خوشی اس کی، اگر دل میں نہ اک دم بھی خوشی ٹھہری
کروں کیا میرے غم خانے کی قسمت ہی یہی ٹھہری
نہ ذکرِ حور ہم چھیڑیں، نہ لیں نام آپ غیروں کا
یہی شرطِ محبت بس ہماری آپ کی ٹھہری
نہ دفتر کھول تو اے نامہ بر اتنا بتا مجھ کو
گیا تھا جس غرض سے تو وہاں ، وہ بات بھی ٹھہری
قیامت بھی اُسی دن...