نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    کہاں رہ کے توبہ نباہوں الہٰی؟ کہ جنت میں بھی مجمع حور نکلا (داغ)
  2. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    دیکھ کر اُس کو، تعجب ہے، جنابِ ناصح مجھ سے فرماتے ہیں، کیوں دل نہ سنبھالا اپنا؟ (داغ)
  3. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    زبان ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا اب آچکا ہے لبوں پر معاملہ دل کا کچھ اور بھی تجھے اے داغ بات آتی ہے وہی بتوں کی شکایت وہی گلہ دل کا (داغ)
  4. کاشفی

    داغ مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خوش - داغ دہلوی

    :) ۔۔ ایسے نہیں کہیں سخنور صاحب۔۔۔زیادہ کے بارے میں ، میں نہیں سوچ سکتا۔۔۔۔ اتنی کوششوں اور چلّے ولّے کاٹنے کے بعد کسی کا جادو مجھ پر اثر کر رہا ہے۔۔۔اللہ اللہ کر کے۔۔ اگر زیادہ کے بارے میں انہوں نے پڑھ لیا تو وہ پھُر کر کے کوہ قاف کی طرف غائب ہوجائیں گی مجھ پر سے۔ پلیز شُب شُب بولیں ۔۔...
  5. کاشفی

    داغ مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خوش - داغ دہلوی

    شکریہ سخنور صاحب۔۔جیتے رہیں خوش رہیں۔۔ مجھ سے آج کل اتنی زیادہ غلطیاں ہورہی ہیں ۔۔مجھے حیرت ہے۔۔اور اوپر سے مجھے نظر بھی نہیں آرہا ہے۔۔یہ تو اور زیادہ حیرت کی بات ہے۔۔ شاید کسی پری کا جادو چل گیا ہے اور میرے خیال میں آنکھوں میں کوئی پری سما گئی ہے تب ہی کچھ غلطیاں نظر نہیں آرہی ہیں۔۔۔ آپ...
  6. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہے حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا (غالب)
  7. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں نظر لگے نہ کہیں اُس کے دست و بازو کو یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں (غالب)
  8. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں (غالب)
  9. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    بُت بھی عاشق ہیں اپنی صورت کے اے میں قربا ں تیری قدرت کے آتے ہی چشمِ اہل دنیا میں سوگئے پاؤں خواب ِ غفلت کے نہیں سنتا ہے اے منیر کوئی ڈنکے بجتے ہیں کوسِ رحلت کے (سید محمد اسمعیل متخلص بہ منیر)
  10. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    آج اُس بزم میں طوفان اُٹھا کے اُٹھے یاں تلک روئے کہ اُس کو بھی رولا کے اُٹھے جی ہی مانند نشان کفِ پا بیٹھ گیا پاؤں کیا کوچہ سے اُس ہوش ربا کے اُٹھے شعر مومن کے پڑھے بیٹھ کے اُس کے آگے خوب احوالِ دلِ زار سُنا کے اُٹھے (مومن)
  11. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    کون کہتا ہے مُنہ کو کھولو تم کاش کے پردے ہی میں بولو تم حکم آبِ رواں رکھے ہے حُسن بہتے دریا میں ہاتھ دھو لو تم جب میسر ہو بوسہ اُس لب کا چُپ کے ہی ہو رہو نہ بولو تم رات گزری ہے سب تڑپتے میر آنکھ لگ جائے گر تو سو لو تم (میر)
  12. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    زندگی زندہ دلی کا ہے نام مُردہ دل خاک جیا کرتے ہیں دھیان آتا ہے کفن کا مجھ کو کپڑے جب قطع کیا کرتے ہیں نیک و بد کیا ہوں ہمیشہ باہم پھول کانٹوں سے جدا کرتے ہیں (شیخ امام بخش متخلص بہ ناسخ )
  13. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    یہ جسمِ زار بے حرکت پیرہن میں ہے سب مجھ کو جانتے ہیں کہ مردہ کفن میں ہے فرقت قبول رشک کے صدمے نہیں قبول کیا آئیں ہم رقیب تری انجمن میں ہے ہیں بے نصیب صحبت جاناں سے ایک ہم پروانہ بزم میں ہے تو بلبل چمن میں ہے دونوں کا کر چکا ہوں میں اے ناسخ امتحان سید میں مہر ہے نہ وفا برہمن...
  14. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اطبّا دیکھ کر بیمار کو تیرے یہ کہتے ہیں بہم پُہنچے تو اس کو شربتِ دیدار بہتر ہے سوا لِ بوسہ پر ہنس کر وہ بُت کہتا ہے اے آتش خیالِ بد اگر گزر ے تو استغفار بہتر ہے (آتش)
  15. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    احسان مانو حُسن خدا داد کا بتو پتھر تھے تم کو شیشے سے نازک بنا دیا (آتش)
  16. کاشفی

    ساغر صدیقی میں تلخیء حیات سے گھبرا کے پی گیا - ساغر صدیقی

    شکریہ بہت بہت محمد وارث صاحب۔۔
  17. کاشفی

    ساغر صدیقی زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ - ساغر صدیقی

    شکریہ محمد وارث صاحب۔۔
  18. کاشفی

    ساغر صدیقی میں تلخیء حیات سے گھبرا کے پی گیا - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) میں تلخیء حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج...
  19. کاشفی

    ساغر صدیقی زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ اے تشنہ دہانِ جور خزاں پھولوں کی ادائیں پی جاؤ تاریکی دوراں کے مارو صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ نغمات کا رس بھی نشہ ہے بربط کی صدائیں پی جاؤ مخمور شرابوں کے بدلے رنگین خطائیں پی جاؤ اشکوں کا مچلنا ٹھیک...
Top