غزل
(مومن خان شوق)
حسابِ جفا اور وفا رہنے دیجے
سوالِ سزا و جزا رہنے دیجے
میں پتھر سہی کیوں ہٹاتے ہو مجھ کو
مجھے راستے میں پڑا رہنے دیجے
کوئی راہ میں پھر بھٹکنے نہ پائے
سرِ راہ جلتا دِیا رہنے دیجے
کبھی کوئی خوشبو کا آئے گا جھونکا
دریچہ ہمیشہ کھُلا رہنے دیجے
ہمیں بھی تو...
عزیز ہم وطنوں محبِ وطن پاکستانیوں حق پرست ساتھیوں۔۔یومِ تاسیس کے موقع پر قائدِ تحریک کا فرمان تھا جس کا مفہوم ہے کہ
ساتھیوں !
عجز و اخلاص کے جذبے کو اُبھارا جائے
اپنے دشمن کو بھی اب دوست پکارا جائے
نسل اور رنگ کا یہ فرق مٹایا جائے
پھر سے انسان کوانسان بنایا ہے
آؤ ہم رسم و روایت سے...