیں۔

اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
امام حُسین علیہ السلام

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

اب‘ دل تھام کر‘ نگاہ اٹھایئے‘ علی علیہ السلام کے سورما بیٹے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لہولہان نواسے‘ حسین علیہ السلام کی جانب جو‘ گریاں تاریخ کے سینے کا درد اور گزراں وقت کی پیشانی کا نور ہے۔

وہ حسین علیہ السلام جس کے نظام انفاس کی اطمینان آمیز ہمواری کی زد پر میدان کربلا کی باد سموم کا دم ٹوٹ گیا تھا ۔ جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئی تھیں۔ اورجس کے چہرے کی شادابی کو دیکھ کر کربلا کے تپتے سورج کے ماتھے سے پسینے کی بوندیں ٹپکنے لگی تھیں۔

وہ حسین علیہ السلام جس نے اس رادے سے کہ ایوان حق کے چراغاں پر کوئی آنچ نہ آ سکے۔ اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا تھا ۔۔۔ اور ناموس انسانی کو بچانے کی خاطر‘ جس نے‘ فولاد کو پگھلا دینے والے عزم‘ اور ‘ زلزلوں کی سانس اکھاڑ دینے والے ثبات کے ساتھ موت سے ٹکر لی تھی۔‘ اور ایسی ٹکر کہ موت کی پیشانی سے لہو کا فوارہ جاری ہو گیا تھا۔ حسین علیہ السلام ناتواں تھے یزید توانا تھا قانون قدرت کے مطابق ہونا چاہئے تھا کہ یزید حسین علیہ السلام کو شکست دے کر حسینیت کا چراغ گل کردیتا۔

لیکن ہوا یہ کہ قانون قدرت کے علی الرغم‘ حسین علیہ السلام کی ناتوانی نے یزید کی توانائی کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا اور اپنی مقتولیت کی ایک ضرب سے‘ قاتل کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ وہ موت جس کے صرف تصور سے بڑے بڑے ساونتوں کی پنڈلیاں کانپنے لگتی ہیں۔‘ وہ موت‘ منہ کھولے‘ جب حسین علیہ السلام کے سامنے آئی تو حسین علیہ السلام اس کو دیکھ کر ایسی حقارت کے ساتھ مسکرائے کہ خود موت کی نبضیں ساقط ہو کر رہ گئیں۔

سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ اس وقت بھی جب کہ تیروں کا موسلادھار مینہ برس رہا تھا اور حسین علیہ السلام اپنے رفیقوں اور جگر گوشوں کی لاشیں‘ میدان سے اٹھا اٹھا کر‘ بار بار‘ خیمے کی طرف جا رہے تھے۔ اور اس سے زیادہ حیرت یہ ہے کہ جب ان کے تمام انصار و اقرباء۔ موت کی نیند سو چکے تھے اور ان کا قتل ایک یقینی امر بن چکا تھا عین اس نازک ترین‘ اور مہلک لمحہ میں بھی ان کے حواس بجا تھے ۔ اور یہ دیکھ کر کہ ہیبت باطل سے حق کا چہرہ سفید ہو چلا ہے وہ اس پر سرخی دوڑانے کے لئے بڑے اطمینان کے ساتھ‘ اپنا خون روانہ کر رہے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ اس یقینی ہلاکت کے موقع پر ان کے حواس بجا تھے۔ بلکہ تاریخ انسانی کی سب سے بڑی قربانی دے چکنے کے بعد بھی ان کے چہرے پر اس فخر و مباہات کی ایک ایسی معمولی سی دھاری بھی رونما نہیں ہوئی تھی اور ان کی زبان سے ایک ایسا آدھا لفظ بھی ادا نہیں ہوا تھا جس سے پتہ چلتا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اے اہل اسلام میں نے غیرت اسلام کے آفتاب کو ڈوبنے سے بچا کر تم پر احسان کیا ہے‘ اور میں نے اپنے واسطے یہ حق خرید لیا ہے کہ تم مجھ کو ایثار کا دیوتا سمجھ کر میرے سامنے اپنی گردنیں جھکا لو۔


اے حسین علیہ السلام ۔ اے دریائے زہر سے آب حیات پینے والے ۔ اے بھپرے طوفان کو اپنے سفینے میں ڈبو دینے والے ۔ اے حریم شہادت کے سب سے اونچے منارے اے ہمت مردانہ کے اوتار اور اے ثبات و عزم کے پروردگار ۔ ازل سے لے کر ابد تک کی انسانیت کا غلامانہ سلام قبول کر!

السلام علیک یاابا عبداللہ الحسین علیہ السلام


اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
(گذشتہ سے پیوستہ)

معرکہ کربلا - حق و باطل کی جنگ - کامیاب کون ہوا؟

کیا اس حق و باطل کی جنگ میں بنی امیہ اور ان کا خونخوار اور دنیا پرست لشکر کامیاب ہوا یا امام حسین علیہ اسلام اور ان کے باوفا اصحاب کہ جنہوں نے راہِ حق اور رضائے خدا میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا؟

اگر کامیابی و ناکامی اور فتح و شکست کے صحیح معنی اور مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ فتح و کامیابی یہ نہیں کہ انسان میدانِ جنگ میں اپنی جان بچا لے یا دشمن کو ہلاک کر دے۔ بلکہ فتح و کامرانی یہ ہے کہ انسان اپنے ہدف و مقصد کو محفوظ کرکے آگے بڑھا سکے اور دشمن کو اس کے مقصد میں کامیاب نہ ہونے دے اگر فتح و کامرانی اور شکست و ناکامی کے یہ معنی سامنے رکھے جائیں تو معرکہ کربلا کا نتیجہ بلکل واضح ہو جاتا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ امام حسین علیہ اسلام اور ان کے اصحاب باوفا شہید ہو گئے لیکن انہوں نے اس شہادت سے اپنا مقدس ہدف و مقصد حاصل کر لیا۔ہدف یہ تھا کہ بنی امیہ کی اس مذموم اور اسلام دشمن سازش کو بے نقاب کیا جائے اور اس کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے لایا جائے مسلمانوں کی فکر بیدار ہو اور ان کو زمانہ جاہلیت ، زمانہ کفر اور بت پرستی کے مبلغین سے آگاہ کیا جائے۔ یہ مقصد و ہدف بہترین طریقے سے حاصل ہوا۔

امام حسین علیہ اسلام اور ان کے اصحاب با وفا نے اپنے مقدس خون سے بنی امیہ کے ظلم کے درخت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں ۔ انہوں نے اپنی قربانی سے بنی امیہ کی ظالم و جابر حکومت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔اور ان کا شرمناک سایہ مسلمانوں کے سر سے ختم کر دیا ۔یزید نے حسین علیہ اسلام جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے باوفا اصحاب کو شہید کرکے اپنا اصلی چہرہ ظاہر کر دیا۔


واقعہ کربلا کے بعد جتنے انقلاب رونما ہوئے شہدائے کربلا کے انتقام کے نام سے شروع ہوئے اور تمام کا نعرہ یہ تھا کہ ہم شہدائے کربلا کا انتقام لیں گے ۔ حتیٰ کے بنی عباس کے زمانہ تک یہی ہوتا رہا۔ اور خود بنی عباس نے بھی انتقام خونِ حسین علیہ اسلام کے بہانے سے حکومت حاصل کی ۔ مگر حکومت حاصل کرنے کے بعد بنی امیہ کی طرح ظلم و ستم شروع کر دیا ۔ کیا شہدائے کربلا کے لئے اس سے بڑھ کر اور کامیابی ہو سکتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مقدس مقصد تک پہنچ گئے بلکہ ظلم و ستم میں جکڑے تمام انسانوں کو درسِ حریت دے گئے۔

نہیں لڑتا ہے مومن نام و عزو جاہ کی خاطر
جہادِ مردِ مومن ہے فقط اللہ کی خاطر

السلام علیک یاابا عبداللہ الحسین علیہ السلام


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
(گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔)

معرکہء کربلا کے بعد دنیا بھر میں عمرانیات اور شہریت اور مذاہب و ادیان کے فلسفہ جات میں

حسینیت ، اس ظلم و بربریت اور حقوق کی پامالی کے خلاف ایک انقلابی فلسفہ کے طور پر امر ہوگئی ۔ جس سے اہل حق تا آخرِ کائنات سبق حاصل کرکے کامیابی حاصل کرتے رہیں گے۔

جبکہ

یزیدیت ظلم و بربریت و آمریت پر مبنی ایک فلسفہ بن گئی ۔ جس کی دنیا کے ہر نظریہ میں مخالفت و مذمت کی جاتی ہے۔ اور اسکے علمبرداروں پر دنیا و آخرت میں لعنت کی جاتی رہے گی ۔
جبھی تو کہا گیا ہے


قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ۔۔ ہر کربلا کے بعد


(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

کاشفی

محفلین
حضرت امام حسین علیہ السلام کی مختصر زندگی

حضرت امام حسین علیہ السلام کی مختصر زندگی

آپ کا مشہور ومعروف لقب ”سید الشہداء“ ہے۔
آ پ کی ولادت باسعادت ۳ شعبان المعظم سن چار ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
آپ کی پرورش سایہٴ نبوت، موضع رسالت، مختلف الملائکہ اور معدن علم میں ہوئی۔
آپ بھی اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کے تمام بنیادی فضائل میں شریک ہیں یعنی آپ بھی امام ہدیٰ، سیدا شباب اہل الجنہ میں سے ایک ہیں، آپ ہی کی ذات ان دو میں سے ایک ہے جن کے ذریعہ ذریت رسول صلی اللہ علیہ وسلم باقی ہے آپ ہی ان چار حضرات میں سے ایک ہیں جن کے ذریعہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران سے مباہلہ کیا اور آپ بھی پنجتن پاک کی ایک فرد ہیں جن کی شان میں آیہٴ تطہیر نازل ہوئی۔
آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ سال تک کی زندگی گذاری، او رآپ پر وہ تمام مصیبتیں پڑیں جو وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اہل بیت پر پڑیں یہاں تک کہ آپ کے بھائی امام حسن علیہ السلام کو زہر سے شہید کردیا گیا او رآ پ نے اپنی زندگی میں اپنی والدہ گرامی، پدر بزرگوار اور اپنے بھائی کے غم کو برداشت کیا۔
اور جس وقت یزید کے والد کی موت ہوئی تو یزید ان کا وارث بنا اوراس نے سب مسلمانوں کو اپنی بیعت کے لئے بلایا، تو ان میں سے بعض لوگوں نے نالائق جوان کی بیعت کرنے سے انکار کردیا۔

چنانچہ آپ کی حکومت وقت سے مخالفت کے تین اہم اسباب تھے:

۱۔یزید کا مستحق خلافت نہ ہونا اور خلافت کی اہلیت نہ رکھنا۔

۲۔صلح امام حسن علیہ السلام میں جو معاہدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہوچکا تھا کیونکہ یزید کے والد کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ یزید کے والد کے بعد خلافت آپ (امام حسن علیہ السلام ) ہی کے پاس رہے گی اور اگر امام حسن علیہ کے لئے کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آگیا تو ان کے بعد حق خلافت ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام کو ہوگا، لہٰذا یزید کے والد کو اپنے بعد کسی کو خلیفہ معین کرنے کاکوئی حق نہیں تھا۔ [1]

اس کا مطلب یہ ہے کہ یزید کے والد کے انتقال کرتے ہی امام حسین علیہ السلام در حقیقت صاحب خلافت ہوگئے تھے کیونکہ یزید کے والد نے اس معاہدہ پر بھی دستخط کر رکھے تھے۔

۳۔ اس وقت کے حالات اس طرح کے تھے کہ ایسے حالات میں قیام کرنا واجب ہوجاتا ہے کیونکہ خود آپ نے ایک حدیث میں اس طرح اشارہ کیا ہے:

”انی لم اخرج بطراً و لااشراً ولامفسداً ولاظالماً وانما خرجت اطلب الصلاح فی امہ جدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ارید ان آمر بالمعروف وانہیٰ عن المنکر“ [2]
(میں کسی فتنہ وفساد اور ظلم کے لئے نہیں نکل رہا ہوں بلکہ میں اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں اور میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں)

اسی طرح اپنے شیعوں کے نام ایک خط لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
”فلعمری ما الامام الا الحاکم بالکتاب، القائم بالقسط، الدائن بدین الحق، الحابس نفسہ علی ذات اللہ“[3]
(خدا کی قسم امام کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ قرآن کے مطابق حکم کرے، عدالت قائم کرے، دین حق کی طرف دعوت دے اور پروردگار کے سامنے اپنے نفس کا حساب کرے)

قارئین کرام ! اس اسباب کی تحقیق و بررسی کے بعد ان لوگوں کا نظریہ باطل ہوجاتا ہے جن کی نظر میں امام حسین علیہ السلام خطاکار ہیں ،کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے لئے یزید کی بیعت کرکے خاموش ہوجانا بہتر تھا۔[4]

قارئین کرام ! آپ حضرات غور تو کریں کہ کیسے امام حسین علیہ السلام کے لئے یہ بہتر تھا کہ یزید کی بیعت کرکے خاموش ہوجاتے جبکہ امام حسین علیہ السلام اپنے اوپر واجب دیکھ رہے تھے کہ قیام کریں اور خود یزید کے والد نے اس عہد نامہ پر دستخط کررکھے تھے جس میں امام حسین علیہ السلام کو بیعت نہ کرنے اور سکوت اختیار نہ کرنے کا حق تھا۔

لہٰذا حضرت امام حسین علیہ السلام تاریخ کے اوراق پر فاتح اکبر کے نام سے مشہور ہیں اگرچہ کربلا کے میدان میں ظاہری طور پر آپ کو اور آپ کے لشکر کو تہہ تیغ کردیا گیا جبکہ ان کے قاتلوں پر ہمیشہ تاریخ لعنت کرتی چلی آرہی ہے، اگرچہ انھوں نے اپنی جنگ میں غلبہ حاصل کیا،بلکہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جس میں جنگ میں(ظاہری) غلبہ پانے والوں پر دنیا نے اس طرح لعنت وملامت کی ہو جس طرح قاتلین امام حسین علیہ السلام پر کی ہے [5]

آپ کی شہادت ۱۰ محرم ۶۱ کو عصر کے وقت کربلا میں ہوئی [6] اور آپ کربلائے معلی میں دفن ہیں۔



حوالجات
________________________________________

[1] صلح حسن، ص۲۵۹
[2] المناقب ج۲ ص ۲۰۸
[3] الارشاد ، ص ۲۱۰
[4] العواصم من القواصم ص ۲۳۱
[5] نظریہ الامامہ ص ۳۳۶
[6] تاریخ ولادت وتاریخ شہادت ماخوذ از کتاب ارشاد شیخ مفید ص ۲۰۳(تاریخ ولادت مولف نے ارشاد کے مطابق پانچ شعبان بیان کی تھی جبکہ مشہور ومعروف تاریخ ولادت ۳ شعبان ہے(مترجم)
بشکریہ: صادقین
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top