رئیس امروہوی صبحِ نَو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے - رئیس امروہوی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 13, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (رئیس امروہوی)
    صبحِ نَو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے
    اور ہوں گے جو ہلاکِ شبِ ہجراں ہوں گے

    صدمہء زیست کے شکوے نہ کر اے جانِ رئیس
    بخدا یہ نہ ترے درد کے درماں ہوں گے

    میری وَحشت میں ابھی اور ترقی ہوگی
    تیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے

    آزمائے گا بہرحال ہمیں جبرِ حیات
    ہم ابھی اور اسیرِ غمِ دوراں ہوں گے

    عاشقی اور مراحل سے ابھی گزرے گی
    امتحاں اور محبت کے مری جاں ہوں گے

    قلب پاکیزہ نہاد و دل صافی دے گا
    آئینہ ہم کو بنایا ہے تو حیراں ہوں گے

    صدقہء تیرگی شب سے گلہ سنج نہ ہو
    کہ نئے چاند اسی شب سے فروزاں ہوں گے

    آج ہے جبر و تشدد کی حکومت ہم پر
    کل ہمیں بیخ کُنِ قیصر و خاقاں ہوں گے

    وہ کہ اوہام و خرافات کے ہیں صیدِ زبوں
    آخر اس دامِ غلامی سے گریزاں ہوں گے

    صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی
    نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے
     
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    تعارفِ شاعر:
    سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی۔ برِ صغیر کے بلند پایہ شاعر، ممتاز صحافی اور ماہررموزِ علوم تھے۔ 12 ستمبر 1914 ء کو یوپی کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 19 اکتوبر 1947ء کو ہجرت کر کے کراچی آ گئے اور روزنامہ جنگ سے منسلک ہو گئے۔
    رئیس امروہوی کی تصانیف درج ذیل ہیں:
    1۔ مثنوی لالہ صحرا
    2۔ پسِ غبار
    3۔ قطعات حصہ اول و دوم
    4۔ حکایت
    5۔ بحضرتِ یذداں
    6۔ انا من الحسین
    7۔ ملبوسِ لباسِ بہار
    8۔ آثار
    رئیسؔ امروہوی جون ایلیا اور سید محمد تقی کے بڑے بھائی تھے۔ 22 ستمبر 1988ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    یہ کیسا گیت ہے اے نَے نوازِ عالمِ ہُو
    کہ نے سے راگ کے بدلے ٹپک رہا ہے لہو
    بہارِ صبح کے نغمہ گروں کو کیا معلوم
    گزر گیا گل و غنچہ پہ کیا عذابِ نمو
     

اس صفحے کی تشہیر