نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اونٹ پہاڑ ے کے نیچے - نادِر خان سَرگِروہ، مقیم مکہ مکرمہ

    طنز و مزاح۔۔۔۔۔چند محاوروں کو اپنے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ اونٹ پہاڑ ے کے نیچے (نادِر خان سَرگِروہ ۔۔۔مقیم مکہ مکرمہ) دو اےکم دو ، دو دُونی چار ، دو تِیا چھ ، دو چوک۔۔۔۔کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں۔(یوں بھی میں کبھی کبھی ہی سوچتا ہوں) کہ ہمیں یہ پہاڑے کیوںکر رٹائے جاتے...
  2. کاشفی

    تیز ہوا میں دیپ جلانا مشکل ہے - معظم سعید

    غزل (معظم سعید - کراچی پاکستان) تیز ہوا میں دیپ جلانا مشکل ہے دل کو لیکن یہ سمجھانا مشکل ہے شب بھر گلیاں شور مچاتی رہتی ہیں اب آنکھوں میں خواب سجانا مشکل ہے زرد شجر کے ہر پتّے پر لکھا ہے اس موسم میں جشن منانا مشکل ہے بند گلی کا رستہ ہے اور تنہا میں اب یہ بستی چھوڑ کے جانا مشکل...
  3. کاشفی

    ہائیکو - آفتاب مضطر

    ہائیکو - آفتاب مضطر اردو ادب کی مختلف اصنافِ سخن میں سب سے نیا اضافہ جاپان کی سہ مصرعی نظم "ہائیکو" ہے۔ ابتدا میں ہائیکو نگاری مقبولیت کے لحاظ سے ناکام ہوتی نظر آئی لیکن جناب محترم محشر بدایونی، راغب مراد آبادی اور محسن بھوپالی جیسے معتبر ترین شعرا نے اس صنعفِ سخن کو اپنایا تو بہت سے دوسرے...
  4. کاشفی

    جنہیں شعورِ فنِ منزل آشنائی رہا - راشد آزر

    غزل (راشد آزر) جنہیں شعورِ فنِ منزل آشنائی رہا اُنہی کے دل میں گمانِ شکستہ پائی رہا سُراغ پا نہ سکے آپ اپنی منزل کا وہ کم سواد، جنہیں شوقِ رہ نمائی رہا ہمارے دامنِ عصیاں میں‌ مُنہ چھپاتے رہے وہ لوگ، جن کو بڑا زعمِ پارسائی رہا فراق و وصل کی منزل سے ہم گزر تو گئے رسائی میں‌ بھی،...
  5. کاشفی

    زخم اِتنے ہیں کیا دیکھائیں ہم - ذرّہ حیدرآبادی

    غزل (ذرّہ حیدرآبادی - حیدرآباد دکن) زخم اِتنے ہیں کیا دیکھائیں ہم دل یہ کرتا ہے بھول جائیں ہم پیار اُن سے ہمیشہ رہتا ہے جِن سے دھوکا ہمیشہ کھائیں ہم آگئی ہے بہار گلشن میں تم بھی آؤ تو مُسکرائیں ہم آج ہم سے مِلو اکیلے میں دل کی حالت تمہیں بتائیں ہم آؤ اُس کو بھی بے وفا بولیں...
  6. کاشفی

    مدح حضرت مولا علی علیہ السلام - عیش بدایونی

    اللھم صلی علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدح حضرت مولا علی علیہ السلام شب ہجرت علی نے بھی عجب خدمت گزاری کی مَلک بھی جس سے حیراں ہو گئے وہ جاں نثاری کی تمہارا اے علی مرتضی واللہ کیا کہنا ادا کرتے ہیں یوں‌ حقِ اُخّوت واہ کیا کہنا جو بندے تابع حکم شہ ابرار...
  7. کاشفی

    اب تو جنت بھی نام کر بیٹھے - ذرّہ حیدر آبادی

    غزل اب تو جنت بھی نام کر بیٹھے اُن کو اپنا غلام کر بیٹھے ہم نے پوچھا نہیں مذہب کیا ہے حُسن دیکھا سلام کر بیٹھے اب تو آئیں گے دوست دشمن بھی گھر کے رستے کو عام کر بیٹھے تم محبت کسی سے کیا کرتے تم تو اُلفت کے دام کر بیٹھے اب اُجالے بھٹک رہے ہوں گے اُن کی ذُلفوں میں شام کر بیٹھے...
  8. کاشفی

    عشق ہی پھیلا ہوا ہے رنگ سے تصویر تک - شمیم روش

    غزل (شمیم روش - کراچی پاکستان) عشق ہی پھیلا ہوا ہے رنگ سے تصویر تک حسن کیا ہے بس یہی نا، زلف سے زنجیر تک کون جانے کب سیاہی پھیل جائے آنکھ میں اور ہوا لے جائے کاغذ سے مری تحریر تک زندگی جب ختم ہونے جارہی تھی تب کھلا میں ہی میں پھیلا ہوا تھا خواب سے تعبیر تک یہ نہ ہو ترتیب دے لوں...
  9. کاشفی

    اک دن مجھ سے دیواروں نے یہ پوچھا - معظم سعید

    آنسو، کرکٹ اور سناٹا (معظم سعید - کراچی پاکستان) معظم سعید صاحب پاکستان سے باہر برسرروزگار ہیں۔۔۔۔ اک دن مجھ سے دیواروں نے یہ پوچھا "تم کمرے میں تنہا کیوں ہو" میں نے ہنس کر ٹال دیا تھا لیکن شاید دیواروں نے مجھ کو تنہا چُپکے چُپکے روتے دیکھ لیا تھا مجھ سے پوچھا "پھر تم اکثر روتے...
  10. کاشفی

    کوئی بھی کسی سے بھی بیش و کم نہیں ہوتا - جاوید بدایونی

    غزل کوئی بھی کسی سے بھی بیش و کم نہیں ہوتا کاش اس زمانے میں یہ ستم نہیں ہوتا مِلتیں بیٹیاں اُس کو گر بجائے بیٹوں کے بوڑھے باپ کا دیدہ روز نم نہیں ہوتا بیکسوں پہ تم اتنا ظلم گر نہیں ڈھاتے اُن کے ہاتھ میں شاید آج بم نہیں ہوتا مغربی ممالک میں اس کو بیٹا کہتے ہیں جس کو ماں کے مرنے کا...
  11. کاشفی

    رازِ ہستی ہے عقدہء مشکل - جاذب دہلوی

    غزل رازِ ہستی ہے عقدہء مشکل عشق میرا ابھی نہیں کامل وہ سمندر ہے موجزن دل میں ہائے جس کا کوئی نہیں ساحل جارہا ہوں کہاں خدا جانے پوچھتا ہوں ہر ایک سے منزل میری ہستی ہے وجہ ناکامی ورنہ ہے کون بیچ میں حائل کامیابی ہے عین ناکامی میرا حاصل ہے ماتمِ حاصل ایک افسانہ رہ گیا جاذب...
  12. کاشفی

    وہی طول ہے، وہی اضطراب، وہی نزول عذاب کا - عطا اللہ کلیم

    غزل وہی طول ہے، وہی اضطراب، وہی نزول عذاب کا مجھے اپنے روزِ سیاہ پر ہے گمان روزِ حساب کا دل و جان و صبر و قرار، مطربِ عشق سب تری نذر ہیں ابھی ایک نغمہ سُنا ہے میں نے ترے طلسمی رباب کا ہو محیطِ دہر میں سر بلند کہ ڈر فنا کا فضول ہے ہے نثار شوکتِ یک دقیقہ پہ سر ہر ایک حباب کا یہی...
  13. کاشفی

    داغ تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا - داغ دہلوی

    غزل تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا تجھ پر آتا ہے مجھے پیار یہ کیا جانتا ہوں کہ میری جان ہے تو اور میں جان سے بیزار یہ کیا پاؤں‌ پر اُنکے گِرا میں‌ تو کہا دیکھ ہُشیار خبردار یہ کیا تیری آنکھیں تو بہت اچھی ہیں سب انہیں کہتے ہیں بیمار یہ کیا کیوں مرے قتل سے انکار یہ کیوں اسقدر ہے...
  14. کاشفی

    داغ حمدِ رب العالمین - داغ دہلوی

    حمدِ رب العالمین سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا احمدصلی اللہ علیہ وسلم رسول تیرا مصحف کلام تیرا ہے...
  15. کاشفی

    داغ تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو - داغ دہلوی

    غزل تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو دل میں سو شکوہء غم پوچھنے والا ایسا کیا کہوں حشر کے دن یہ تو بتا دو مجھ کو مجھ کو ملتا ہی نہیں‌ مہر و محبت کا نشان تم نے دیکھا ہو کسی میں تو بتا دو مجھ کو ہمدموں اُن سے میں‌کہہ جاؤنگا حالت دل کی دو...
  16. کاشفی

    داغ بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیں - داغ دہلوی

    غزل (نواب مرزا خان داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیں کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بَن کے بیٹھے ہیں دلوں‌ پر سیکڑوں سّکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیں کلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں الہٰی کیوں نہیں‌ اُٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے ہمارے سامنے...
  17. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    احمقوں کا خاندان کہتے ہیں کہ “کھوئے ہوئے وقت” نے “جہالت” سے شادی کی۔۔اُنکے ہاں “خیال” نامی بیٹا پیدا ہوا۔۔جس نے “شباب” سے شادی کی۔۔اور مندرجہ ذیل بچے ہوئے۔۔۔ “مجھے نہیں معلوم”۔۔”میں‌ نہیں خیال کرتا”۔۔”کسے توقع تھی”۔۔۔ “کسے توقع تھی” نے “بےپروائی” سے بیاہ کیا۔۔۔۔ان کے ہاں یہ بچے ہوئے۔۔۔...
  18. کاشفی

    نظم - مُجھ کو آپ سے شکوہ ہے - سلام مچھلی شہری

    مُجھے کچھ شکائتیں ہیں، پتہ نہیں‌ کس سے، میں آج کچھ لکھ رہا ہوں، معلوم نہیں‌ کیا، کیوں۔؟ پہلے جب دل رکھ ہی لیا تھا آپ نے پھر دل کیوں‌ توڑا؟ پہلے جب کچھ آس دلائی، آپ نے پھر منہ کیوں ‌موڑا؟ مجھ کو آپ سے شکوہ ہے مجھ کو آپ سے شکوہ ہے۔ میں نے آپ کو خط بھیجا تھا آپ نے بھی زحمت کی تھی میں نے بھی...
  19. کاشفی

    بات کرتے ہی یہ کہہ اٹھتے ہو منشا کیا ہے - اختر بریلوی

    نہیں معلوم کہ اس عشق میں‌ ہونا کیا ہے بات کرتے ہی یہ کہہ اُٹھتے ہو منشا کیا ہے؟ بات کرنے کا تمہارے یہ طریقہ کیا ہے؟ ضد پر آجاؤں تو جی بھر کے ستا کر چھوڑوں تو نے اے چھیڑنے والے مجھے سمجھا کیا ہے؟ اس نے عرضِ تمنا کی اجازت دے دی میں ہوں اس سوچ میں‌ یارب کہ تمنا کیا ہے؟ درد تو بخش دیا خیر...
  20. کاشفی

    چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں انگلیاں اُس کی جانتا ہوں - شاد عارفی

    غزل چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوں مگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں فریبِ تخیل سے میں ایسے ہزار نقشے جما چکا ہوں حقیقتاََ میرا سر ہے زانو پہ تیرے یا خواب دیکھتا ہوں پیام آیا ہے تم مکاں سے کہیں نہ جانا میں آرہا ہوں میں اس عنایت کو سوچتا...
Top