نتائج تلاش

  1. کاشفی

    گہہ ہوئی صبح گاہ شام ہوئی ۔ قائم چاند پوری

    :rolleyes: ۔۔ کیا کہہ سکتا ہوں خوشی جی مجھ سے زیادہ بہتر جانتی ہیں میرے بارے میں۔۔۔
  2. کاشفی

    داغ یارب ہمیں دے عشقِ صنم اور زیادہ ۔ داغ دہلوی

    بہت خوب جناب سخنور صاحب۔۔
  3. کاشفی

    گہہ ہوئی صبح گاہ شام ہوئی ۔ قائم چاند پوری

    رنجش آگے جو خاص تھی ہم سے وائے طالع کہ وہ بھی عام ہوئی بہت ہی خوب جناب سخنور صاحب۔۔عمدہ۔۔
  4. کاشفی

    شب غم سے ترے جان ہی پر آن بنی تھی ۔ قائم چاند پوری

    خوب جناب سخنور صاحب۔۔شکریہ بیحد شریک محفل کرنے کے لیئے۔۔
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بتاؤں آپ سے مرنے کے بعد کیاہوگا پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا (اکبر الہ آبادی)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یہ کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کر گئے بی-اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے (اکبر الہ آبادی)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    حیا سے سر جھکا لینا ، ادا سے مسکرا دینا حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے ، بجلی گرا دینا (اکبر الہ آبادی)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ملا ہے ہم کو یہ مضمون روشن چشم بینا سے کہ چھوڑی جس نے خودبینی اسے سب کچھ نظر آیا (اکبر الہ آبادی)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا (اکبر الہ آبادی)
  10. کاشفی

    اردو رباعیات

    ہو علم اگر نصیب تو تعلیم بھی کر دولت جو ملے اُسے تقسیم بھی کر اللہ عطا کرے جوعظمت تجھ کو جو اہل ہیں اس کے ان کی تعظیم بھی کر (اکبر الہ آبادی)
  11. کاشفی

    اردو رباعیات

    اونچانیت کا اپنی زینہ رکھنا احباب سے صاف اپنا سینہ رکھنا غصہ آنا تو نیچرل ہے اکبر لیکن ہے شدید عیب کینہ رکھنا (اکبر الہ آبادی)
  12. کاشفی

    اردو رباعیات

    دولت وہ ہے جو عقل و محنت سے ملے لذت وہ ہے کہ جوش صحت سے ملے ایمان کو ہو نور دل میں وہ راحت ہے عزت وہ ہے جو اپنی ملت سے ملے (اکبر الہ آبادی)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    چار دن کی دوستی کا ہے زمانے میں رواج کس توقع پر کسی سے آشنائی کیجئے (رند)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کبھی خوفِ خزاں ہے اور کبھی صیاد کا کھٹکا بناؤں کیا سمجھ کر آشیانہ اس گلستاں میں (رند)
  15. کاشفی

    سودا زہے وہ معنیِ قرآں، کہے جو تُو واعظ ۔ مرزا رفیع سودا

    بہت ہی اعلٰی جناب سخنور صاحب۔۔
  16. کاشفی

    درد بن کب ہو اثر نالۂ شب گیر کے بیچ ۔ قائم چاند پوری

    شکریہ سخنور صاحب شریک محفل کرنے کے لیئے۔۔
  17. کاشفی

    میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصے میں ٹل جاؤں گا ۔ قائم چاند پوری

    تنگ ہوں میں بھی اب اس جینے سے اے جی، نہ رُکا جا نکل جا، جو تُو کہتا ہے "نکل جاؤں گا" بہت ہی خوب جناب سخنور صاحب۔عمدہ!
  18. کاشفی

    عہدے سے تیرے ہم کو بَر آیا نہ جائے گا ۔ قائم چاند پوری

    بہت عمدہ جناب سخنور صاحب۔۔
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ترے ہونٹوں سے چاہت کا اگر اظہار ہوجائے بہت مظبوط اور پختہ ہمارا پیار ہوجائے نگاہیں دیکھتی ہیں آج بھی تیری ہی راہوں کو ترستا ہے دلِ ناداں کہیں دیدار ہوجائے (شبنم ناز)
Top