نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ساغر صدیقی صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں - ساغر صدیقی

    جی حضور ! ادھر ہماری طرف بارش ہورہی ہے۔۔ اس لیئے سوچا دوستوں سے کچھ شیئر کروں۔۔ شکریہ بیحد۔۔
  2. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    ہم کو اُس سے اُمیدِ اُلفت ہے جو نہیں جانتا، ہے کیا اخلاص (مجروح)
  3. کاشفی

    ساغر صدیقی صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں حدیثِ زندگی دہرائیے، برسات کے دن ہیں سفینہ لے چلا ہے کس مخالف سمت کو ظالم ذرا ملّاح کو سمجھائیے، برسات کے دن ہیں کسی پُرنور تمہت کی ضرورت ہے گھٹاؤں کو کہیں سے مہ وشوں کو لائیے، برسات کے دن ہیں طبیعت گردشِ دوراں کی...
  4. کاشفی

    ساغر صدیقی برگشتہء یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) برگشتہء یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے تاحّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے میرے دل...
  5. کاشفی

    ولی دکنی ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو - ولی دکنی

    شکریہ سخنور صاحب اور محمد وارث صاحب۔۔۔
  6. کاشفی

    اردو رباعیات

    آپ بالکل درست فرما رہے ہیں وارث صاحب۔۔
  7. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اے داغ کیوں نہ مجھ کو شفاعت کی ہو اُمید میں ہوں مُحب حسین کا، دشمن یزید کا (داغ)
  8. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    گو ہے عاشق مزاج و شاہد باز داغ لیکن شراب خوار نہیں (داغ)
  9. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    دن گزارے عمر کے انساں ہنستے بولتے جان بھی نکلے تو مری جاں ہنستے بولتے (داغ)
  10. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اب داغ سا ہمرنگ زمانے میں کہاں ہے بوڑھوں میں وہ بوڑھا ہے، جوانوں میں جواں ہے (داغ)
  11. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    داغ ہر اک کی زباں پر ہو فسانہ تیرا وہ دن آتا ہے وہ آتا ہے زمانہ تیرا (داغ)
  12. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اسد خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے کہا جو اُس نے مرے ہاتھ پاؤں داب تو دے (غالب)
  13. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    مُجھ گنہگار کوجو بخش دیا تو جہنم کو کیا دیاتونے (داغ)
  14. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    رقیب بھی تو اُسے کان رکھ کے سُنتے ہیں عجب طرح کا مزا ہے مرے فسانے میں (داغ)
  15. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    داغ و مجروح کو سُن لو کہ پھر اس گلشن میں نہ سُنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہر گز (مولانا حالی)
  16. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    خوشی اس کی، اگر دل میں نہ اک دم بھی خوشی ٹھہری کروں کیا میرے غم خانے کی قسمت ہی یہی ٹھہری نہ ذکرِ حور ہم چھیڑیں، نہ لیں نام آپ غیروں کا یہی شرطِ محبت بس ہماری آپ کی ٹھہری نہ دفتر کھول تو اے نامہ بر اتنا بتا مجھ کو گیا تھا جس غرض سے تو وہاں ، وہ بات بھی ٹھہری قیامت بھی اُسی دن...
  17. کاشفی

    ولی دکنی غزل - دل ہوا ہے مرا خرابِ سخن - ولی دکنی

    شکریہ الف عین صاحب۔۔ سخنور صاحب پلیز اس لڑی کو بالرضا منتقل کر دیں۔۔
  18. کاشفی

    ولی دکنی ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو - ولی دکنی

    غزل (ولی دکنی) ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو ہر دن کو عید جان گلے سے لگا کرو حق اُس کو ہمکلام رکھے مجھ سے رات دن اس بات سے مدام رقیبو جلا کرو وعدہ کیا تھا رات کو آؤنگا صبح میں اے مہربان وعدہ کو اپنے وفا کرو کب تک رکھو گے طرز تغافل کو دل میں تم ٹک کان دھر کے حال کسی...
  19. کاشفی

    ولی دکنی غزل - دل ہوا ہے مرا خرابِ سخن - ولی دکنی

    دل ہوا ہے مرا خرابِ سخن - ولی دکنی غزل (ولی دکنی) دل ہوا ہے میرا خراب سخن دیکھ کر حسنِ بےحجاب سخن بزم معنی میں سر خوشی ہے اُسے جس کو ہے نشہء شراب سخن راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں تا قیامت کھلا ہے باب سخن جلوہ پیرا ہو شاہدِ معنی جب زباں سے اُٹھے نقاب سخن گوہر اُس کی نظر...
  20. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    صبح ِ بہار ہے، مجھے ساقی! پلا شراب سب جانتے ہیں عید کا روزہ حرام ہے (آتش)
Top