غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ہر دم اُسی کی دُھن ہے اُسی کا خیال ہے
چھوٹے چھٹائے ربط پر اب تک یہ حال ہے
جب ہو نہ اعتبار تو کہنے سے فائدہ؟
اللہ جانتا ہے جو اِس دل کا حال ہے
کافر نہ میں ہوں اور نہ محشر ہے بزمِ یار
اپنے کیے سے پھر مجھے کیوں انفعال ہے
اے داغ اُن کی رنجشِ بیجا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی
یہی کمبخت دِکھا دیتی ہے صورت اچھی
ہر طرح دل کا ضرر جان کا نقصان دیکھا
نہ محبت تری اچھی، نہ عداوت اچھی
ہجر میں کس کو بلاؤں؟ نہ بلاؤں کس کو؟
موت اچھی ہے الہٰی کہ قیامت اچھی؟
عیب اپنے بھی بیان کرنے لگے آخر کار...
بہت شکریہ خوشی جی۔۔
ایسی ضد تو ہر باشعور حضرات کو کرنی چاہیئے۔۔ اگر ایسا معاملہ درپیش ہو تو ورنہ ضروری نہیں کے ضد کی جائے۔۔پیار سے بھی کام چل سکتا ہے۔۔۔
بہت شکریہ جناب سخنور صاحب مکمل غزل پیش کرنے کے لیئے۔۔ جناب میں کیوں بُرا مناؤں گا۔۔ اور وہ بھی آپ سے۔۔ایسا ہو سکتا ہے کیا؟ :happy:
آپ تمام سخندانِ محفل کی ہمارے دل میں بیحد عزت ہے۔۔اور آپ تمام ہمارے لیئے قدر کی منزلت کا درجہ رکھتے ہیں۔۔تب ہی تو آپ سب کی باتیں مانتا ہوں میں۔۔ جیتے رہیں۔۔...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا)
اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم، اچھا
لو، ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم، اچھا
مشغول کیا چاہیے، اِس دل کو کسی طور
لے لیویں گے ڈھونڈ، اور کوئی یار ہم اچھا
گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی
ہر طور غرض، آپ سے ، ملنا ہے کم اچھا
جو شخص مقیمِ رہِ دلدار...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
آئے کوئی، تو بیٹھ بھی جائے، ذرا سی دیر
مشتاقِ دید، لطف اُٹھائے ذرا سی دیر
میں دیکھ لوں اُسے، وہ نہ دیکھے مری طرف
باتوں میں اُس کو کوئی لگائے ذرا سی دیر
سب خاک ہی میں مجھ کو ملانے کو آئے تھے
ٹھہرے رہے نہ اپنے پرائے ذرا سی دیر
تم نے...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
حسرت آتی ہے دلِ ناکام پر
اس کو دے ڈالوں خدا کے نام پر
ہو گیا صیاد بھی عاشق مزاج
خود بچھا جاتا ہے اپنے دام پر
جب پسند آتا ہے میرا شعر اُنہیں
گالیاں پڑتی ہیں میرے نام پر
جلنے لگتی ہے زبان کہتے ہی، داغ
اُف نکل جاتی ہے میرے نام پر