ابھی تک ہے دھبّہ جبینِ خودی پر - گوپال مِتّل

کاشفی

محفلین
غزل
ابھی تک ہے دھبّہ جبینِ خودی پر
پشیماں ہوں‌ میں سجدہء بندگی پر
تجھی نے تو برباد مجھ کو کیا ہے
ارے رونے والے مری بےکسی پر
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آرہی ہے تری سادگی پر
نمی اس میں اشکوں کی شامل ہے زاہد!
مجھے ناز ہے اپنی تردامنی پر
ابھی مجھ کو پینے کا ہے ہوش ساقی!
یہ اک داغ ہے دامنِ بے خودی پر
(گوپال مِتّل - 1935)
 

مغزل

محفلین
ابھی تک ہے دھبّہ جبینِ خودی پر
پشیماں ہوں‌ میں سجدہء بندگی پر

تجھی نے تو برباد مجھ کو کیا ہے
ارے رونے والے مری بےکسی پر

مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آرہی ہے تری سادگی پر

نمی اس میں اشکوں کی شامل ہے زاہد!
مجھے ناز ہے اپنی تردامنی پر

ابھی مجھ کو پینے کا ہے ہوش ساقی!
یہ اک داغ ہے دامنِ بے خودی پر


سبحان اللہ سبحان اللہ ، کیا کہنے جناب ، کیا عمدہ کلام منتخب کیا ہے ، سدا خوش رہیں کاشفی صاحب ، واہ واہ واہ
 

کاشفی

محفلین
سخنور صاحب۔۔۔
خوشی جی۔۔۔۔
شاہ صاحب۔۔۔
اور
م م مغل صاحب۔۔

آپ سب کی حوصلہ افزائی اور پسندیدگی کا بیحد شکریہ۔۔۔
 

مغزل

محفلین
شکریہ کاشفی صاحب حوصلہ افزائی کیا ہے ، آپ کی وجہ کر تو ہمیں حوصلہ ملتا ہے جناب
 
Top