غزل
(شور)
صبح خورشید، شب کو ماہ ہو تم
نور میں دنوں کی پناہ ہو تم
ادھر افشاں اُدھر ہے رخسارہ
سو ستاروں میں ایک ماہ ہو تم
ہم سے تو عمر بھر حجاب رہا
پر رقیبوں سے روبراہ ہو تم
حشر میں دیکھئے ، ہو کیا انصاف
داد خواہ ہم ہیں عذر خواہ ہو تم
نیک اور بد سے ہے کجا نسبت
ہم...
فتح صاحب شکریہ بیحد غزل کی پسندیدگی کے لیئے۔۔ شور کے نام کے ساتھ فاتح نہیں فتح آتاہے۔۔۔ :)
شور تخلص ، بابو مدن موہن چھدامی لال مقیم فتح گڑھ ۔۔۔ میرے پاس اسی طرح سے لکھا ہوا ہے۔۔ویسے آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں مجھ سے۔۔
غزل
(شور)
دیکھئیے دیکھئیے پچتائیے گا
غیر کے دم میں نہ آجائیے گا
غیر کو چاہو اگر بسم اللہ
دل ہمارا سا کہاں لائیے گا
اپنے بسمل کا اگر رقص کبھی
دیکھئیے گا تو پھڑک جائیے گا
یہ تو فرمائے ناصح پہلے
مجھ کو کیا آتے ہی سمجھائیے گا
میرے رونے کی حقیقت کہہ کر
دشمنوں کو کہیں...
غزل
(شور)
ربط اُن سے بڑھا کے دیکھ لیا
جسم و جاں کو گھٹا کے دیکھ لیا
غیر پر مسکرا کے دیکھ لیا
مجھ پہ بجلی گرا کے دیکھ لیا
اب لگے کیوں عدو سے شرمانے
آنکھ ہم سے چُرا کے دیکھ لیا
نقشِ پا سے ترے ، خدا سمجھے
جان اُس پر مٹا کے دیکھ لیا
کتنا رسوا ہوئے زمانہ میں
غیر کی بزم میں...
جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمال
غور سے دیکھا تو اے ذوق ہے اُن کا یہ حال
جیسے محفل میں ہنسانے کو مسلمانوں پر
نقل کرتا ہو مسلماں کی کافر نقال
(ذوق)