غزل
(جہانِ اُستادِ بلبل ہندوستان مقرب الخاقان زمن اُستاد السلطان ِ دکن فصیح الملک دبیر الدولہ ناظم یار جنگ نواب میرزا خاں صاحب داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ )
محوِ قدِ یار ہو گئے ہم
سُولی پہ چڑھے تو سُو گئے ہم
ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم
جب آنکھ کھُلی تو سُو گئے ہم...
غزل
(جہانِ اُستادِ بلبل ہندوستان مقرب الخاقان زمن اُستاد السلطان ِ دکن فصیح الملک دبیر الدولہ ناظم یار جنگ نواب میرزا خاں صاحب داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ )
حال دل کا آشکارا ہوگیا
یہ ہمارا تھا ، تمہارا ہوگیا
راہ سے لیلٰی کی جو ذرّہ اُڑا
آنکھ کا مجنوں کی تارا...
غزل
(شمس ولی اللہ ولی دکنی)
خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ میں غلام کرتے ہیں
دیکھ خوباں کو وقت ملنے کے
کس ادا سوں سلام کرتے ہیں
کیا وفا دار ہیں کہ ملنے میں
دل سوں سب رام رام کرتے ہیں
کم نگاہی سوں دیکھتے ہیں ولے
کام اپنا تمام کرتے ہیں
کھولتے ہیں جب اپنی زلفاں کو
صبح عاشق کوں...
غزل
(آنند نرائن ملاّ)
چُھپ کے دنیا سے سوادِ دلِ خاموش میں آ
آ یہاں تو مری ترسی ہوئی آغوش میں آ
اور دنیا میں ترا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں
اے مرے دل کی تمنا لب خاموش میں آ
مئے رنگیں! پس مینا سے اشارے کب تک
ایک دن ساغر رندان بلا نوش میں آ
عشق کرتا ہے تو پھر عشق کی توہین نہ کر...
غزل
(تلوک چند محروم)
اس کا گلہ نہیں کہ دُعا بے اثر گئی
اک آہ کی تھی وہ بھی کہیں جا کے مر گئی
اے ہم نفس، نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موجِ نسیم تھی، اِدھر آئی، اُدھر گئی
دامِ غمِ حیات میں الجھا گئی اُمید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی
اس زندگی سے ہم کو نہ دنیا ملی نہ دین
تقدیر کا...
غزل
(سرور عالم راز سرور)
دِلوں کے درمیاں جھوٹی مروّت آہی جاتی ہے
ہو اُلفت خام تو بوئے سیاست آہی جاتی ہے
گِلا کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا
“خدا جب حُسن دیتا ہے، نزاکت آہی جاتی ہے“
یہ ہے اک حادثہ یا حسن کی معجز نمائی ہے؟
نظر اُٹھتے ہی اُس کی اِک قیامت آہی جاتی ہے
یہ راہِ عشق...