:) سرکار چونکہ ہم بھی غریب پرور ہیں اسی لیئے برسات کے دوران روح افزا یا جامِ شریں سے کام چلا لیتے ہیں۔۔ :) ۔۔۔ غزل کی پسندیدگی کے لیئے بیحد شکریہ۔۔۔
وارث صاحب یہ شعر میرے پاس کچھ اسی طرح سے ہے۔۔لیکن آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں اس لیئے تصحیح فرما دیں۔۔نواز ش ہوگی۔۔
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم
جب آنکھ کھُلی تو سو گئے ہم
پیری میں جواں ہوگئے ہم
جب صبح ہوئی تو سوگئے ہم
راحت سے عدم میں ہوگئے ہم
منزل پہ پہنچ کے سو گئے ہم
اُس بزم میں دل نے ساتھ چھوڑا
ایک آئے وہاں سے دو گئے ہم
کافر کہیں ہم کو یا مسلماں
اب ہو...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم
کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم
ناچار تم ہو دل سے، تو مجبور جی سے ہم
رکھتے ہو تم کسی سے محبت، کسی سے ہم
یوسف کہا جو اُن کو تو ناراض ہوگئے
تشبیہ اب نہ دیں گے کسی کو کسی سے ہم
ہوتا ہے پُرضرور خوشی کا مآل رنج...
انسان اگر سچی بات کرے تو لڑی کو ٹریک سے ہٹانا صحیح نہیں۔۔۔ یہاں پر پریوں کی باتیں ہورہی تھیں میرے خیال میں۔۔لہذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ پریوں کی ہی باتیں کریں۔۔ انسان کو اچھا محسوس ہوگا۔۔
غزل
(جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم و مغفور)
نہیں رازِ ہستی جتانے کے قابل
یہ پردہ نہیں ہے اُٹھانے کے قابل
طلب بوسہ کرتے ہی جھنجلا کے بولے
کہ تو تو نہیں منہ لگانے کے قابل
کیا ضعف نے یہ نکمّا کہ اب ہم
نہ آنے کے قابل نہ جانے کے قابل
اُس آئینہ رو کی بداطواریوں نے
نہ رکھا ہمیں منہ...