غزل
(فیض احمد فیض )
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
آس اُس در سے ٹوٹتی ہی نہیں
جا کے دیکھا ، نہ جا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج اُن کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی...
غزل
(مراتب علی تائب)
وہ رنگ دے تابِ عاشقی میں جو حُسن کو لاجواب کردے
مری نظر میں وہ برق بھر دے جو تجھ کو بھی بے حجاب کر دے
کہاں ہے وہ لطفِ ناز تیرا وہ عشوہء جاں طراز تیرا
نگاہ تیری، جو میرے ہر لفظِ آرزو کو کتاب کردے
مری نظرکو تلاش تیری ، مری نظر تجھ کو ڈھونڈتی ہے
مری حقیقت کے خواب...
غزل
(اختر انصاری دہلوی)
پھول سونگھے، جانے کیا یاد آگیا!!
دل عجب انداز سے لہرا گیا!
اُس سے پوچھے کوئی چاہت کے مزے
جس نے چاہا اور جو چاہا گیا
ایک لمحہ بن کے عیش ِ جاوداں
میری ساری زندگی پر چھا گیا
غنچہء دل ہائے! کیسا غنچہ تھا
جو کِھلا اور کھِلتے ہی مرجھا گیا
رو رہا ہوں...
غزل
(جلیل قدوائی)
دُور اس دنیا سے ہو کوئی جہاں میرے لئے
اس جہاں میں تو نہیں امن و اماں میرے لئے!
اک جہاں جس میں نہ ہو فکر و تردّد کا ہجوم
اک جہاں جس میں نہ ہو شو رو فغاں میرے لئے
اک جہاں جس میں نہ ہو کچھ ما و تُو کا امتیاز
اک جہاں آزادِ قیدِ این و آں میرے لئے
اک جہاں جس میں نہ ہو علم و...
تجدیدِ پیماں
(شہید ابن علی)
پھر حسنِ معذرت پہ یقیں لارہا ہوں آج
پھر چشمِ شرمسار سے شرما رہا ہوں آج
پھر کر رہا ہوں عہدِ محبت پہ اعتماد
پھر جامِ جاں گداز پئے جارہا ہوں آج
پھر کر رہا ہوں یاس پہ تعمیر ِ آرزو
پھر بے طرح فریبِ وفا کھا رہا ہوں آج
پھر چھا رہا ہے عقل پہ افسونِ بے خودی...
غزل
(اختر شیرانی)
چمن بھی ہے، ابر بھی،ہوابھی، شراب بھی، سبزہ زار بھی ہے!
الہٰی توبہ کی خیر، آغوش میں وہ جانِ بہار بھی ہے!
یہ آنکھوں آنکھوں میں تُونےساقی ،خبرنہیں کچھ، ملادیا کیا؟
میں اُس نشیلی نظرکےصدقے،کچھ اِس نشےکااُتاربھی ہے!
نہ جانے مجھ سے خطاہوئی کیا کہ پھرنہ جام شراب بخشا...
غزل
(اختر شیرانی)
وہ دُور سے نقاب اُٹھا کر چلے گئے
آنکھوں پہ بجلیاں سی گرا کر چلے گئے
دامن بچا کے، ہنس کے،لجا کر چلے گئے
کیا کیا ، لحد پہ پھول چڑھا کر چلے گئے
سینے میں اِک تپش سی بسا کرچلے گئے
کیسے مزے کی آگ لگا کر چلے گئے
شاداب ہو سکا...
غزل
(راشد آزر)
سایہ تھا مرا، اور مرے شیدائیوں میں تھا
اک انجمن سا وہ مری تنہائیوں میں تھا
چھنتی تھی شب کو چاندنی بادل کی اوٹ سے
پیکر کا اُس کے عکس سا پرچھائیوں میں تھا
کوئل کی کُوک بھی نہ جواب اُس کا ہوسکی
لہرا ترے گلے کا جو شہنائیوں میں تھا
جس دم مری عمارتِ دل شعلہ...
غزل
(خواجہ محمد الرئوف عشرت لکھنوی)
جہاں میں ڈھونڈنے والے کو کیا نہیں ملتا
مگر ہمیں دلِ بے مُدعا نہیں ملتا
کہاں ہیں وقتِ مصیبت قرار و صبر و شکیب
رفیق کوئی مزاج آشنا نہیں ملتا
بنا رہے ہیں وہ دل میں ہمارے گھر اپنا
کہ اس سے بڑھ کے مکاں دوسرا نہیں ملتا
غرور زندگی مستعار بے جا...
یہ بات بات میں کیا ناز کی نکلتی ہے
دبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے
بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اُس کو
مری زباں سے کروں کیا یہی نکلتی ہے
(داغ دہلوی)
شکریہ خوش رہیں۔۔جیتی رہیں۔۔
لڑکیاں، خواتین ، عورتیں ہر چیز پکا سکتی ہیں۔۔کیونکہ پکانے میں یہ سب سے زیادہ ماہر ہوتی ہیں۔۔لہذا کان پکائیں ، کلیجا پکائیں یا کچھ بھی پکائیں۔۔۔ان کی مر ضی ہوتی ہے۔۔