ہر حال میں ان کی موجِ کرم تھی چارہ گرِ ادبار و الم
حد سے گزری جب تلخی ء غم ، لطفِ شہِ بطحا اور ہوا

اندازِ پذیرائی سے ہوا رنگ ان کی محبت کا گہرا
رحمت کے دریچے اور کھلے ، مدحت کا تقاضا اور ہوا
حفیظ تائب
 

کاشفی

محفلین
میر کے دین و مذہب کا کیا پوچھتے ہو تم، اس نے تو
قشقہ کھینچا ، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا

(میر تقی میر)
 

کاشفی

محفلین
جگر کسی کا جلے دل جلے دماغ جلے
وہ کہہ گئے ہیں کہ آئیں گے ہم چراغ جلے

(غلام مصطفیٰ خان یک رنگ)
 

محمداحمد

لائبریرین
فقیرِ راہ گزر تھے کسی کو کیا دیتے
مگر یہی کہ وہ ملتا تو ہم دعا دیتے
گھروں میں آگ لگا کر بھی کیا ملا خالد
دلوں میں آگ لگی تھی اُسے بجھا دیتے

خالد علیگ
 

حسان خان

لائبریرین
کہنے کو اہلِ علم کی کوئی کمی نہیں
لیکن خود اپنی فکر، خود اپنی نظر کہاں
(جگر مرادآبادی)

در ملکِ دلم شاہِ جنوں لائے ہیں تشریف
اے عقل و خرد اب چلو باہر کو سدھارو
(شاہ نیاز بریلوی)
 

کاشفی

محفلین
نہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے
کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا

(قائم چاند پوری)
 
Top