غزل
(سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ علیہ)
ہے ظلم، اُس کو یار کیا ، ہم نےکیا کیا؟
کیا جبر اختیار کیا ہم نے، کیا کیا؟
اُس رشک گل کی خواہشِ بوس و کنار کو
اپنے گلے کا ہار کیا، ہم نے کیا کیا؟
دستِ جنوں سے اپنے گریبانِ صبر کو
اے عشق، تار تار کیا، ہم نے کیا کیا؟
رہ رہ کے دل میں ،...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ)
پھنس گئے عندلیب ہو بیکس
ہائے تنہائی اور کُنجِ قفس
ہاتھا پائی ہوئی کچھ ایسی کہ پھر
اُن کی اُنگلی کی چڑھ گئی جھٹ نس
جبکہ دیکھا کہ چھوڑتا ہی نہیں
تب تو ٹھہری کہ دیں گے بوسہ دس
ایک، دو، تین، چار ، پانچ، چھ ، سات،
آٹھ ، نو ، دس...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی
رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
ہنس پڑے آپ، تو بجلی چمکی
بال کھولے، تو گھٹا لوٹ گئی
اس روش سے وہ چلے گلشن میں
بِچھ گئے پھول صبا لوٹ گئی
خنجرِ ناز نے کشتوں سے امیر
چال وہ کی کہ قضا لوٹ گئی
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
بجلی چمک رہی ہے فلک پر سحاب میں
اب دختِ رز کو چین کہاں ہے حجاب میں
اللہ رے میرے دل کی تڑپ اضطراب...
غزل
(شاعرِ فصیح اللسان ، ناظمِ بلیغ البیان، شمس العلما جناب مولوی نواب سید امداد امام صاحب بہادر رئسِ اعظم پٹنہ المتخلص بہ اثر لکھنوی )
غم نہیں مجھ کو جو وقتِ امتحاں مارا گیا
خوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جانِ جاں مارا گیا
تیغِ ابرو سے دلِ عاشق کو ملتی کیا پناہ
جو چڑھا مُنہ پر اجل کے...
صوفی، خدا کے گھر میں یہ ہو حق ہے کیا ضرور
سامع اگر ہو دور تو کہیے پکار کے
دوزخ میں مجھ کو جھونک چُکے تھے مرے عمل
قربان شانِ رحمتِ پروردگار کے
(امیر مینائی)
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے...