نتائج تلاش

  1. کاشفی

    در و دیوار پہ ہجرت کے نِشاں دیکھ آئیں - قیصر الجعفری

    قیصر الجعفری صاحب کا کلام آپ کی بصارتوں کی نذر پچھتاوا در و دیوار پہ ہجرت کے نِشاں دیکھ آئیں آؤ ! ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیں اپنی قسمت میں لکھے ہیں جو وراثت کی طرح آؤ ! اک بار وہ زخمِ دل و جاں دیکھ آئیں آؤ ! بھیگی ہوئی آنکھوں سے پڑھیں نوحہء دل آؤ ! بکھرے ہوئے رشتوں کا زِیاں...
  2. کاشفی

    اہلِ زر خاموش ہیں، اہلِ نظر خاموش ہیں - سیدابوبکرمالکی بھٹکلی

    غزل (سیدابوبکرمالکی بھٹکلی) اہلِ زر خاموش ہیں، اہلِ نظر خاموش ہیں آنے والی آندھیوں سے بے خبر، خاموش ہیں ًمصلحت کا دور ہے، مد مقابل ہے مفاد کچھ اِدھر خاموش ہیں اور کچھ اُدھر خاموش ہیں قافلہ بے سمت بڑھتا جارہا ہے آج کل بے خبر منزل سے اب اہلِ سفر خاموش ہیں کیوں بدلتا جارہا ہے زندگی...
  3. کاشفی

    لمحہ لمحہ ماتمی ہے آجکل - معظم سعید

    غزل (معظم سعید - کراچی پاکستان) لمحہ لمحہ ماتمی ہے آجکل زندگی کیا زندگی ہے آجکل خواب کی تعبیر کوئی کیا لکھے دھول کاغذ پر جمی ہے آجکل شور دل ہے نہ صدائے برگ و بار پھر یہ کیسی بے کلی ہے آجکل عالم سر گشتگی میں اب ہوا جانے کس کو ڈھونڈتی ہے آجکل پربتوں کے درمیاں اک جھیل پر کتنی...
  4. کاشفی

    عجب ہے وجد کا عالم دمِ دیدار، اللہ ہو! - قمر نقوی نقشبندی

    غزل ( قمر نقوی نقشبندی) عجب ہے وجد کا عالم دمِ دیدار، اللہ ہو! مگر یہ خوش نصیبی، میں‌ہوں پیشِ یار، اللہ ہو! ابھی راز اُن کا کھلنے کی تو منزل ہی نہیں آئی کہ میں‌ خود ہوں ابھی منجملہء اسرار، اللہ ہو! گلستاں کے مناظر رفتہ رفتہ مرتے جاتے ہیں کوئی تو نقشِ تازہ، یا اولی الابصار، اللہ ہو...
  5. کاشفی

    ان پانیوں میں‌ خوب نہانے کو جی کرے - پرکاش فکری

    غزل (پرکاش فکری - ہندوستان) ان پانیوں میں‌ خوب نہانے کو جی کرے سارے دکھوں کا بوجھ بھلانے کو جی کرے انجان سی صدائیں جو آتی ہیں دور سے دیوانگی کے دشت میں جانے کو جی کرے ان پربتوں کی چھاؤں میں سوئے سکوت کو کر کے بلند چیخ ڈرانے کو جی کرے بجھنے لگی ہے شام اندھیروں کی گود میں ہر سمت...
  6. کاشفی

    ایک سجدہ خوش گلو کے آگے سہواً ہوگیا - کاوش بدری

    غزل (کاوش بدری) ایک سجدہ خوش گلو کے آگے سہواً ہوگیا اس پہ کوئی معترض ہوگا تو قصداً ہوگیا کفر کا فتویٰ صادر ہوا تو خوش قسمت تھا میں تذکرہ میرا بھی ہر مسجد میں ضمناً ہوگیا آناً و فاناً کس نے دستگیری کی میری کام تھا مشکل کا، اہلاً و سہلاً ہوگیا طوعاً و کرہاً بڑھاتے ہیں ملاقاتیوں کو...
  7. کاشفی

    مدحتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

    مدحتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کیا تجلی ہے کہ خورشید فلک چکر میں ہے نور ہے مرکز پہ لیکن روشنی منظر میں ہے (شمیم امروہوی) زہرا سلام اللہ علیہا ہیں یوں خیال سخنور کے آس پاس خوشبوئے پاک جیسے گل تر کے آس پاس (نوشہ امروہوی) نہیں وہ بے وفا ہو ہی نہیں سکتا زمانے میں ترے غازی کا جو پرچم اٹھائے...
  8. کاشفی

    مبارکباد ماہ اگست اور جشنِ آزادی پاکستان مبارک ہو

    بسم اللہ الرحمن الرحیم سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم انک حمید مجید ہ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم
  9. کاشفی

    پوچھئے نہ یہ ہم سے بتکدے میں کیا پایا - متین امروھوی

    متین امروہوی صاحب دہلی ہندوستان کے ایک معروف شاعر ہیں اور غالب اکاڈمی دہلی سے منسلک ہیں۔ آپ نے حال ہی میں اپنا مجموعہء کلام بعنوان "گلہائے سخن" شائع کیا ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تمام غزلیں مرزا اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ کی غزلوں کی زمین اور بحروں میں کہی گئی ہیں۔ اس کام کی...
  10. کاشفی

    زبان ہے تو جہان ہے - نادر خان سَرگِروہ - مقیم مکہ مکرمہ

    زبان ہے تو جہان ہے (نادِر خان سَر گِروہ ۔۔۔۔۔ مقیم مکہ مکرمہ) با ادب با محاورہ ۔۔۔ ہوشیار!!! آج ہم زبان پر کُچھ کہنے جا رہے ہیں۔۔۔ عجیب بات ہے نا۔۔ ۔ زبان سے یا تو کُچھ کہا جا سکتا ہے ۔۔۔ یا پھِر کسی زبان میں کُچھ کہا جا سکتا ہے۔اگر ہم زبان پر کچھ کہیں گے تو آپ زبان پر حرف لائیں گے۔ بات جب...
  11. کاشفی

    نظم: موت - معین احسن جذبی

    موت (معین احسن جذبی) اپنی سوئی ہوئی دُنیا کو جگالوں تو چلوں اپنے غم خانے میں‌ اک دھوم مچالوں تو چلوں اور اِک جامِ مئے تلخ چڑھالوں تو چلوں ابھی چلتا ہوں ذرا خود کو سنبھالوں تو چلوں جانے کب پی تھی، ابھی تک ہے مئے غم کا خمار دھندلا دھندلا نظر آتا ہے جہانِ بیدار آندھیاں چلتی ہیں، دنیا...
  12. کاشفی

    نظم: عورت کیا ہے؟ - شبنم رومانی

    عورت کیا ہے؟ (شبنم رومانی) عورت کیا ہے؟ زلفِ صنوبر! ------- کب تک زلف نہ جھولا جھولے گی ساون کی جھڑیوں میں؟ عورت کیا ہے؟ بوئے گل تر! ------- کب تک قید رہے گی بوئے گل نازک پنکھڑیوں میں؟ عورت کیا ہے؟ ساز کی دھڑکن! ---- کب تک دھڑکن بند رہے گی ساز کی سیمیں تاروں میں؟ عورت کیا ہے؟پیار کی...
  13. کاشفی

    ماھئے: سنجے گوڑبولے، پونا ہندوستان

    ماھئے (سنجے گوڑبولے، پونا ہندوستان) ایک خواب حسیں ہے تو کیسے کہوں لیکن قسمت میں‌ نہیں‌ ہے تو! -------------------------------------------- پلکوں کو بھگولوں گا خون کے اشکوں سے زخموں کو دھولوں گا -------------------------------------------- مانگے سے نہیں ملتا پھول ہے قسمت کا کہنے سے...
  14. کاشفی

    گیت: کہاں ہو تم تمہیں یہ نین ڈھونڈیں - ناصر شہزاد

    گیت (ناصر شہزاد) کہاں ہو تم تمہیں یہ نین ڈھونڈیں شبوں کو دل سے اُٹھتے بین ڈھونڈیں : کہاں ہو تم؟ بگولے دشت میں مٹی اُڑائیں کھجوریں گرم لُو سے سرسرائیں بہے دریا کے اندر تپتا پانی بنے کتنے جنم جُگ کی کہانی تمہیں کس اُور ؟ سنگت سین ڈھونڈیں: کہاں ہو تم؟ غزالوں کے پرے ٹوبوں پہ گھومیں...
  15. کاشفی

    جینے کی ہے کوشش باقی - موناالیزبتھ کوریاں

    غزل (موناالیزبتھ کوریاں) جینے کی ہے کوشش باقی اور ہے دل میں خواہش باقی قاتل بن بیٹھا ہے منصف ہونے کو ہے سازش باقی حال ہمارا آج نہ پوچھو رہنے دو اک پرسش باقی راکھ ہوئی ہے بستی بستی صرف بچی ہے شورش باقی پھیر لیا منہ دیکھ کے مجھ کو دل میں اُس کے رنجش باقی بنجر بنجر دل کی...
  16. کاشفی

    امیر مینائی لے گئی کل ہوسِ مے جو سرخُم مجھ کو - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی) لے گئی کل ہوسِ مے جو سرخُم مجھ کو ہوش کی طرح سے مستی نے کیا گم مجھ کو صورتِ غنچہ کہاں تابِ تکلم مجھ کو منہ کے سو ٹکڑے ہوں آئے جو تبسم مجھ کو مر کے راحت تو ملی پر یہ ہے کھٹکا باقی آکے عیسٰی نہ سر بالیں کہیں قم مجھ کو میں ترا عکس تھا اس آئینہء ہستی میں تونے کیا...
  17. کاشفی

    ولی دکنی میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہورہا ہوں - ولی دکنی

    غزل (ولی دکنی) میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہورہا ہوں تیری نگہ کا جب سوں دیوانہ ہورہا ہوں اے آشنا کرم سوں یک بار آدَرَس دے تجھ باج سب جہاں سوں بیگانہ ہورہا ہوں باتاں لگن کی مت پوچھ اے شمعِ بزمِ خوبی مدت سوں تجھ جھلک کا پروانہ ہورہا ہوں شاید وہ گنجِ خوبی آوے کسی طرف سوں اس واسطے...
  18. کاشفی

    شرارتی بیوی

    بدمعاش، پاجی، لچا، دن دھاڑے۔ کانپتے ہوئے وہ بولے۔ "ذرا سُنئے تو، سنئے تو، ہم نے کہا۔ ٹہر جائیے، صبر سے کام لیجئے۔ " ایک بڑے میاں بولے۔ "کیا معاملہ ہے ۔" ہم نے عذر کیا۔ "بدقسمتی سے میں بجائے برابر والے مکان کے ان کے مکان میں داخل ہو گیا۔ اور میں سخت شرمندہ ہوں۔ " اس پر وہ بولے ۔ " بے ایمان،...
  19. کاشفی

    داغ کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر - داغ دہلوی

    غزل (مرزا خاں داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر سنا کئے حال چپکے چپکے، نظر اُٹھائی نہ سر اُٹھا کر نہ طور دیکھے، نہ رنگ برتے غضب میں آیا ہوں دل لگا کر وگر نہ دیتا ہے دل زمانہ یہ آزما کر، وہ آزما کر تری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو...
  20. کاشفی

    میر مہدی مجروح نوحہ: بیادِ غالب - از: میر مہدی مجروح

    نوحہ: بیادِ غالب (از: میر مہدی مجروح) کیوں نہ ویراں ہو دیارِ سخن مر گیا آج تاجدارِ سخن بلبلِ خوش ترانہء معنی گل رنگیں و شاخسارِ سخن نخل بندِ حدیقہء مضموں تازگی بخش لالہ زارِ سخن عرصہء نظم کیوں نہ ہو ویراں ہے عناں کش وہ شہسوار سخن کیوں نہ حرفوں کا ہو لباس سیاہ ہے غم مرگِ شہر...
Top