راہزن آدمی راہنما آدمی
با رہا بن چکا ہے خدا آدمی
ہائے تخلیق کی کار پردازیاں
خاک سی چیز کو کہہ دیا آدمی
کھل گئے جنتوں کے وہاں زائچے
دو قدم جھوم کر جب چلا آدمی
زندگی خانقاہ شہود و بقا
اور لوح مزار فنا آدمی
صبحدم چاند کی رخصتی کا سماں
جس طرح بحر میں ڈوبتا آدمی
کچھ فرشتوں کی...
غزل
سینے میں چھپا کے چاہ کوئی
مت دل کو کرے تباہ کوئی
پچھتانے سے مت گریز کرنا
ہو جائے اگر گناہ کوئی
ملتا ہے سرور کچھ اُسے بھی
جب کہتا ہے دل سے واہ کوئی
میں اپنے بدن میں بے ٹھکانہ
مل جائے مجھے پناہ کوئی
کھُل سکتے نہیں ہیں کان اُس کے
سمجھائے اب اُس کو خواہ کوئی
پیروں سے مرے...
غزلکیوں تجھے اپنے ستم یاد آئے
کس نے دل توڑا جو ہم یاد آئے
جھک گئی کیوں یہ نظر ملتے ہی
کیا کوئی قول و قسم یاد آئے
کچھ نہ کچھ ہے تو، اُداسی کا سبب
مان بھی جاؤ کہ ہم یاد آئے
بت کدہ چھوڑ کے جانے والو
کیا کرو گے جو صنم یاد آئے
جب بھی پامالئی اقدار ہوئی
وقت کو اہلِ قلم یاد آئے
کیا...
کہاں تک چُپ رہوں چپکے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا
کہوں تو کیا کہوں ان سے، کہے سے کچھ نہیں ہوتا
شگفتہ ہو گل و بلبل سے تجھ بن کیا چمن میں دل
ہنسی سے اس کی اس کے قہقہے سے کچھ نہیں ہوتا
نہیں ممکن کہ آئے رحم ان کو اے ظفر مجھ پر
سہوں اس کے ستم کیا میں، سہے سے کچھ نہیں ہوتا
(ابوالمظفر محمد بہادر...
نعتِ رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم
نہ فرقت میں اتنا رولاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
مجھے منہ دکھا کر ہنساؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کرونگا میں قربان جان حزیں کو
مرے دل میں تشریف لاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
لحد میں نکریں جس وقت آئیں
خدارا وہاں تم بھی آؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
نہیں...
حمدِ غفور و رحیم
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
نہیں ہے کوئی بھی ہم کو ترے سوا معلوم
ہمیں تو صرف ہے اک تو ہی اے خدا معلوم
خدا کی ذات اگرچہ نہیں ہے نامعلوم
خدا ہے کیسا، کہاں ہے خدا، خدا معلوم
ہے کائنات کی رگ رگ سے صرف تو واقف
ہر ایک ذرہ کا تجھ ہی کو ہے پتا معلوم
خدا کے ذکر سے...
غزل
(اختر ہوشیار پوری)
اور کچھ تیرے تصور کے سوا کام نہیں
میں سمجھتا ہوں کہ اب عشق مرا خام نہیں
یوں ہوس کار زمانے میں بہت ہیں لیکن
اصل میں عشق جسے کہتے ہیں وہ عام نہیں
تجھ کو دیکھا نہ تھا جب تک یہ مرا حال نہ تھا
عشق پیغام ہے تیرا، مرا پیغام نہیں
سجدہ کیا چیز ہے، کیا شے ہے دعاؤں کا...
مِرا نشیمن بکھر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
جو خواب زندہ ہے مر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
نہ جانے کیوں اِضطرار سا ہے، ہر اک پل بے قرار سا ہے
یہ خوف دل میں اُتر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
عجب سی ساعت ہے آج سر پر، کہ آنچ آئی ہوئی ہے گھر پر
دُعا کہیں بے اثر نہ جائے، ہوا قیامت...
آخری سجدہ
مِری زندگی ترے ساتھ تھی، مِری زندگی ترے ہات تھی
مری روح میں ترا نور تھا مِرے ہونٹ پر تری بات تھی
مرے قلب میں ترا عکس تھا، مری سانس میں تری باس تھی
ترے بس میں میرا شباب تھا، مری آس بھی ترے پاس تھی
ترے گیت گاتی تھی جب بھی میں مجھے چھیڑتی تھیں سہلیاں
مگر اُن پہ کھُل نہ سکیں کبھی مری...
کسی کے نام
یہ اُلفت کی باتیں، محبت کی گھاتیں، جوانی کی راتیں، نہ پھر پاؤ گے
مِرے ساتھ اگر دادِ عشرت نہ دو گے، یہ دن یاد کر کر کے پچھتاؤ گے
حسینوں کی سُن کر وفاداریاں ہوگے بیحد خجل، دل میں شرماؤ گے
تم اپنا شباب اور میری مُحبّت، بہت یاد کر کر کے پچھتاؤ گے
مِرا تذکرہ بھی سنو گے کسی سے،...
غزل
میری فضائے زیست پر ناز سے چھا گیا کوئی
آنکھ میں آنکھ ڈال کر بندہ بنا گیا کوئی
مرگ و حیات کے مزے آہ دکھا گیا کوئی
آکے ہنسا گیا کوئی جاکے رلا گیا کوئی
سجدہء عشق کے لئے پائے صنم ضرور ہے
میری جبینِ شوق کو راز بتا گیا کوئی
مرے تصورات کا سحر عجیب سحر ہے
دیکھ مرے دل حزیں دیکھ وہ آگیا...
غزل
(اختر شیرانی)
سمجھتا ہوں میں سب کچھ، صرف سمجھانا نہیںآتا
تڑپتا ہوں مگر اَوروں کو تڑپانا نہیں آتا
مرے اشعار مثلِ آئینہ شفاف ہوتے ہیں
مجھے مفہوم کو لفظوں میں اُلجھانا نہیں آتا
میں اپنی مشکلوں کو دعوتِ پیکار دیتا ہوں
مجھے یُوں عاجزی کے ساتھ غم کھانا نہیں آتا
میں ناکامِ مسّرت...
غزل
(احمد ندیم قاسمی)
جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں
ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں
ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ
کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں
پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی
پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں
پھر بیت نہ جائے یہ جوانی، یہ زمانہ
آؤ تو یہ اُجڑی...
اعجازِ بیاں
(سعید احمد اعجاز - 1920ء)
کاش اِک روز تو یوں رونقِ محفل ہوتا
پاؤں رکھتا تو جہاں واں پہ مرا دل ہوتا
حُسن کامل تھا ترا، عشق بھی کامل ہوتا
یعنی ہاتھوں میں مرے پردہء محمل ہوتا
دلِ ساحل کو ہے ارمان کہ ہو جائے وہ بحر
بحر کو ہے یہ تمنّا کہ وہ ساحل ہوتا
دل نہ زنہار نوا سنجِ...
غزل
(صدق جائسی - 1936)
پاؤ گے اُسی کی نگہہِ ہوش رُبا میں
تاثیر ہے اے صِدق دوا میں نہ دعا میں
ممتاز وہ کشتے ہیں شہیدانِ وفا میں
سر جن کے کٹے سجدہء نقش کفِ پا میں
جذبِ دلِ بلبل کا اثر تم نے بھی دیکھا
دامن کوئی بے چاک نہیں گل کی قبا میں
سرمے نے بڑھا دی نگہہِ ناز کی تاب اور
یہ آب نہ...
حُسنِ نظر
(قیوم نظر- 1932)
مُحبت میں تیری ہے جینا ہی پینا
نہ کچھ فکرِ ساغر نہ کچھ ذکرِ مینا
خزاں ہوگئی ہے بہارِ تمنا
عجب گُل کھلائے بہار آفرینا
نگاہیں زمانے کی اِس پر جمی ہیں
کِسے دیکھ بیٹھی میری چشمِ بینا
کسی سے ہیں وابستہ میری اُمیدیں
یہی میرا مرنا یہی میرا جینا
نگاہِ کرم تو نے یہ...
غزل
ابھی تک ہے دھبّہ جبینِ خودی پر
پشیماں ہوں میں سجدہء بندگی پر
تجھی نے تو برباد مجھ کو کیا ہے
ارے رونے والے مری بےکسی پر
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آرہی ہے تری سادگی پر
نمی اس میں اشکوں کی شامل ہے زاہد!
مجھے ناز ہے اپنی تردامنی پر
ابھی مجھ کو پینے کا ہے ہوش ساقی!
یہ اک داغ ہے...
غزل
(احمد ندیم قاسمی)
بیٹھا ہوں تشنگی کو چھپائے نگاہ میں
ساقی کے آستانہء عالم پناہ میں
پھر عرش و فرش میں ہے قیامت مچی ہوئی
پھر جنبشیں ہیں یار کی نیچی نگاہ میں
پروردگار میری "صبوحی" کو دیکھ کر
کیوںآگ لگ گئی ہے تیرے مہر و ماہ میں
ہر ذرّے پر ہے میری جبیں اب جھکی ہوئی
دیکھا تھا نقشِ پائے صنم...
اُمید
(غلام مصطفی ذہین - 1906ء)
تو بھی اُمید ہے کچھ عجب شے
تجھ سے وابستہ سچی خوشی ہے
کیوں نہ ہو تجھ سے ہر اک کو اُلفت
تو ہی ہے مایہء عیش و عشرت
جب ہے دنیا باُمید قائم
ساتھ انسان کے تو ہے دائم
باوفا تجھ کو کہنا بجا ہے
کون ورنہ کسی کا ہوا ہے
تو جگاتی ہے سوتے ہوؤں کو
تو ہنساتی...
تعارفِ شاعر: سہیل ثاقب کی شاعری کی ابتدا سعودی عرب (دمام) میں معروف شاعر محترم ذکاء صدیقی مرحوم کے حلقہء تلامذہ سے ہوئی۔ اردو شاعری سے والہانہ عشق اور محترم ذکاء صدیقی جیسے کہنہ مشق شاعر کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سہیل ثاقب نے بہت کم عرصہ میں سعودی عرب کے ادبی منظر میں اپنا مقام بنا...