غزل
ابوالاثر حفیظ جالندھری
اب وہ نوید ہی نہیں، صوتِ ہزار کیا کرے
نخلِ امید ہی نہیں، ابرِ بہار کیا کرے
دن ہو تو مہر جلوہ گر، شب ہو تو انجم و قمر
پردے ہی جب ہوں پردہ درِ روئے نگار کیا کرے
عشق نہ ہوتو دل لگی، موت نہ ہو تو خود کشی
یہ نہ کرے تو آدمی، آخر ِ کار کیا کرے
اہلِ ہوس بھی...
علاقائی اور صوبائی زبانوں کے لیئے چُپ سادھنے کو کون بےوقوف کہہ رہا ہے۔۔سادھو بابا بننے کو کوئی نہیں کہہ رہا بھیا ۔۔حق بات کرو اور حق تسلیم کرو۔۔الزام تراشی سے پہلے بھی کچھ نہیں ملا اور نہ مستقبل قریب اور مستقبل بعید میں بھی کچھ نہیں حاصل ہونے والا۔۔۔
یہاں پر تو کوئی بھی جنگ نہیں لڑ...
مکالمہء ساقی و سَاغر
(دربابِ رحلتِ علامہء اقبال رحمتہ اللہ علیہ)
(از: ساغر نظامی)
ساغر:
کیا ہوا رندِ بلانوش تمام اے ساقی
کیوں کھنکتے نہیں اب ساغر و جام اے ساقی
عرق آگیں ہے یہ کیوں وقت سحر کا مکھڑا
خاک آلود ہیں کیوں گیسوئے شام اے ساقی
نہ ہے پیمانے میں پرتَو نہ مرے ساغر میں
کیا ہوا...
ماتمِ اقبال
تلوک چند محرُوم
اقبال کی موت پر بپا ماتم ہے
اے اہلِ سخن! بہت بڑا ماتم ہے
نغموں سے کہو کہ آج نالے بن جائیں
رضوانِ ریاضِ شعر کا ماتم ہے!
-------------------
چمن را گلفشاں کردی و رفتی
وطن را گلستاں کردی ورفتی!
زطبعِ خود کہ بودا بربقا بار
سخن را جاوداں کردی ورفتی...
آہ ! اقبال
از: حفیظ ہوشیار پوری
سرورِ رفتہ باز آید کہ ناید
نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سرآمدروزگارِ ایں فقیر ے
دگر دانائے راز آید کہ ناید
(اقبال)
کوئی اقبال کا ثانی جہاں میں
پس از عُمرِ دراز آئے نہ آئے
حقیقت آشنائے عشق و مستی
پھر اے بزمِ مجاز! آئے نہ آئے
شکستہ تار ہیں سازِ خودی کے
وہ...
اردو پاکستان کی واحد قومی زبان
ہم اردو کے چیمپئن نہیں ہیں بھیّا ۔۔ ایک عام سی جنتا ہیں۔۔ ہمیں تو اُردو بھی صحیح سے نہیں آتی۔۔ نہ لکھ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔۔ بس بڑ بڑ کیئے جارہے ہیں۔۔۔خیر اُردو سے کوئی ہزار کترائے مگر اس سے پرہیز مشکل ہے۔۔ مملکتِ پاک و ہند کی فطری زبان آب و ہوا اور...
نوائے فراق
فراق گورکھ پوری
یہ شوخیء نگاہ کسی پر عیاں نہیں
تاثیرِ دردِ عشق کہاں ہے کہاں نہیں
عشق اس طرح مٹا کہ عدم تک نشاں نہیں
آ سامنے کہ میں بھی تو اب درمیاں نہیں
مجھ کو بھی اپنے حال کا وہم و گماں نہیں
تم راز داں نہیں تو کوئی راز داں نہیں
صیّاد اس طرح تو فریبِ سکوں نہ دے
اس درجہ تو...
ہیر وارث شاہ
(از: محمد صادق قریشی )
سنایا رات کو قصّہ جو ہیر رانجھے کا
تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
(انشا)
وارث شاہ پنجابی کا ہومر اور فردوسی ہوگزرا ہے۔ وہ ایک قادرالکلام شاعر اور فصیح و بلیغ سخنور ہونے کے علاوہ علم النفس انسانی سائیکالوجی کا ایک بہت بڑا ماہر تھا۔ کیونکہ اس...
غزل
(عبدالعزیز فطرت)
ہر چند بستہ چشم رہا بستہ لب رہا
میں مدتوں نشانہء تیرِ غضب رہا
غیروں پہ لطف کا بھی بتایا گیا جواز
مجھ پر ترا ستم بھی مگر بے سبب رہا
تونے جو کچھ دیا وہ دیا لطفِ خاص سے
پابندِ آستیں مِرا دستِ طلب رہا
اس بزم میںنگاہ پہ قابو نہ رکھ سکا
ہاں مجھ کو اعتراف ہے میںبے ادب رہا...