سائے
(احمد ندیم قاسمی)
یہ سائے، یہ پھیلے پھیلے، بکھرے بکھرے سائے
یہ سائے، یہ دھندلے دھندلے، نکھرے نکھرے سائے
گویہ سائے آج سمجھتے ہیں ، مجھ کو بے گانہ
لیکن ان سے وابستہ ہے ایک حسیں افسانہ
ان کے نیچے میں نے کاٹیں بھادوں کی دوپہریں
جب رقصاں ہوتی تھیں ہر سو، دھوپ کی تپتی لہریں
جب اک البیلی...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
واعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو
دوزخ میں پاؤں ہاتھ میں جامِ شراب ہو
معشوق کا تو جُرم ہو، عاشق خراب ہو
کوئی کرے گناہ کسی پر عذاب ہو
وہ مجھ پہ شیفتہ ہو مجھے اجتناب ہو
یہ انقلاب ہو تو بڑا انقلاب ہو
دنیا میں کیا دھرا ہے؟ قیامت میں لطف ہو...
غزل
(حیدر علی آتش)
آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درست
بیمار سال بھر کے نظر آئیں تندرست
حالِ شکستہ کا جو کبھی کچھ بیان کیا
نکلا نہ ایک اپنی زباں سے سخن درست
رکھتے ہیں آپ پاؤں کہیں پڑتے ہیں کہیں
رفتار کا تمہاری نہیں ہے چلن درست
جو پہنے اُس کو جامہء عریانی ٹھیک ہو
اندام پر ہر اک...