کاشفی کی پسندیدہ شاعری

  1. کاشفی

    رئیس امروہوی صبحِ نَو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے - رئیس امروہوی

    غزل (رئیس امروہوی) صبحِ نَو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے اور ہوں گے جو ہلاکِ شبِ ہجراں ہوں گے صدمہء زیست کے شکوے نہ کر اے جانِ رئیس بخدا یہ نہ ترے درد کے درماں ہوں گے میری وَحشت میں ابھی اور ترقی ہوگی تیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے آزمائے گا بہرحال ہمیں جبرِ حیات ہم ابھی اور اسیرِ غمِ...
  2. کاشفی

    جاڑے - ساغر خیامی

    جاڑے (ساغر خیامی) ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے دو بجے دن کو اذاں دیتے تھے مرغ سارے وہ گھٹا ٹوپ نظر آتے تھے دن کو تارے سرد لہروں سے جمے جاتے تھے مے کے پیالے ایک شاعر نے کہا چیخ کے ساغر بھائی عمر میں پہلے پہل چمچے سے چائے کھائی آگ چھونے سے بھی ہاتھوں میں نمی لگتی تھی سات کپڑوں میں بھی...
  3. کاشفی

    مجذوب ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی - خواجہ عزیز الحسن مجذوب

    غزل (خواجہ عزیز الحسن مجذوب) ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی ایک تم سے کیا محبت ہو گئی ساری دنیا سے عداوت ہو گئی یاس ہی اس دل کی فطرت ہوگئی آرزو جو کی وہ حسرت ہو گئی جو مری ہونی تھی حالت ہو گئی خیر اک دنیا کو عبرت ہو گئی دل میں وہ داغوں کی کثرت ہو گئی رُونما اک شان...
  4. کاشفی

    مت پوچھ دل کی باتیں وہ دل کہاں ہے ہم میں - بیدل دہلوی

    غزل (ابو المعانی مرزا عبدالقادر بیدل دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ) مت پوچھ دل کی باتیں وہ دل کہاں ہے ہم میں اُس تخم بے نشاں کا حاصل کہاں ہے ہم میں موجوں کی زد میں آئی جب کشتیِ تعیّن بحرِ فنا پکارا ساحل کہاں ہے ہم میں خارج نے کی ہے پیدا تمثال آئینے میں جو ہم سے ہے نمایاں داخل کہاں ہے ہم...
  5. کاشفی

    ساغر صدیقی جب سے دیکھا پَری جمالوں کو - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) جب سے دیکھا پَری جمالوں کو مَوت سی آ گئی خیالوں کو دیکھ تشنہ لبی کی بات نہ کر آگ لگ جائے گی پیالوں کو پھر اُفق سے کِسی نے دیکھا ہے مُسکرا کر خراب حالوں کو فیض پہنچا ہے بارہا ساقی تیرے مستوں سے اِن شوالوں کو دونوں عالم پہ سرفرازی کا ناز ہے تیرے پائمالوں کو اس اندھیروں کے عہد...
  6. کاشفی

    ماہر القادری وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جارہے ہیں - ماہر القادری

    غزل (ماہر القادری) وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جارہے ہیں فریبِ تمنّا دیے جارہے ہیں ترا نام لے کر جیے جارہے ہیں گناہِ محبت کیے جارہے ہیں مرے زخمِ دل کا مقدر تو دیکھو نگاہوں سے ٹانکے دیے جارہے ہیں نہ کالی گھٹائیں، نہ پھولوں کا موسم مگر پینے والے پیے جارہے ہیں تری محفلِ ناز سے اُٹھنے والے نگاہوں میں...
  7. کاشفی

    بیتے ہوئے دن خود کو جب دھراتے ہیں - وسیم بریلوی

    غزل (وسیم بریلوی) بیتے ہوئے دن خود کو جب دھراتے ہیں
  8. کاشفی

    فنا نظامی کانپوری گھر ہوا، گلشن ہوا، صحرا ہوا - فنا نظامی کانپوری

    غزل (فنا نظامی کانپوری) گھر ہوا، گلشن ہوا، صحرا ہوا ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا غیرتِ اہلِ چمن کو کیا ہوا چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا میں تو پہنچا ٹھوکریں کھاتا ہوا منزلوں پر خضر کا چرچا ہوا حُسن کا چہرہ بھی ہے اُترا ہوا آج اپنے غم کا اندازہ ہوا غم سے نازک ضبطِ غم کی بات ہے یہ بھی دریا ہے مگر...
  9. کاشفی

    فنا نظامی کانپوری ڈوبنے والے کی میّت پر لاکھوں رونے والے ہیں - فنا نظامی کانپوری

    غزل (فنا نظامی کانپوری) ڈوبنے والے کی میّت پر لاکھوں رونے والے ہیں پھوٹ پھوٹ کر جو روتے ہیں وہی ڈبونے والے ہیں کس کس کو تم بھول گئے ہو غور سے دیکھو بادہ کشو شیش محل کے رہنے والے پتھر ڈھونے والے ہیں سونے کا یہ وقت نہیں ہے، جاگ بھی جاؤ بے خبرو ورنہ ہم تو تم سے بھی زیادہ چین سے سونے والے ہیں آج...
  10. کاشفی

    مجھے بجھا دے میرا دور مختصر کر دے - وسیم بریلوی

    غزل (وسیم بریلوی) مجھے بجھا دے میرا دور مختصر کر دے مگر دیے کی طرح مجھ کو معتبر کر دے میری تلاش کو بے نام و بے سفر کر دے میں تیرا راستہ چھوڑوں تو در بدر کر دے اور بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کی عمر ہی کتنی میں تیری رات ہوں آجا میری سحر کر دے جدائیوں کی یہ راتیں تو کاٹنی ہوں گی کہانیوں کو کوئی کیسے...
  11. کاشفی

    میں اِس اُمید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا - وسیم بریلوی

    غزل (وسیم بریلوی) میں اِس اُمید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا اب اس کے بعد میرا امتحان کیا لے گا یہ ایک میلہ ہے وعدہ کسی سے کیا لے گا ڈھلے گا دن تو ہر ایک اپنا راستہ لے گا میں بُجھ گیا تو ہمیشہ کو بُجھ ہی جاؤں گا کوئی چراغ نہیں ہوں جو پھر جلا لے گا کلیجہ چاہیئے دشمن سے دشمنی کے لئے جو بے عمل ہے...
  12. کاشفی

    وہ رُلا کر ہنس نہ پایا دیر تک - نواز دیوبندی

    غزل (نواز دیوبندی) وہ رُلا کر ہنس نہ پایا دیر تک جب میں رو کر مُسکرایا دیر تک بھولنا چاہا کبھی اُس کو اگر اور بھی وہ یاد آیا دیر تک خودبخود بےساختہ میں ہنس پڑا اُس نے اِس درجہ رُلایا دیر تک بھوکے بچوں کی تسلّی کے لیئے ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک گُنگُناتا جا رہا تھا ایک فقیر دھوپ رہتی ہے نہ...
  13. کاشفی

    ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز) ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے اپنے جینے کا انداز نیرالا ہے آہٹ سی محسوس ہوئی ہے آنکھوں کو شاید کوئی آنسو آنے والا ہے چاند کو جب سے اُلجھایا ہے شاخوں نے پیڑ کے نیچے بےترتیب اُجالا ہے خوشبو نے دستک دی تو احساس ہوا گھر کے در و دیوار پہ کتنا جالا ہے
  14. کاشفی

    اتنا بھی کرم اُن کا کوئی کم تو نہیں ہے - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز - رام پور، ہندوستان) اتنا بھی کرم اُن کا کوئی کم تو نہیں ہے غم دے کہ وہ پوچھے ہیں کوئی غم تو نہیں ہے جنت کا جو نقشہ مجھے دکھلایا گیا تھا ایسا ہی بےعالم یہ وہ عالم تو نہیں ہے حالات میرے اِن دِنوں پیچیدہ بہت ہیں زلفوں میں کہیں تیری کوئی خم تو نہیں ہے سینے سے ہٹاتا ہی نہیں ہاتھ وہ...
  15. کاشفی

    آپ ہم سے اگر نہ بولیں گے - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز) آپ ہم سے اگر نہ بولیں گے اپنی پلکوں کو ہم بھگولیں گے پہلے اک اک لفظ تولیں گے پھر کہیں ہم زبان کھولیں گے جب وہ احساس مسکرائے گا آئینے سے لپٹ کے رو لیں گے جب وہ لفظوں کا جال پھینکے گا لوگ میرے خلاف بولیں گے دل کے زخموں کی ہم کو فکر نہیں ہم انہیں آنسوؤں سے دھولیں گے بات جنت کی...
  16. کاشفی

    بہت خوبصورت ہو تم - طاہر فراز

    بہت خوبصورت ہو تم (طاہر فراز) بہت خوبصورت ہو تم کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے تو مجھ کو خُدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہو تم ہے پھولوں کی ڈالی یہ باہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹیں ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا...
  17. کاشفی

    منظر بھوپالی طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے - منظر بھوپالی

    غزل (منظر بھوپالی) طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے عکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرنا آپ سے بہت آگے، نقشِ پا ہمارا...
  18. کاشفی

    منظر بھوپالی جس کو بھی آگ لگانے کا ہُنر آتا ہے - منظر بھوپالی

    غزل (منظر بھوپالی) جس کو بھی آگ لگانے کا ہُنر آتا ہے وہی ایوانِ سیاست میں نظر آتا ہے خالی دامن ہیں یہاں پیڑ لگانے والے اور حصے میں لٹیروں کے ثمر آتا ہے یاد آجاتی ہے پردیس گئی بہنوں کی جھُنڈ چڑیوں کا جب آنگن میں اُتر آتا ہے اَنگنت سال کا جلتا ہوا بوڑھا سورج جانے کیوں روز سویرے میرے گھر آتا ہے
  19. کاشفی

    منظر بھوپالی سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا - منظر بھوپالی

    غزل (منظر بھوپالی) سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا جسے طلب تھی اُسی کی طرف نہیں دیکھا سبھی کو دُکھ تھا سمندر کی بیقراری کا کسی نے مُڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا جو آئینے سے ملا آئینے پہ جھنجھلایا کسی نے اپنی کمی کی طرف نہیں دیکھا سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم کہ پھر کسی نے کسی کی طرف نہیں...
  20. کاشفی

    منظر بھوپالی گاندھی جی اب دیکھ لیں آ کر اپنا ہندوستان - منظر بھوپالی

    گاندھی جی اب دیکھ لیں آ کر اپنا ہندوستان (منظر بھوپالی) گاندھی جی اب دیکھ لیں آ کر اپنا ہندوستان کیسے کیسے آپ کے چیلے ہوگئے بےایمان اب تو اُلٹا پاٹ پڑھائیں آپ کے تینوں بندر جھوٹ ہی بولو،جھوٹ ہی دیکھو، ناچو جھوٹ کو سن کر مکاری ہے، عیّاری ہے، اس یُگ کی پہچان گاندھی جی اب دیکھ لیں آ کر اپنا...
Top