نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ضبط کا حق ادا نہ ہو جائے - راز رامپوری

    غزل (راز رامپوری) ضبط کا حق ادا نہ ہو جائے وہ ستمگر خفا نہ ہو جائے عشق کی بیکسی ارے توبہ حُسن درد آشنا نہ ہو جائے دیکھ اے جذبِ دل وہ پردہ نشیں کہیں جلوہ نُما نہ ہو جائے شکوہ کرنے چلا تو ہوں لیکن شکرِ نعمت ادا نہ ہو جائے کیوں پشیماں ہو تم جفاؤں پر دل کو کچھ حوصلہ نہ ہو...
  2. کاشفی

    شیدا اور مجی - از: وسعت اللہ خان

    شیدا اور مجی از: وسعت اللہ خان (بی بی سی اردو) شیدا: پہلے تو مجھے صرف شبہہ تھا۔ اب تو اسکی پہلی تقریر سن کر پکا پکا یقین ہوگیا ہے کہ وہ اندر سے مسلمان ہی ہے۔ اسی لیے وہ گوانتانامو بھی ختم کررہا ہے۔۔۔ مجی: مجھے پتہ ہے کہ تو کیوں کہہ رہا ہے۔ اصل میں تو بارک کے ساتھ حسین لگنے سے دھوکہ کھا گیا...
  3. کاشفی

    اردو نثر پارے

    میں دل چاہتا ہوں ملایا کتاب سے اقتباس۔(اردو ترجمہ) میں دل چاہتا ہوں اے خدا مجھے لعل و جواہر کے خزانوں کی ضرورت نہیں مجھے حکومت کی ضرورت نہیں۔ میں عزت نہیں چاہتا۔اگر مجھے دل مل جائے تو میں اپنی زندگی کو ہر چند کہ وہ تیری نظر میں‌ ناکارہ ہے تیرے حضور میں پیش کرونگا ۔میں دل چاہتا ہوں ۔۔دل ایک...
  4. کاشفی

    اردو نثر پارے

    میرا دل ہندی کتاب سے اقتباس۔ (اردو ترجمہ) میرا دل اُس بھوکی چڑیا کی طرح بےقرار ہے جو دانہ ڈھونڈتی ہے اور نہیں پاتی۔۔ میرا دل اس پرند کی طرح ہے جو بھوکا لَوٹتا ہے اور اپنا آشیانہ پانی میں ڈوبا ہوا پاتا ہے! میرا دل، سیب کا درخت ہے، جسے پالا مار گیا ہے! میرا دل، سیپ ہے جس سے موتی نکال لیا گیا ہے...
  5. کاشفی

    اردو نثر پارے

    عشق عاشق، انسان اور کامل، کمال و جمال کا متلاشی ہے۔عاشق روحانیت اور معنویت کے اس بلند مرکز پر ہوتا ہے جہاں دوسرے لوگ نہیں پہنچ سکتے۔اس عالم سے اوپر ایک اور عالم ہے وہ عالم روحانی ہے اور پاک روحوں کا مسکن ہے وہاں روحانیت معنویت اور عشق کی تجلیاں ہیں اور بس۔ عشق کے لئے تجسس کا سودا اور جستجو کا...
  6. کاشفی

    اردو نثر پارے

    مجھے آپ کالیداس تو نہیں کہیں خوشی جی۔۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے وہ کالیداس نے کہا ہے۔میں نے نہیں۔۔
  7. کاشفی

    اردو نثر پارے

    عورت عورت رنج میں ساتھ دیتی ہے اور راحت کو دوبالا کر دیتی ہے ۔ باعصمت عورت عموماً مغرور اور شوخ ہوتی ہے۔ کیونکہ اسے اپنی عصمت پرناز ہوتا ہے۔ عورت مرد کے لئے بیش بہا نعمت اور خدا ئی برکت ہے۔ عورت نہایت بے تکلفی کے ساتھ شوہر سے ان مشکلات کا شکوہ کرتی ہے جو اسے گھر میں پیش آتی ہے۔ لیکن اگر اُسے...
  8. کاشفی

    حسّیات - اصغر حسین خاں نظیر

    شکریہ محترم سخنور صاحب۔۔
  9. کاشفی

    تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں - جلال الدین اکبر

    کاشفی کی پسندیدہ غزل جیسی معمولی غزلیں :) ۔۔ میں نے جو غزل جلال الدین اکبرصاحب کی پیش کی ہے ان کا تعلق دور دور تک حیدرآباد سے نہیں۔ مجھے جن کی ڈائری سے یہ غزل ملی ہے وہ اب اس دارِفانی میں موجود نہیں۔ جیتے رہیں خوش رہیں۔۔ہنستے مسکراتے رہیں۔۔
  10. کاشفی

    تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں - جلال الدین اکبر

    شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔ ان شاعر کے بارے میں کچھ حال معلوم نہیں۔۔ اتنا معلوم ہے کہ اردو زباں کے شاعر ہیں میرے خیال میں ان کا مغلیہ خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔۔ ان کا ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیے۔۔ وہ لطف بھی گیا وہ مدارات بھی گئی یعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی ہم چاہتے تھے اور فزوں لطف...
  11. کاشفی

    حسّیات - اصغر حسین خاں نظیر

    حسّیات (اصغر حسین خاں نظیر) ظلم پیہم سے مدعا کیا ہے میرے دل میں ترے سوا کیا ہے لطفِ بیداد ناروا کیا ہے مصرفِ جانِ بے وفا کیا ہے قیدِ ہستی کا کچھ سبب نہ کھلا مجھ گناہ گار کی خطا کیا ہے جبکہ تو خود ہے قادرِ مطلق میری ہستی سے مدعا کیا ہے یہ فضائے بسیط کیسی ہے ماہ و پرویں ہیں کیا سہا کیا...
  12. کاشفی

    اقبال سے

    اقبال سے (شاعر ہمیں معلوم نہیں) اے کہ تری ذات سے قائم ہے ملت کا وقار اے کہ تجھ سے ملتہب ہے زندگانی کا شرار اے کہ تری روح میں ہیں جذبِ فطرت کے رموز اے کہ تیرا دل ہے روشن مثل مہرِ نیم روز اے کہ تیرا فلسفہ ہے جان اسرارِ خودی اے کہ تیرا نغمہ ہے مضراب سازِ زندگی اے کہ تیری لوح دل...
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نعم البدل ہے داغ کا حالی کلامِ داغ ذکرِ حبیب کم نہیں وصلِ حبیب سے (مولانا حالی)
  14. کاشفی

    فیض رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا - فیض

    عمدہ جناب۔۔ بہت ہی خوب۔۔شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔۔
  15. کاشفی

    پھول سونگھے، جانے کیا یاد آگیا!! - اختر انصاری دہلوی

    شکریہ سخنور صاحب غزل کی پسندیدگی کے لیئے اور تصحیح فرمانے کے لیئے۔۔۔۔
  16. کاشفی

    تجدیدِ پیماں - شہید ابن علی

    شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔
  17. کاشفی

    تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں - جلال الدین اکبر

    غزل (جلال الدین اکبر ) تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں مِرا اور کوئی سہارا نہیں تمہیں پاس کچھ بھی ہمارا نہیں مروت نہیں ہے مدارا نہیں یہ مانا بجز صبر چارا نہیں یہاں صبر کا بھی تو یارا نہیں مرے عجز کی انتہا ہوچکی غمِ رشک بھی ناگوارا نہیں جدائی، جدائی کے صدمے نہ پوچھ مرا حال کیا آشکارا نہیں...
Top