بسم اللہ خوانی
(از: جناب بدرالدین صاحب - 1903ء)
یوں تو تمام مسلمان اس رسم کو حسب مقدور ادا کرتے ہیں مگر ایسے بہت کم لوگ ہیں جو اس تقریب کی غرض اور حقیقت سے واقف ہو کر اس کو انجام دیتے ہوں۔ جہاں تک دیکھا گیا ہے والدین محض ارمان نکالنے کی غرض سے بچوں کی بسم اللہ خوانی کیا کرتے ہیں جس سے اصل...
غزل
(حکیم میر ضامن علی صاحب جلال لکھنوی)
یاد آکے ترے ہجر میں سمجھائے گی کس کو
دل ہی نہیں سینے میں تو بہلائے گی کس کو
دم کھنچتا ہے کیوں آج یہ رگ رگ سے ہمارا
کیا جانے اِدھر دل کی کشش لائے گی کس کو
جب مار ہی ڈالا ہمیں بیتابیء دل نے
کروٹ شبِ فرقت میں بدلوائے گی کس کو
مرجائیں گے بے...
غزل
(حکیم میر ضامن علی صاحب جلال لکھنوی)
عرضِ مطلب میں شان جاتی ہے
بات اے مہربان جاتی ہے
عشق میں آن بان جاتی ہے
آن جاتی ہے شان جاتی ہے
بیمروت ہے پوری مرگِ فراق
چھوڑ کر نیم جان جاتی ہے
بات تو کرنے دے ہمیں اے ضبط
کام ہی سے زبان جاتی ہے
شب وصل اس کی دیکھیں اپنے بعد
کس کے گھر...
غزل
(حکیم میر ضامن علی صاحب جلال لکھنوی)
زہے قسمت جو تم اپنی گلی میں
جگہ مر رہنے کی دو زندگی میں
نہ پوچھو گے نہ درد دل کہوں گا
یونہی رہ جائیگی بس جی کی جی میں
خیالِ دوست تونے کی شبِ ہجر
عجب بیکس نوازی بیکسی میں
فلک کیا ہم کو سمجھا ہے کوئی زخم
رُلاتا ہے جو تو اکثر ہنسی میں...
ٹیپو سلطان
(از: شاکر میرٹھی - 1905ء)
جنوبی ہندوستان کی ریاست میسور میں حیدر علی ایک بڑا مشہور اور بہادر سردار تھا جس کے حُسنِ لیاقت کے باعث اس ریاست کو بڑی قوت اور وقعت حاصل ہوگئی تھی۔ ابتدا میں حیدرعلی اس ریاست میں فوج کا کپتان تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اُس کا رسوخ یہاں تک بڑھ گیا کہ 1761ء...
نوحہء حیات
(محشر لکھنوی)
مار ڈالا حسرتوں کے غم نے اے محشر ہمیں
چند دن میں ختم ہے اپنا بھی دورانِ حیات
گھٹ گیا زورِ جوانی ،ہوگئے عضا ضعیف
کون اب سر پر اُٹھائے بار احسانِ حیات
خیریت سے جیتے جیتے ہوگئے چالیس سال
اب کہاں وہ روز و شب کہئے جنہیں جانِ حیات
کان میں آخر صدائے الرحیل آنے...
غزل
(جگر مُراد آبادی)
ستم کوشیاں ہیں، ستم کاریاں ہیں
بس اک دل کی خاطر یہ تیاریاں ہیں
چمن سوز، گلشن کی گلکاریاں ہیں
یہ کس سوختہ دل کی چنگاریاں ہیں
نہ بے ہوشیاں اب، نہ ہشیاریاں ہیں
محبت کی تنہا فسوں کاریاں ہیں
نہ وہ مستیاں ہیں، نہ سرشاریاں ہیں
خودی کا ہی احساس خودداریاں ہیں...
غزل
(سید محمد حنیف اخگر)
غم ترک وفا ہی غم کا پیمانہ نہیں ہوتا
ہر آنسو دل کی بیتابی کا افسانہ نہیں ہوتا
کوئی ساغر پہ ساغر پی رہا ہے کوئی تشنہ ہے
مرتب اس طرح آئین میخانہ نہیں ہوتا
شناسا ہے دل اس کی ہر ادائے بے نیازی سے
وہ بیگانہ بھی ہوکر ہم سے بیگانہ نہیں ہوتا
نقاب رخ الٹ کر وہ...
غزل
(راج کمار قیس)
نوائے دل نے کرشمے دکھائے ہیں کیا کیا
مری اذاں نے نمازی جگائے ہیں کیا کیا
جمالِ یار تری آب و تاب کیا کہئے
نظر نظر کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا
ادائے ناز کو اندازِ دلبری سمجھے
فریب اہل محبت نے کھائے ہیں کیا کیا
زمیں زمیں نہ رہی اور فلک فلک نہ رہا
مقام و وَقت...
غزل
(محترمہ جنابہ زینب بی صاحبہ بنتِ جناب علی اکبر صاحب - 1910ء)
اللہ اللہ بیخودی بھی کیا تحیر خیز ہے
جلوہ ہائے عالم حیرت سے دل لبریز ہے
دل کی ہستی کا میں احساسِ تغیر کیا کروں
اب تو اس کا اُف تصور بھی جنوں انگیز ہے
محو حیرت ہوں میں جب سے کھل گئی ہے میری آنکھ
ہر جھلک رنگِ مجازی کی...
غزل
(محترمہ پروین صاحبہ - 1922ء)
کچھ اس کے منانے میں الجھن تو نہیں ہے
دنیا کوئی روٹھی ہوئی دُلہن تو نہیں ہے
جب چاہیں گے دیکھیں گے تجھے معبد دل میں
دشوار کچھ ایسا ترا درشن تو نہیں ہے
جاتے ہیں سوئے ملکِ عدم اتنا بتادو
اس راہ میں دل کا کوئی رہزن تو نہیں ہے
بے دیکھے ہوئے حوروں پہ...
زمزمہء تغزل
(مسعود الرحمن خاں صاحب - اثر)
یہ دل بھی وقفِ شیون ہے ابھی درد آشنا ہوکر
مزا تب تھا کہ رگ رگ بول اُٹھتی ہمنوا ہو کر
وہ صورت جو کبھی کاشانہء حسرت کی زینت تھی
وہ اب تک آنکھ میں پھرتی ہے تصویر وفا ہوکر
قیامت دیکھئے کل تک جو گلزارِ تمنّا تھا
وہ افسردہ ہوا آخر دل بے مدعا ہوکر...
تجلیاتِ منیر
( منیر الہ آبادی)
قبل اس کے کہ اصلیّت اغیار کی کچھ جانے
لازم ہے یہ انساں کو آپ اپنے کو پہچانے
روشن ہے خداخانہ جس نور کے پرتو سے
لاریب اسی جلوہ سے معمور ہیں بتخانے
یہ عقدہء لایخل ، حل کر نہ سکا کوئی
کیوں شمع ہوئی ٹھنڈی کیوں جل گئے پروانے
ہوش آیا تو کب آیا، عقل آئی تو...
غزل
(خانبہادر سید علی محمد شاد مرحوم عظیم آبادی)
کب سے پکارتا ہوں جوانی کدھر گئی
کیا زندگی کی راہ میں کمبخت مر گئی
ناحق ہے دل کو صبح شبِ غم کا انتظار
تھوڑی سی اب ہے رات بہت کچھ گذر گئی
عمررواں کی تیز روی کا بیاں کیا
اک برق کوند کر ادھر آئی اُدھر گئی
اس سے تو تھا مرے لئے بہتر کہیں...
غزل
(جناب قدرت علی صاحب ، تخلص عزت)
اس تجاہل سے مدعا کیا ہے
تیری یہ ہر گھڑی کی “کیا“ کیا ہے
اب وہ بیتابیاں نہیں مجھ میں
جانے آنکھوں سے بہ گیا کیا ہے
درد دل ہوگیا دوا آخر
ہم نہیں جانتے دوا کیا ہے
بیقراری یہ کیوں ہے حضرتِ دل
کچھ تو فرمائیے ہوا کیا ہے
ہو نہ بوئے ریا تو پھر زاہد...
[CENTER]غزل
(سید محمد ہادی دہلوی)
[SIZE="5"][COLOR="blue"]ہوگیا وجہ جنوں عشق کا چرچا مجھ کو
دیکھئے کیا کرے یہ سوزشِ سودا مجھ کو
آنکھیں پتھرا گئیں دل ہجر سے بیتاب ہوا
اب تو دکھلا دو خدارا رُخ زیبا مجھ کو
اس کی زلفوں کا بکھرنا تھا قیامت آئی
ہوگیا مجھ کو جنوں ہوگیا سودا مجھ کو...
غزل
(راج کمار قیس)
کوئی اُمید نہ تھی، پھر بھی پاس آہی گیا
اگرچہ وعدہ تھا جھوٹا مگر نبھا ہی گیا
وہ التفات پہ آیا پر احتیاط کے ساتھ
نظر ملائی مگر حالِ دل چھپا ہی گیا
دل تباہ کو زخموں سے مالا مال کیا
خزاں کا دَور تھا لیکن وہ گل کھلا ہی گیا
مرے قریب سے گزرا خیال کی صورت
سکوتِ ناز...
غزل
(راج کمار قیس)
دعا نے کام کیا ہے، یقیں نہیں آتا
وہ میرے پاس کھڑا ہے ، یقیں نہیں آتا
میں جس مقام پر آکر رُکا ہوں شام ڈھلے
وہیں پہ وہ بھی رُکا ہے، یقیں نہیں آتا
وہ جس کی ایک جھلک کو ترس گئی تھی حیات
وہ آج جلوہ نما ہے، یقیں نہیں آتا
وہ جس کی آنکھ میں دونوں جہاں دکھائی پڑیں...