نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ولی دکنی کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ ۔ ولی دکنی

    عمدہ جناب سخنور صاحب۔۔ بیحد شکریہ۔۔شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  2. کاشفی

    ذوق کہتے ہیں جھوٹ سب کہ نہیں پاؤں جھوٹ کے - ذوق

    شکریہ بیحد جناب سخنور صاحب۔۔۔ اگر آپ کو کہیں کوئی غلطی نظر آئے تو پلیز تصحیح ضرور فرمائیں۔۔ ممنون ہونگا۔۔
  3. کاشفی

    ذوق حالت نشہ میں دیکھنا اس بےحجاب کی - ذوق

    شکریہ سخنور صاحب۔۔
  4. کاشفی

    ذوق حالت نشہ میں دیکھنا اس بےحجاب کی - ذوق

    غزل (ذوق) حالت نشہ میں دیکھنا اس بےحجاب کی ہرناز سے ٹپکتی ہے مستی شراب کی کوچہ میں آپڑے تھے ترے خاک ہو کے ہم یاں تو صبا نے اور بھی مٹی خراب کی قاصد جواب جان مری دے چلی مجھے پر منتظر ہے آنکھوں میں خط کے جواب کی نکلے ہو مے کدہ سے ابھی منہ چھپا کے تم دابے ہوئے بغل میں...
  5. کاشفی

    ذوق کہتے ہیں جھوٹ سب کہ نہیں پاؤں جھوٹ کے - ذوق

    غزل (ذوق) کہتے ہیں جھوٹ سب کہ نہیں پاؤں جھوٹ کے جھوٹے تو بیٹھتے بھی نہیں پاؤں ٹوٹ کے چلتا ہو ذوق قید سے ہستی کے چھوٹ کے یہ قید مار ڈالے گی دم گھوٹ گھوٹ کے ڈھالا جو تجھ کو حسن کے سانچے میں اے صنم آنکھوں کی جائے بھر دئیے موتی سے کوٹ کے بے درد سینہ کوٹنا خالی نہیں مزا دل میں...
  6. کاشفی

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    ظاہر میں ہم فریفتہ حُسنِ بُتاں کے ہیں پر کیا کہیں نگاہ میں جلوے کہاں کے ہیں؟ یارانِ رفتہ سے کبھی جاہی ملیں گے ہم آخر تو پیچھے پیچھے اسی کارواں کے ہیں (امیر مینائی)
  7. کاشفی

    بیت بازی کا کھیل!

    یا تو پاسِ دوستی تجھ کو بُت بے باک ہو یا مجھ ہی کو موت آجائے کہ قصہ پاک ہو (مندرجہ بالا خاکسار کے پسندیدہ شاعر جناب ذوق )
  8. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    حق نے تجھ کو اک زبان دی اور دیئے ہیں کان دو اس کے یہ معنی ، کہے اک اور سنے انسان دو (ذوق) .............. کہے ایک جب سن لے انسان دو کہ حق نے زبان ایک دی کان دو (ذوق)
  9. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    غیر نے ایسا پڑھایا کچھ مرے محبوب کو لاکھ ہجّوں سے پڑھا اُس نے مرے مکتوب کو (ذوق)
  10. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    یا تو پاسِ دوستی تجھ کو بتِ بے باک ہو یا مجھ ہی کو موت آجائے کہ قصہ پاک ہو (ذوق)
  11. کاشفی

    ذوق دن کٹا جائے اب رات کدھر کاٹنے کو - ذوق

    غزل (ذوق) دن کٹا جائے اب رات کدھر کاٹنے کو جب سے وہ گھر میں نہیں، دوڑے ہے گھر کاٹنے کو ہائے صیاد تو آیا مرے پر کاٹنے کو میں تو خوش تھا کہ چھری لایا ہے سر کاٹنے کو اپنے عاشق کو نہ کھلواؤ کنی ہیرے کی اُس کے آنسو ہی کفایت ہیں جگر کاٹنے کو دانت انجم سے نکلالے ہوئے تجھ بن مجھ پر...
  12. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اب کے دل لے لوں تو پھر اُس بتِ قاتل کو نہ دوں جان دوں مال دوں ایمان دوں پر دل کو نہ دوں چار ٹکڑے کرو دل کے ، کہ نہیں ہو سکتا لب کو دوں رُخ کو نہ دوں، زلف کو دوں تل کو نہ دوں (ذوق)
  13. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    ہو ا ہے اور نہ ہوویگا کوئی پیدا خدائی میں وفا میں کوئی مجھ سا اور تم سا بے وفائی میں (ذوق)
  14. کاشفی

    ولی دکنی صحبتِ غیر میں جایا نہ کرو - ولی دکنی

    شکریہ محمد وارث صاحب۔۔۔
  15. کاشفی

    ذوق ہم سے ظاہر و پنہاں جو اُس غارت گر کے جھگڑے ہیں - ذوق

    غزل (ذوق) ہم سے ظاہر و پنہاں جو اُس غارت گر کے جھگڑے ہیں دل سے دل کے جھگڑے ہیں نظروں سے نظر کے جھگڑے ہیں جیتے ہی جی کیا ملک فنا میں ساتھ بشر کے جھگڑے ہیں مر کے ادھر سے جبکہ چھٹے تو جا کے اُدھر کے جھگڑے ہیں کیسا مومن، کیسا کافر کون ہے صوفی کیسا رند سارے بشر ہیں بندے...
  16. کاشفی

    ولی دکنی الٰہی! رکھ مجھے تو خاکِ پا اہلِ معانی کا ۔ ولی دکنی

    بہت شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔بہت عمدہ غزل شیئر کی ہے جناب نے۔۔
  17. کاشفی

    ولی دکنی صحبتِ غیر میں جایا نہ کرو - ولی دکنی

    غزل (ولی دکنی - ولی الدین رحمتہ اللہ علیہ) صحبتِ غیر میں جایا نہ کرو درد مندوں کو کڑہا یا نہ کرو حق پرستی کا اگر ہے دعویٰ بے گناہوں کو ستایا نہ کرو اپنی خوبی کے اگر ہو طالب اپنے طالب کو جلایا نہ کرو ہے اگر خاطر عشاق عزیز غیر کو شکل دکھایا نہ کرو ہم کو برداشت نہیں غصہ...
  18. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں مجلسِ وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم مے کش دخترِ رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں دھیان میں لاکے ترا سلسلہء زلف دراز ہم شبِ ہجر کو کچھ اور بڑھا لیتے ہیں؟ ایک بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب جی میں سوچیں تو وہ کیا...
  19. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    دامنِ رحمت اگر آیا ہمارے ہاتھ میں پھول ہوجائیں گے دوزخ کے شرارے ہاتھ میں پوچھتے ہو کس سے؟ جو چاہو کرو، مختار ہو دل تمہارے ہاتھ میں ہے یا ہمارے ہاتھ میں (امیر مینائی)
  20. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    حسرت آتی ہے دلِ ناکام پر اس کو دے ڈالوں خدا کے نام پر ہو گیا صیاد بھی عاشق مزاج خود بچھا جاتا ہے اپنےدام پر جب پسند آتا ہے میرا شعر اُنہیں گالیاں پڑتی ہیں میرے نام پر جلنے لگتی ہے زبان کہتے ہی، داغ اُف نکل جاتی ہے میرے نام پر (داغ)
Top