نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    شکریہ سخنور صاحب۔۔ جلوہ ہے دل میں حُبِ علی کی شراب کا مینائے احمری میں ہے پھول آفتاب کا (میر مونس ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گوہر نکلتے آتے ہیں دریائے طبع سے ہے عین آبرو جو کریں آشنا پسند (میر مونس ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبر میں خاک شفا پھولوں کی چادر باہر مجرئی بوئے ارم پھیلی ہے اندر باہر...
  2. کاشفی

    میرے سر پہ کبھی چڑھی ہی نہیں - مُنشی سید ریاض احمد

    شکریہ سخنور صاحب۔۔اور شکریہ فاتح صاحب۔۔ دونوں خوش باش رہیں۔۔
  3. کاشفی

    تعارف خوشی کا تعارف خوشی کی زبانی

    اوکے خوشی جی غلطی ہوگئی یہاں آیا۔۔معذرت۔۔
  4. کاشفی

    لَو دل کا داغ دے اٹھے ایسا نہ کیجیے - ریاض خیرآبادی

    بہت خوب جناب سخنور صاحب۔بہت اچھے۔۔مزا آیا۔۔
  5. کاشفی

    تعارف خوشی کا تعارف خوشی کی زبانی

    خوشی جی حد ہوگئی بھئی۔۔۔آپ نے صرف مجھے ہی اپنا نام بتا رکھا ہے۔۔ا ب کہہ رہی ہیں کہ میں نہیں بوجھ سکتا۔۔ یہ تو کھِلا تُضاد اے۔۔ ناانشافی بھئی۔۔ میں ناراض ہو سکتا ہوں سچی مچی میں۔۔
  6. کاشفی

    تعارف خوشی کا تعارف خوشی کی زبانی

    خوشی جی آپ کا اصلی نام بتا دوں سب کو کیا؟ ۔۔خوشی جی کا نام سن کر سب ایک ایسی دنیا میں محو ہوجائیں گے جہاں سے کسی کا بھی آنے کو دل نہیں چاہے گا۔۔۔۔بتا دوں کیا خوشی جی۔۔بولیں۔۔:)
  7. کاشفی

    میرے سر پہ کبھی چڑھی ہی نہیں - مُنشی سید ریاض احمد

    غزل (مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ) میرے سر پہ کبھی چڑھی ہی نہیں میں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیں ہائے سبزے میں وہ سیہ بوتل کبھی ایسی گھٹا اُٹھی ہی نہیں کس قدر ہے بنا ہوا زاہد جیسے اس نے “وہ چیز“ پی ہی نہیں صبح کا جھٹ پٹا تھا، شام نہ تھی وصل...
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں (غالب)
  9. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    مونس کی گلستاں میں ابھی آنکھ لگی ہے اے بلبلوں یہ شور مچانا نہیں اچھا (مونس ، میر محمد نواب صاحب مونس ، میر خلیق کے چھوٹے فرزند اور میر ببر علی انیس کے چھوٹے بھائی تھے۔ شاعری میں ان کا مرتبہ میر انیس سے کم نہ تھا۔ لیکن گوشہ نشینی نے ان کی شہرت کو مسدود رکھا - وضع کے نہایت پابند تھے۔ یہ...
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    شبہ ناسخ نہیں کچھ میر کی اُستادی میں آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں (ناسخ)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہیں حسیں اور بھی پر تجھ میں ہے ہر بات نئی دھج نئی، وضع نئی، گات نئی، بات نئی (ناسخ)
  12. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    یاد ہیں سب گلعذار لکھنؤ پھول سے بہتر ہیں خار لکھنؤ گل سے رنگیں تر ہیں خار لکھنؤ نشے سے بہتر خمار لکھنؤ سارے نقشے سامنے آنکھوں کے ہیں نقش ہیں نقش و نگارلکھنؤ ہم صفیر اپنا وطن ہے لکھنؤ ہم تو بلبل ہیں چمن ہے لکھنؤ آسماں کی کب ہے طاقت جو چھڑائے لکھنؤ لکھنؤ مجھ پر فدا ہے میں...
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تم شوق سے جابیٹھو اغیار کی صحبت میں لو ہم تو چلے یاں سے اے یار خدا حافظ محشر میں یہ بولیں گے سب رند کہ نکلا ہے چشتی کے گناہوں کا انبار خدا حافظ (چشتی - دہلی کے رہنے والے شاعر تھے، میرتقی میر کے پاس دہلی سے آئے اور ان کے شاگرد ہوئے اور تازندگی لکھنؤ میں رہے۔ زبان سیکھنے کی لالچ میں...
  14. کاشفی

    دل

    شاہد اصلی مجھے مقصود ہے کعبہء دل میں وہی معبود ہے (جان عالم)
  15. کاشفی

    تاسف م م مغل صاحب کے نانا جان کل رضائے الٰہی سے انتقال فرماگئے ہیں

    انا للہ و انا الیہ راجعون اللہ رب العزت مرحوم نانا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔۔آمین
  16. کاشفی

    محبت کے موضوع پر اشعار!

    محبت سے بنا لیتے ہیں اپنا دوست دشمن کو جھکاتی ہے ہماری عاجزی سرکش کی گردن کو (آتش)
  17. کاشفی

    دل

    دل ہدف ہوگیا بے تیر کے سُبحا ن اللہ کیا کماں دار تھا وہ اور نشانہ کیا تھا (شاہ اختر)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    مِری زبان سے پوچھو مزا محبت کا یہ خوب جانتی ہے ذائقا محبت کا نصیب فتح ہو یا ہو مجھے شکست اختر خدا بچائے ہوا سامنا محبت کا (شاہ اختر)
  19. کاشفی

    اعتبار ساجد کوئی کیسا ہم سفر ھے یہ ابھی سے مت بتاؤ ،،، اعتبار ساجد

    شکریہ خوشی جی شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  20. کاشفی

    چھین کر خواب مرے میری طلب پوچھتے ھیں ،،،، محمود عامر

    شکریہ خوشی جی شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
Top