غزل
(ساغر صدیقی)
یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
مرا شعور مزاج عوام بدلے گا
یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار ہستی کی
نیا طریق قفس اور دام بدلے گا
نفس نفس میں شرارے سے کروٹیں لیں گے
دلوں میں جذبہء محشر خرام بدلے گا
مروتوں کے جنازے اٹھائے جائیں گے
سنا ہے ذوق سلام و پیام بدلے گا
دل...
غزل
(ساغر صدیقی)
جام ٹکراؤ! وقت نازک ہے
رنگ چھلکاؤ! وقت نازک ہے
حسرتوں کی حسین قبروں پر
پھول برساؤ! وقت نازک ہے
اک فریب اور زندگی کے لیئے
ہاتھ پھیلاؤ! وقت نازک ہے
رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کا
اب تو آجاؤ! وقت نازک ہے
تشنگی تشنگی ارے توبہ!
زلف لہراؤ ! وقت نازک ہے
بزم ساغر...
غزل
(ساغر صدیقی)
محبت کے مزاروں تک چلیں گے
ذرا پی لیں! ستاروں تک چلیں گے
سنا ہے یہ بھی رسم عاشقی ہے
ہم اپنے غمگساروں تک چلیں گے
چلو تم بھی! سفر اچھا رہے گا
ذرا اجڑے دیاروں تک چلیں گے
جنوں کی وادیوں سے پھول چن لو
وفا کی یادگاروں تک چلیں گے
حسین زلفوں کے پرچم کھول دیجیے...
معاہدات
(ساغر نظامی)
سرِ شوق پیہم جھکاتا رہونگا
بہ ہر گام کعبہ بناتا رہونگا
یہ بادِ مخالف سے ہے شرط میری
چراغ اپنے خود ہی بجھاتا رہونگا
ہے برق و شرر سے مرا عہد نامہ
کہ خود اپنے خرمن بتاتا رہونگا
شبِ تار سے میں نے وعدہ کیا ہے
اندھیرے کو مشعل دکھاتا رہونگا
زباں دی ہے...
کریما بہ بخشائے بر حالِ ما
کہ ہستیم اسیرِ کمندِ ہوا
اے کریم (اللہ) ہمارے حال (پر کرم کر) بخش دے، کہ ہم تو حرص و ہوا اور خود غرضی کی ڈوریوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
(شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ)
غزل
(ذرہ حیدر آبادی)
درد بہت ہے زُلف بکھیرے رکھو نہ
تم سینے پہ ہاتھ تو میرے رکھو نہ
اب آنگن میں دھوپ کی کرنیں آئیں گی
ایسے ایسے پیارے چہرے رکھو نہ
چال تمہاری پہلے ہی مستانی ہے
اب قدموں کو دھیرے دھیرے رکھو نہ
خوشیاں سب کو بانٹ سکو تو بانٹو تم
گھر میں ایسے چاند ستارے رکھو...
غزل
(افتخار راغب)
شامِ غم کی نہیں سحر شاید
یونہی تڑپیں گے عمر بھر شاید
حالِ دل سے مِرے ہیں سب واقف
صرف تو ہی ہے بے خبر شاید
روز دیدار تیرا کرتا ہوں
تجھ کو حیرت ہو جان کر شاید
وہ بھی میرے لیے تڑپتے ہوں
ایسا ممکن نہیں مگر ، شاید
شاخِ اُمید سبز ہے اب تک
آہی جائے کوئی ثمر شاید...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یہ سُنتے ہیں اُن سے یہاں آنے والے
جہنم میں جائیں وہاں جانے والے
ترس کھا ذرا دل کو ترسانے والے
اِدھر دیکھتا جا اُدھر جانے والے
وہ جب آگ ہوتے ہیں غصہ سے مجھ پر
تو بھڑکاتے ہیں اور چمکانے والے
مرادل، مرے اشک، غصہ تمہارا
نہیں رکتے روکے سے یہ آنے والے...