نتائج تلاش

  1. کاشفی

    نواز شریف اور ن لیگ کا اصل روپ اب عوام کے سامنے

    یہ نواز شریف اور شہباز شریف اور نواز لیگی ملک دشمن ہیں ۔۔اللہ ان ملک دشمن لوگوں نواز لیگیوں سے نجات عطا فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین۔
  2. کاشفی

    امیر مینائی یہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کر - امیر مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) یہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کر جہنم اُگل دے گا مجھ کو نگل کر جو شامِ شبِ ہجر دیکھی تو سمجھے قضا سر پر آئی ہے صورت بدل کر یہ میری طرف پاؤں محفل میں کیسے؟ ذرا آدمیت سے بیٹھو سنبھل کر بشر کیوں نہ ہو بے وطن ہو کے مضطر تڑپتی ہے، دریا سے...
  3. کاشفی

    امیر مینائی بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا - امیر مینائی

    شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔ نشاندہی کے لیئے بھی بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں نقاب اُلٹتے وہ رُخ سے ۔۔۔ ہے۔۔ شکریہ بیحد۔۔
  4. کاشفی

    توبہ - واحد قریشی

    بیحد شکریہ جناب محترم م-م-مغل صاحب۔۔جیتے رہیں اور خوش رہیں۔۔ تصحیح کے لئے بھی بیحد شکریہ۔۔
  5. کاشفی

    داغ تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ - داغ دہلوی

    بیحد شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔
  6. کاشفی

    داغ میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو - داغ دہلوی

    شکریہ سخنور صاحب۔۔ یہ لفظ مہوس ہی ہے۔۔ مہوس کے معنی کیمیا گر کے ہیں۔۔
  7. کاشفی

    امیر مینائی بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا - امیر مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا کرتا نہ میں گناہ ، تو گناہِ عظیم تھا کیا کیا نہ آفتوں کے رہے ہم کو سامنے یارب، شباب تھا کہ بلائے عظیم تھا دُنیا میں کچھ قیام نہ سمجھو کرو خیال اس گھر میں تم سے پہلے بھی کوئی مقیم تھا دُنیا کا حال، اہلِ عدم، ہے...
  8. کاشفی

    داغ تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ مری طرف بھی تو سرکار دیکھتے جاؤ یہ شامت آئی کہ اُس کی گلی میں دل نے کہا کھُلا ہے روزنِ دیوار دیکھتے جاؤ تمہاری آنکھ مرے دل سے بے سبب بیوجہ ہوئی ہے لڑنے کو تیار دیکھتے جاؤ ادھر تو آہی گئے اب تو حضرتِ زاہد یہیں...
  9. کاشفی

    داغ میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو بندگی کو بندگی، تسلیم ہے تسلیم کو ہے بڑی دولت، جو ہاتھ آجائے کوئی خوبرو اے مہوس ڈھونڈھتا ہے کہ کیا طلاؤ سیم کو آسماں دیتا ہے مجھ کو رنج ، غیروں کو خوشی واہ کیا کہنا ہے، کیا کہتے ہیں اس تقسیم کو اپنے دل کا...
  10. کاشفی

    ماہر القادری وہ اگر بے نقاب ہوجائے - ماہر ا لقادری

    بہت شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔اور سید محمد نقوی صاحب۔۔ آپ دونوں حضرات کا بیحد شکریہ۔
  11. کاشفی

    عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے - عابد لاہوری

    بہت شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔۔
  12. کاشفی

    دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے - حکیم آزاد انصاری

    شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔بہت بہت شکریہ۔۔
  13. کاشفی

    وارداتِ قلب - محمد صدیق مسلم مالیگانوی

    بیحد شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔جیتے رہیں۔۔
  14. کاشفی

    توبہ - واحد قریشی

    بہت بہت شکریہ یونس عارف صاحب اور سخنور صاحب۔۔جیتے رہیں خوش رہیں دونوں۔۔
  15. کاشفی

    وارداتِ قلب - محمد صدیق مسلم مالیگانوی

    وارداتِ قلب محمد صدیق مسلم مالیگانوی سب مجھے تکتے ہیں میرا دردِ پنہاں دیکھ کر یعنی آنکھوں میں مری اشکوں کا طوفاں دیکھ کر ہوتے ہوتے ہوگئے ہم اسقدر ایذا طلب تلوے کھجلاتے ہیں اب خارِ مغیلاں دیکھ کر یہ حیاتِ مختصر اور اس پہ اتنا ہے غرور اس لئے روتی ہے شبنم گل کو خنداں‌دیکھ کر المدد...
  16. کاشفی

    خود کردہ را علاجے نیست

    ایک معلم نے شاگرد کو ہدایت کی کہ گفتگو بفصاحت و بلاغت کرنا چاہئے۔ طالبعلموں‌نے تائید کی۔ ایک روز چلم کی چنگاری معلم صاحب کی پگڑی پر جاپڑی۔ شاگر د نے اطلاع کی ۔ " جناب استاد صاحب مولانا و مقتدانا قبلہ و کعبہ ام حضور کی دستار عظمت آثار پر ایک اخگر ناہنجار شرر بار آتشکدہء چلم سے پرواز کر کے شعلہ...
  17. کاشفی

    توبہ - واحد قریشی

    توبہ واحد قریشی کسی کے اندازِ کافری پر نمودِ رنگِ شباب!‌ توبہ ہمارے دل کا خدا ہی حافظ عذاب سا ہے عذاب! توبہ نماز پڑھنے کو پڑھ رہا ہوں خیال دل میں‌یہ آرہا ہے اگر کوئی سامنے سے اُٹھادے رُخ سے نقاب! توبہ تری نگاہوں کی مستیوں نے بتا دیا رازِ مے پرستی جہاں نظر آیا مجھ کو ساغر وہیں ہوئی...
  18. کاشفی

    دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے - حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے خوبصورت تر بلا مطلوب ہے اہلِ دل ہوں، دلربا مطلوب ہے بندہ بننا ہے خدا مطلوب ہے بے وفا! کیا کہئیے، کیا مطلوب ہے طاقتِ ترکِ وفا مطلوب ہے اذن ہو تو عرضِ حالِ دل کروں طبع ِ نازک کی رضا مطلوب ہے اے وفا کے خبط! لےکچھ اور سُن اب...
  19. کاشفی

    عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے - عابد لاہوری

    غزل (عابد لاہوری) عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے یہی شرار نہاں روحِ سنگ و خشت میں‌ہے ابھی نگاہ پہ ہیں رسم و وہم کے پردے ابھی نگاہ طلسماتِ خوب و زشت میں ہے یہ رنگ و نور کے جلوے، یہ دلکشا نغمے صنم کدے ہیں کہ ذوق نظر بہشت میں ہے نہ بجلیوں کو خبر ہے نہ خوشہ چیں‌کو پتہ کہ اک...
  20. کاشفی

    ماہر القادری وہ اگر بے نقاب ہوجائے - ماہر ا لقادری

    غزل (ماہر ا لقادری) وہ اگر بے نقاب ہوجائے ہر نظر آفتاب ہوجائے دیکھ اس طرح مست آنکھوں سے پھول جامِ شراب ہوجائے اک نگاہِ کرم مِری جانب ذرہ پھر آفتاب ہوجائے تم اگر وقتِ نزع آجاؤ زندگی کامیاب ہوجائے کم سے کم اتنی میکشی تو ہو! روح غرقِ شراب ہوجائے منتشر کر نظام دُنیا کا ہر...
Top