غزل
(عابد لاہوری)
آپ کا زر تار دامن کاروانِ رنگ ہے
لہر یا آنچل غبارِ کہکشانِ رنگ ہے
پاؤں پر نقشِ حِنا، ماتھے پہ ٹیکا صندلی
یہ زمینِ رنگ ہے، وہ آسمانِ رنگ ہے
نیلو فر نیلم ہے گویا موتیا الماس ہے
آج ہر جنسِ چمن جنسِ دُکانِ رنگ ہے
کیا تماشا ہے کہ نغموں پر ہے دھوکا نُور کا
کیا...
غزل
(امین حزیں)
نَے کا نَے نام رکھ دیا کس نے؟
نَے میں پیغام رکھ دیا کس نے؟
مختصر سی حیات میں جانے
اس قدر کام رکھ دیا کس نے؟
دل کی بے تابیوں کے عالم کا
زندگی نام رکھ دیا کس نے؟
پی رہا ہوں، کہ پڑ گیا پینا
سامنے جام رکھ دیا کس نے؟
پر نکلتے ہی آشیانے میں
دانہ ؤ دام رکھ...
غزل
(ماہر ا لقادری)
ہم تو ڈبو کر کشتی کو، خود ہی پار لگائیں گے
طُوفاں سے گر بچ نکلی، ساحل سے ٹکرائیں گے
کہہ تو دیا، اُلفت میں ہم جان کے دھوکا کھائیں گے
حضرتِ ناصح!خیر تو ہے، آپ مجھے سمجھائیں گے؟
یہ تو سب سچ ہے مجھ پر آپ کرم فرمائیں گے
لیکن اتنا دھیان رہے، لوگ بہت بہکائیں گے
عشق...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دور ہی دور سے اقرار ہوا کرتے ہیں
کچھ اشارے سرِ دیوار ہوا کرتے ہیں
میں بُرا، اور طبیعت مِری اچھی، کیا خوب؟
منتخب کیوں مرے اشعار ہوا کرتے ہیں
تیغ بھاری ہے، وہ نازک ہیں، مری عمر دراز
مشورے قتل کے ہر بار ہوا کرتے ہیں
داغ نے خطِ غلامی جو دیا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جَل کے ٹھنڈے ہوئے ترے غم میں
ہم کو جنت ملی جہنم میں
کچھ ترا شوق، کچھ تری حسرت
اور رکھا ہی کیا ہے اب ہم میں؟
چل گئی چال آپ کی ہم پر
سیدھے سادے تھے آگئے دم میں
بزمِ دشمن میں کس طرح مرتا
موت آتی نہیں جہنم میں
دل کی قیمت بہت ہے نیم نگاہ
یہ تو آئے گا اس سے بھی...