غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دل چُرا کر نظر چُرائی ہے
لُٹ گئے لُٹ گئے دہائی ہے
ایک دن مل کے پھر نہیں ملتے
کس قیامت کی یہ جدائی ہے
میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرا
نارسائی عجب رسائی ہے
پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوں
پارسائی سی پارسائی ہے
وعدہ کرنے کا اختیار رہا
بات کرنے میں...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سے
چھپائے منہ جو صورت آفریں سے
مرے لاشے پر اُس نے مُسکرا کر
ملیں آنکھیں عدو کی آستیں سے
اثر تک دسترس کیوں کر ہو یارب
دعا نے ہاتھ باندھے ہیں یہیں سے
اُنہوں نے دل لیا ہے مفت وہ بھی
بڑی حجت سے، نفرت سے، نہیں سے...
میرے مرنے کی خبر سُن کر کیا مشکل سے ضبط
اُن کے ہونٹوں پر ہنسی بے اختیار آنے کو تھی
آسماں پھرتا رہا ہے مضطرب وعدے کی رات
کون سی مجھ تک خوشی پروردگار آنے کو تھی
(داغ دہلوی)
کفایت شِعاری
(عشرت لکھنوی)
جو بن جائیں ہم سب کفایت شعار
کریں عادت جز رسی اختیار
نظر آمد و چرخ پر گر رَہے
رَہے یوں نہ فاقہ کشی پر مدار
نچوڑا ہے ہم سب کو اسراف نے
بنایا ہے قلاش و بے روزگار
زیادہ بہت خرچ آمد سے ہے
نئی چال کرتے ہیں کیوں اختیار
پھنسے غیر ملکوں کی اشیا میں...
غزل
(خواجہ محمد الرئوف عشرت لکھنوی)
کمسنی جاتی ہے تو عہدِ شباب آتا ہے
جو مری جان کو آتا ہے عذاب آتا ہے
خط جلاتے ہیں کہ قاصد پہ عتاب آتا ہے
دیکھئے کیا مری قسمت سے جواب آتا ہے
خلوت خاص میں شرمانے کا باعث کیا ہے
بے محل آپ کو اس وقت حجاب آتا ہے
حُسن کی اس کو پرکھ ہے نہ...
غزل
(خواجہ محمد الرئوف عشرت لکھنوی)
ہمارا جذب اُنہیں کھینچ لائے گا گھر سے
یہ کب اُمید تھی پھوٹے ہوئے مقدر سے
شہید کون ہوا قتل گاہ میں خنجر سے
لہو جو روتی ہے تلوار چشم جوہر سے
بلائے جاں ہے بخیلوں کے واسطے دولت
ہلاک ہوگیا قارون کثرت زر سے
وہ دو گھڑی جو عیادت کو میری آئے...
پاکستان کے سیاستدان
(ساغر صدیقی)
گرانی کی زنجیر پاؤں میں ہے
وطن کا مقدر گھٹاؤں میں ہے
اطاعت پہ ہے جبر کی پہرہ داری
قیادت کے ملبوس میں ہے شکاری
سیاست کے پھندے لگائے ہوئے ہیں
یہ روٹی کے دھندے جمائے ہوئے ہیں
یہ ہنس کر لہو قوم کا چوستے ہیں
خدا کی جگہ خواہشیں پوجتے ہیں
یہ ڈالر...
عورت
(ساغر صدیقی)
اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی
ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے
بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی
جبینوں پہ نور مسرت نہ ہوتی
نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی
گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے
فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی
فقیروں کو عرفان ہستی...
خوشی جی مجھے بِلٹ اِن یقین محکم ہے۔۔آپ جتنا زیادہ ہی کیوں نہ بول لیں پھر بھی میری نظروں میں آپ کم ہی بولتی ہیں۔۔ اور کم بولنا ہی اچھی بات ہے۔۔اپنے ھارون بھائی بھی کم ہی بولتے ہیں شمشاد بھائی کی طرح۔۔