چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں انگلیاں اُس کی جانتا ہوں - شاد عارفی

کاشفی

محفلین
غزل

چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوں
مگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں

فریبِ تخیل سے میں ایسے ہزار نقشے جما چکا ہوں
حقیقتاََ میرا سر ہے زانو پہ تیرے یا خواب دیکھتا ہوں

پیام آیا ہے تم مکاں سے کہیں نہ جانا میں آرہا ہوں
میں اس عنایت کو سوچتا ہوں خدا کی قدرت کو دیکھتا ہوں

ہر ایک کہتا ہے اُوس میں سو کے اپنی حالت خراب کر لی
کسی کو اس کی خبر نہیں ہے کہ رات بھر جاگتا رہا ہوں

حسیں ہوتم، آپ کی بلا سے، پری ہو تم، آپ کی دُعا سے
جواب ملتا ہے سخت لہجے میں اُن سے جو بات پوچھتا ہوں

ہلال اور بدر کے تقابل نے محوِ حیرت بنا دیا ہے
وہ عید کا چاند دیکھتے ہیں میں اُن کی صورت کو دیکھتا ہوں

شراب ساقی صراحی میخانہ قابل قدر ہوں، مجھے کیا
کسی کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں سے پی کے مخمور ہو رہا ہوں

میں‌کیا کہوں‌ گا، وہ کیا سنیں‌گے، وہ کیا کہیں‌گے، میں کیا سنوں‌گا
اسی تذبذب میں‌ شاد میں اُن کے در پہ ڈر ڈر کے جا رہا ہوں

(شاد عارفی - 1929)
 

کاشفی

محفلین
م م مغل صاحب ۔۔۔اور محمد احمد صاحب۔۔۔آپ دونوں کا بیحد شکریہ۔۔۔۔ خوش رہیں۔۔۔
 
کاشفی جی! بہت شکریہ اچھی پوسٹ ہے۔
(پانچویں شعر میں "حسین ہو تم" کی بجائے "حسیں ہو تم" ہوگا ذرا چیک کر کے درست کر دیں)
 

نوید صادق

محفلین
غالب کے شعر نام سے میرے سنا کے دیکھ
پھر اعتبارَ ناقدَ فن آزما کے دیکھ

(شاد عارفی)

جھپٹ پڑیں نہ کہیں دن میں مشعلیں لے کر
عوام کو نہ سجھاؤ کہ روشنی کم ہے

یہ شاعرانِ غلط ہیں، کہیں گے اک دن شاد
ہمیں چراغ دکھاؤ کہ روشنی کم ہے

(شاد عارفی)
 

کاشفی

محفلین
محسن حجازی صاحب، زین صاحب، فرخ منظور صاحب، نایاب صاحب اور الف عین صاحب۔ آپ تمام احباب کا خوبصورت غزل پسند کرنے کے لیئے بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
غزل
(شاد عارفی - 1929)
چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوں
مگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں

فریبِ تخیل سے میں ایسے ہزار نقشے جما چکا ہوں
حقیقتاَ میرا سر ہے زانو پہ تیرے یا خواب دیکھتا ہوں

پیام آیا ہے،تم مکاں سے کہیں نہ جانا، میں آرہا ہوں
میں اس عنایت کو سوچتا ہوں، خدا کی قدرت کو دیکھتا ہوں

ہر ایک کہتا ہے اُوس میں سو کے اپنی حالت خراب کر لی
کسی کو اس کی خبر نہیں ہے کہ رات بھر جاگتا رہا ہوں

حسیں ہوتم، آپ کی بلا سے، پری ہو تم، آپ کی دُعا سے
جواب ملتا ہے سخت لہجے میں اُن سے جو بات پوچھتا ہوں

ہلال اور بدر کے تقابل نے محوِ حیرت بنا دیا ہے
وہ عید کا چاند دیکھتے ہیں، میں اُن کی صورت کو دیکھتا ہوں

شراب، ساقی، صراحی، میخانہ قابل قدر ہوں، مجھے کیا
کسی کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں سے پی کے مخمور ہو رہا ہوں

میں‌کیا کہوں‌ گا، وہ کیا سنیں‌گے، وہ کیا کہیں‌گے، میں کیا سنوں‌گا
اسی تذبذب میں‌ شاد میں اُن کے در پہ ڈر ڈر کے جا رہا ہوں
 
Top