غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خوش
اُنہیں عید کی سی خوشی ہوئی، رہے شام تک وہ سحر سے خوش
کبھی شاد درہم داغ سے کبھی آبلوں کے گُہر سے خوش
یہ بڑی خوشی کا مقام ہے غمِ ہجر یار ہے گہر سے خوش
اُنہیں بزم غیر میں تھا گماں کہ یہ سادہ لوح بہل...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
اِدھر کی نہ ہوجائے دنیا اُدھر کو
زمانے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے...
مجاہدینِ بلوچستان
(مولانا ظفر علی خاں - 1934ء )
مردانِ مجاہد ہیں گردانِ بلوچستان
دبتے نہیں باطل سے شیرانِ بلوچستان
جس وقت سے قاسم نے گاڑا ہے یہاں جھنڈا
لغزش میں نہیں آیا ایمانِ بلوچستان
کیا لائیں گے خاطر میں خُم خانہء لندن کو
مست مَے یثرب ہیں رندانِ بلوچستان
خونِ رگِ بطحا سے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آنکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے
کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے
جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا
کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے
کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے
ادائیں کھیلتی ہیں رنگ، تلوار اُس نے کھولی ہے
لہو کی چلتی ہیں پچکاریاں، مقتل میں ہولی ہے
بہار آئی، چمن ہوتا ہے مالا مال دولت سے
نکالا چاہتے ہیں زرگرہ غنچوں نے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟
غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے
اُس کو سمجھاتے نہیں جاکے کسی دن ناصح
روز آتے ہیں مجھ ہی کو یہ نصیحت کرنے
تیر کے ساتھ چلا دل، تو کہا میں نے، کہاں؟
حسرتیں بولیں کہ، مہمان کو رخصت کرنے
آئے میخانے میں، تھے پیرِ...