غزل
(جوش ملیح آبادی)
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا
یہی تو ہیں دو ستُونِ محکم ان ہی پہ قائم ہے نظم عالم
یہ ہی تو ہے رازِ خُلد و آدم ،نگاہ میری، شباب تیرا
صبا تصدّق ترےنفس پر ،چمن تیرے پیرہن پہ قرباں
شمیم...
کلام کی پسندیدگی کے لیئے شکریہ مہربانی نوازش کرم۔۔خوش رہیں۔۔ جیتا تو نہیں رہونگا اب۔۔ ایکچولی ۔۔کہ آئی ایم ناٹ شیخ اینڈ نائدر چِلی ۔بس ٹائم تھوڑا کم ہے۔۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ عنقریب۔۔بائے بائے۔۔خدا حافظ:)
غزل
(مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ)
بہار نام کی ہے، کام کی بہار نہیں
کہ دستِ شوق کسی کے گلے کا ہار نہیں
رہے گی یاد اُنہیں بھی ، مجھے بھی، وصل کی رات
کہ اُن سا شوخ نہیں، مجھ سا بیقرار نہیں
سحر بھی ہوتی ہے چلتے ہیں اے اجل ہم بھی
اب اُن کے آنے کا...
غزل
(شاد پیر و میر)
شیخ محمد جان نام، تخلص شاد ، مشہور بہ شاد پیر و میر ، باپ کا نام شیخ وارث علی، دادا شیخ فضل علی لکھنؤ کے قدیم شیخ زادے تھے۔ حضرت محمد بن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے تھے۔
اجداد مذہب حنفی سنی رکھتے تھے۔ مگر عہد شاہی میں شیعہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔
شاد پیر...
ہم ناراض نہیں ہوتے صنف نازک پریوں سے ۔۔
مُنہ سے نام نہیں لیتے کہ سُن لے نہ کوئی
دل ہی دل میں آپ کا نام پڑھتے ہیں سُن لیجئے۔۔اور پھر بتائیے ۔۔صحیح یا غلط۔۔خیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لو خدا حافظ وہاں جاتے ہیں اب
جس جگہ جا کر کوئی آتا نہیں ۔۔۔ خدا حافظ
کوستا ہوں جو نصیبوں کو تو کہتا ہے وہ شوخ
پھر محبت نہ کرے گا اگر انساں ہوگا
زندگی عشق میں مشکل ہے تو مر جائیں گے
اب سے وہ کام کریں گے کہ جو آساں ہوگا
(داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
لاؤں میں اس سے دل میں کدورت محال ہے
یہ لال خاک میں تو ملایا نہ جائے گا
(امیر مینائی)
------------------
دل کیا ملاؤ گے کہ ہمیں ہوگیا یقیں
تم سے تو خاک میں بھی ملایا نہ جائےگا
(داغ دہلوی)
چُلو ہی سے پلا دے مجھے ساقیا شراب
ہوں ناتواں جام اُٹھایا نہ جائے گا
(امیر مینائی)
------------------
فتنہ نہیں ہوں جس کو اُٹھایا کرے فلک
مجھ سے گرے ہوئے کو اُٹھایا نہ جائے گا
(داغ دہلوی)
دے دوپٹہ تو اپنا ململ کا
ناتواں ہوں کفن بھی ہو ہل کا
(ناسخ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازنینوں سے کروں کیا ربط میں نازک مزاج
بوجھ اُٹھ سکتا نہیں مجھ سے کسی کے ناز کا
(ناسخ)