انسانوں کے عیب چھپانا سب کے بس کی بات نہیں
عیب چھپا کر خیر بتانا سب کے بس کی بات نہیں
غیر کی نکتہ چینی کرتے لوگ دکھائی دیتے ہیں
خود پر اپنی انگلی اٹھانا سب کے بس کی بات نہیں
جھوٹ سے رشتہ جوڑنے والے لاکھوں آدم خور یہاں
سچا انسان بن کے دکھانا سب کے بس کی بات نہیں
روح میں گر بیماری ہو...
لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم
بھلا سکو گی نہ جس کو بھلا رہی ہو تم
تمہارے دل میں یہ کس کا خیال رہتا ہے
وہ بات کیا ہے جو سب سے چھپا رہی ہو تم
سلگ رہی ہو خموشی کی آگ میں تنہا
یہ کیسا وعدہ ہے جس کو نبھا رہی ہو تم
یہ زرد چہرہ یہ آنکھیں کہاں چھپاؤ گی؟
جو راتیں ہجر کی تنہا بتا رہی...
کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی
زبان درد سے لیکر دہانِ زخم تلک
کوئی بھی کھل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
سکوں کے در پئے آزار سب ہوئے لیکن
جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
ہوا چلی بھی تو ماحول کے رگ و پے میں
ہوا نے زہر ہی گھولا فضا ہی ایسی...
امام حسین علیہ السلام
(صبا اکبر آبادی)
بنتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود کا پالا ہوا حسین علیہ السلام
انوارِ سرمدی سے اُجالا ہوا حسین علیہ السلام
نانا کی تربیت سے سنبھالا ہوا حسین علیہ السلام
سانچے میں اعتبار کے ڈھالا ہوا حسین علیہ السلام
تنہا امین مصحف پروردگار کا
وارث نبی...
غزل
کھڑکیوں کو کھول کر تازہ ہوا دیتا ہے کون
ہاتھ میں بارش کے موسم کا پتہ دیتا ہے کون
میری آنکھیں بند ہیں اور دھیان کے رستے کھلے
روح کے اندر اتر کر آئینہ دیتا ہے کون
تم مجھے یہ کون سے وقتوں میں آکر مل گئے
عمر کے اس موڑ پر کس کو صدا دیتا ہے کون؟
کون ہے جس کے لئے اک عمر سے بے چین ہوں...
غزل
غم چھپا کر مسکرانا چھوڑ دے
یوں مقدر کو بنانا چھوڑ دے
راہِ الفت میں یہ کیسی بے بسی
زندگی صدمہ اٹھانا چھوڑ دے
روٹھنے والے تجھے تیری قسم
عاشقی میں دل جلانا چھوڑ دے
حالِ دل تنہائی میںتجھ سے کہوں
یوں نہ ملنے کا بہانا چھوڑ دے
جب تلک دل میں لہو باقی رہے
"کوئی کیسے دل لگانا...
غزل
کلام کرتا تھا میں اُس سے دعا کے لہجے میں
مگر وہ بول پڑا تھا خدا کے لہجے میں
زمین پھر اسی مرکز پہ جلد آجائے
ندائے "کُن" میں سنوں ابتدا کے لہجے میں
پرندے لوہے کے، کنکر بموں کے پھینکتے ہیں
عذاب ہم پہ ہے کیوں ابرہہ کے لہجے میں
قدم ادھر ہی اٹھے جارہے ہیں جس جانب
سموم بول رہی ہے...
یہ کیسا دور ہے، کیسا جہاں ہے
جسے دیکھو امیرِ کارواں ہے
اُسی ڈالی پہ دیمک لگ گئی ہے
جہاں میں نے بنایا آشیاں ہے
بموں کے سائے میں دُنیا ہے ساری
یقیناََ یہ تباہی کا نشاں ہے
محبت، بھائی چارہ، پیار، اُلفت
جو سچ پوچھو کتابی داستاں ہے
ہمیں روشن ضمیری دے خدایا
بڑے خطرے میں اب سارا جہاں...
اُردو زباں
پاک و ہند کے محبانِ اُردو زباں کی نظر۔۔۔۔
(شاعر مجھے معلوم نہیں)
یکتائے زماں ہے فخرِ لساں
شیریں و شگفتہ اور شایاں
فردوس گوشِ سخن وراں
غزلوں کا فسوں عالم پہ عیاں
نظموں کی عجب ہے موجِ جواں
اور نثر مثالی کاہکشاں
یہ علم و ادب میں زر افشاں
ہر سمت اسی کی تاب و تواں
ہر...
غنچہء ناشگفتہ کو دُور سے مت دکھا کہ یُوں
بوسے کو پوچھتا ہوں میں مُنہ سے مجھے بتا کہ یُوں
پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا کہ بِن کہے
اس کے ہر اِک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں
رات کے وقت مَے پئے، ساتھ رقیب کو لئے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یُوں
بزم میں اُس کے رُوبرو کیوں نہ خموش...
غزل
(حفیظ ہوشیارپوری)
وہ آکے سامنے جس وقت مسکراتے ہیں
ہم ان کی ساری جفاؤں کو بھول جاتے ہیں
جفا پہ ان کی وفا کا گماں گذرتا ہے
کچھ اس طرح وہ مرے دل کو یاد آتے ہیں
جفائے طعنہء اغیار یاد رہتی ہے
غمِ فراق کے صدمے تو بھول جاتے ہیں
الٰہی خیر ہو یہ آج دیکھتا کیا ہوں
وہ دیکھ دیکھ کے کیوں مجھ کو...
غزل
(عفت علوی)
فضا میں کب رچی ہے اس کی خوشبو جان لیتی ہوں
میں بند آنکھوں سے بھی اس شخص کو پہچان لیتی ہوں
اگرچہ بات تو ہے اختلاف رائے کی لیکن
تمہارے منہ سے نکلی ہے تو میں سچ مان لیتی ہوں
مجھے جب بھی زمانے کے دکھوں نے گھیرنا چاہا
تمہاری یاد کی چادر کو خود پر تان لیتی ہوں
حسینی ہوں...
نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(سید حامد حسین باقری - ہندوستان)
عشق خدا سے دل مرا سر شار ہو گیا
کردارِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے پیار ہو گیا
ایمان گر خدا پہ ہو، اعمال نیک ہوں
بے شک وہ شخص خلد کا حق دار ہو گیا
ہونے لگے ہیں لوگ منافق پہ مہرباں
مومن ہر ایک سمت سے لاچار...
غزل
جوش ملیح آبادی
قدم انساں کا راہِ دہر میں تھرّا ہی جاتا ہے
چلے کتنا ہی کوئی بچ کے، ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے
نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا، پھر بھی
ہجومِ کش مکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے
خلافِ مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں، مگر ناصح!
وہ آتے ہیں تو چہرہ پر تغیّر آ ہی جاتا ہے
ہوائیں زور...
غزل
(اختر شیرانی)
تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں
بہار آئی ہے بلبل دردِ دل کہتی ہے پھولوں سے
کہو تو میں بھی اپنا دردِ دل تم سے بیاں کر لوں
ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں
حیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں
کوئی...
غزل
لڑ کے اغیار سے جُدا ہیں آپ
مجھ سے بے وجہ کیوں خفا ہیں آپ
میں اور اُلفت میں ہوں کہیں پابند
وہم میں مجھ سے بھی سوا ہیں آپ
غمزہ سے ناز سے لگاوٹ سے
ہر طرح آرزو فزا ہیں آپ
یاں تو دل ہی نہیں ہے پھر کیا دیں
یہ تو مانا کہ دل رُبا ہیں آپ
کون سا دل نہیں تمہاری جا
جلوہ فرما ہر ایک جا ہیں...
ایثارِ حُسن
(وقار انبالوی )
1931 میں فرانس کے ایک مشہور مقتدر رکن حکومت قوت بینائی سے محروم ہو گئے۔۔۔اُنہوں نے اپنی منگیتر سے کہا۔کہ میں اب اندھا ہو گیا ہوں اور اس قابل نہیں رہا کہ محبت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکوں۔۔لیکن غیرت مند منگیتر نے جواب دیا۔کہ یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا ۔۔میں اپنی...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
ہمیں کس طرح بھول جائیگی دنیا
کہ ڈھونڈھے سے ہمسا نہ پائیگی دنیا
مجھے کیا خبر تھی کہ نقشِ وفا کو
بگاڑیگی دنیا بنائیگی دنیا
محبت کی دنیا میں کھویا ہوا ہوں
محبت بھرا مجھکو پائیگی دنیا
ہمیں خوب دے فریب محبت
ہمارے نہ دھوکے میں آئیگی دنیا
قیامت کی دنیا میں ہے...
غزل
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا
تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آجائے
میں سناؤں جو کبھی دل سےفسانا دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے
ان کا جانا تھا الہٰی کہ یہ جانا دل...