یہ جسمِ زار بے حرکت پیرہن میں ہے
سب مجھ کو جانتے ہیں کہ مردہ کفن میں ہے
فرقت قبول رشک کے صدمے نہیں قبول
کیا آئیں ہم رقیب تری انجمن میں ہے
ہیں بے نصیب صحبت جاناں سے ایک ہم
پروانہ بزم میں ہے تو بلبل چمن میں ہے
دونوں کا کر چکا ہوں میں اے ناسخ امتحان
سید میں مہر ہے نہ وفا برہمن...