غزل
(امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
یہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کر
جہنم اُگل دے گا مجھ کو نگل کر
جو شامِ شبِ ہجر دیکھی تو سمجھے
قضا سر پر آئی ہے صورت بدل کر
یہ میری طرف پاؤں محفل میں کیسے؟
ذرا آدمیت سے بیٹھو سنبھل کر
بشر کیوں نہ ہو بے وطن ہو کے مضطر
تڑپتی ہے، دریا سے...
غزل
(امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا
کرتا نہ میں گناہ ، تو گناہِ عظیم تھا
کیا کیا نہ آفتوں کے رہے ہم کو سامنے
یارب، شباب تھا کہ بلائے عظیم تھا
دُنیا میں کچھ قیام نہ سمجھو کرو خیال
اس گھر میں تم سے پہلے بھی کوئی مقیم تھا
دُنیا کا حال، اہلِ عدم، ہے...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ
مری طرف بھی تو سرکار دیکھتے جاؤ
یہ شامت آئی کہ اُس کی گلی میں دل نے کہا
کھُلا ہے روزنِ دیوار دیکھتے جاؤ
تمہاری آنکھ مرے دل سے بے سبب بیوجہ
ہوئی ہے لڑنے کو تیار دیکھتے جاؤ
ادھر تو آہی گئے اب تو حضرتِ زاہد
یہیں...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو
بندگی کو بندگی، تسلیم ہے تسلیم کو
ہے بڑی دولت، جو ہاتھ آجائے کوئی خوبرو
اے مہوس ڈھونڈھتا ہے کہ کیا طلاؤ سیم کو
آسماں دیتا ہے مجھ کو رنج ، غیروں کو خوشی
واہ کیا کہنا ہے، کیا کہتے ہیں اس تقسیم کو
اپنے دل کا...
وارداتِ قلب
محمد صدیق مسلم مالیگانوی
سب مجھے تکتے ہیں میرا دردِ پنہاں دیکھ کر
یعنی آنکھوں میں مری اشکوں کا طوفاں دیکھ کر
ہوتے ہوتے ہوگئے ہم اسقدر ایذا طلب
تلوے کھجلاتے ہیں اب خارِ مغیلاں دیکھ کر
یہ حیاتِ مختصر اور اس پہ اتنا ہے غرور
اس لئے روتی ہے شبنم گل کو خنداںدیکھ کر
المدد...
ایک معلم نے شاگرد کو ہدایت کی کہ گفتگو بفصاحت و بلاغت کرنا چاہئے۔ طالبعلموںنے تائید کی۔ ایک روز چلم کی چنگاری معلم صاحب کی پگڑی پر جاپڑی۔ شاگر د نے اطلاع کی ۔ " جناب استاد صاحب مولانا و مقتدانا قبلہ و کعبہ ام حضور کی دستار عظمت آثار پر ایک اخگر ناہنجار شرر بار آتشکدہء چلم سے پرواز کر کے شعلہ...
توبہ
واحد قریشی
کسی کے اندازِ کافری پر نمودِ رنگِ شباب! توبہ
ہمارے دل کا خدا ہی حافظ عذاب سا ہے عذاب! توبہ
نماز پڑھنے کو پڑھ رہا ہوں خیال دل میںیہ آرہا ہے
اگر کوئی سامنے سے اُٹھادے رُخ سے نقاب! توبہ
تری نگاہوں کی مستیوں نے بتا دیا رازِ مے پرستی
جہاں نظر آیا مجھ کو ساغر وہیں ہوئی...
غزل
(حکیم آزاد انصاری)
دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے
خوبصورت تر بلا مطلوب ہے
اہلِ دل ہوں، دلربا مطلوب ہے
بندہ بننا ہے خدا مطلوب ہے
بے وفا! کیا کہئیے، کیا مطلوب ہے
طاقتِ ترکِ وفا مطلوب ہے
اذن ہو تو عرضِ حالِ دل کروں
طبع ِ نازک کی رضا مطلوب ہے
اے وفا کے خبط! لےکچھ اور سُن
اب...
غزل
(عابد لاہوری)
عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے
یہی شرار نہاں روحِ سنگ و خشت میںہے
ابھی نگاہ پہ ہیں رسم و وہم کے پردے
ابھی نگاہ طلسماتِ خوب و زشت میں ہے
یہ رنگ و نور کے جلوے، یہ دلکشا نغمے
صنم کدے ہیں کہ ذوق نظر بہشت میں ہے
نہ بجلیوں کو خبر ہے نہ خوشہ چیںکو پتہ
کہ اک...
غزل
(ماہر ا لقادری)
وہ اگر بے نقاب ہوجائے
ہر نظر آفتاب ہوجائے
دیکھ اس طرح مست آنکھوں سے
پھول جامِ شراب ہوجائے
اک نگاہِ کرم مِری جانب
ذرہ پھر آفتاب ہوجائے
تم اگر وقتِ نزع آجاؤ
زندگی کامیاب ہوجائے
کم سے کم اتنی میکشی تو ہو!
روح غرقِ شراب ہوجائے
منتشر کر نظام دُنیا کا
ہر...