غزل
(سید محمد حنیف اخگر)
پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا
اب ایک بھی دیا سرِ مژگاں نہیں رہا
قلبِ گداز و دیدہء تر تو ہے اپنے پاس
میں شاد ہوں کہ بے سروساماں نہیں رہا
آنکھوں میں جل اُٹھے ہیں دیئے انتظار کے
احساسِ ظلمتِ شبِ ہجراں نہیں رہا
تُجھ سے بچھڑ کے آج بھی زندہ تو ہُوں مگر
وہ...
غزل
(سید محمد حنیف اخگر)
وہ سُنا رہے تھے لیکن نہ سنا گیا فسانہ
ذرا آنکھ لگ گئی تھی کہ گزر گیا زمانہ
غم نو بہ نو کی زد سے ہے محال دل بچانا
کبھی دکھ کے تازیانے کبھی درد کا فسانہ
اسی کشمکش میں الفت کا گزر گیا زمانہ
کبھی آپ ہچکچائے کبھی دل کہا نہ مانا
کہیں تم بھی ہو نہ جانا مری...
غزل
(جگر مُراد آبادی)
نیاز عاشقی کو ناز کے قابل سمجھتے ہیں
ہم اپنے دل کو بھی اب آپ ہی کا دل سمجھتے ہیں
عدم کی راہ میں رکھا ہی ہے پہلا قدم میں نے
مگر احباب اس کو آخری منزل سمجھتے ہیں
قریب آ آکے منزل تک پلٹ جاتے ہیں منزل سے
نہ جانے دل میں کیا آوارہء منزل سمجھتے ہیں
الہٰی ایک دل...
غزل
(جگر مُراد آبادی)
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں
شروعِ راہِ محبت، ارے معاذ اللہ
یہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر
نظر ملاتے نہیں، مسکرائے جاتے ہیں
مرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیں
لجائے جاتے...
(حصہ اوّل )
بہت اُکتا چُکا ہے آج کا انسان مُلا بس
ابھی نکلا نہیں،دل کا ترے ارمان مُلا بس
کبھی تُو اشرف المخلوق تھا کچھ یاد ہے تجھ کو
پتہ اب مانگتے ہیں تجھ سے سب حیوان مُلا بس
تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ
کہ تیری رِیس کر سکتا نہیں شیطان مُلا بس
بہت کی خدمتِ اسلام مُلا...
غزل
(ساغر صدیقی)
ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں
مئے شعلہ فگن پی کر گلستاں لڑکھڑاتے ہیں
تخیل سے گزرتے ہیں تو نغمے چونک اُٹھتے ہیں
تصور میں بہ انداز بہاراں لڑکھڑاتے ہیں
قرار دین و دنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہیں
سہارے دیکھ کر زلف پریشاں لڑکھڑاتے ہیں
تری آنکھوں کے افسانے...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ
منظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ؟
بیعت بھی جو کرتا ہے، تو وہ دستِ سبو پر
چکراتی ہے کیا رندِ خرابات سے توبہ؟
خود ہم نہ ملیں گے نہ کہیں جائیں گے مہماں
کی آپ نے واللہ نئی گھات سے توبہ
وہ آئی گھٹا جھوم کے للچانے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس
جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس
بولا وہ بُت سرہانے مرے آکے وقتِ نزع
فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟
توفیق اتنی دے مجھے افلاس میں خدا
حاجت نہ لے کے جاؤں کبھی اغنیا کے پاس
رہتے ہیں ہاتھ باندھے ہوئے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
چھوڑو نہیں اے بتو حیا کو
کیا منہ نہ دکھاؤ گے خدا کو
لٹکاؤ نہ گیسوئے رسا کو
پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
ظالم تجھے دل دیا، خطا کی
بس بس میں پُہنچ گیا، سزا کو
کانٹوں سے کہو سنبھال لینا
آتا ہے غش اک برہنہ پاکو
بلبل کو ملی جو باغ بانی
روکے در باغ پر...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزار وں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
اِن شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہےوہ، دل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے،...
ہم بُرے اعمال کر کر مر چلے
شایق مفتی
ہم بُرے اعمال کر کر مر چلے
اُمت ، احمد کو رسوا کر چلے
ڈر نہیں کیا تیرگیء حشر کا
نور عشق مصطفی لے کر چلے
یاد ابروئے نبی بسمل نہ چھوڑ
حلق پر جلدی سےمرے خنجر چلے
رحمت حق نے بلایا پیارے
ہم جو روتے جانب محشر چلے
راہ طیبہ میں تھکے جو اپنے پاؤں...
ہمارا سینہ ہے مسکن خدا کا
(شایق مفتی - 1915ء)
ہمارا سینہ ہے مسکن خدا کا
دل پُرداغ ہے گلشن خدا کا
یہ سچ ہے “مَن لہ المولٰی لہُ الکُل“
تماشا دیکھ تو بھی بن خدا کا
محبت بڑھتے بڑھتے عشق ہوجائے
یہی دانہ بنے خرمن خدا کا
تجلی سے عیاں میدانِ دل میں
یہی ہے وادیِ ایمن خدا کا
خدا کا دوست...
ذکر دوزخ نہ سُنا اے واعظ
(شایق مفتی)
ذکر دوزخ نہ سُنا اے واعظ
بس مرا دل نہ جلا اے واعظ
حور و جنت سے نہیں کام ہمیں
ذکر احمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سُنا اے واعظ
نہ کسی شے سے مطلب نہ غرض
عشق احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اے واعظ
عشق نے گھر کیا جب سے دل میں
ہوں گرفتار بلا اے واعظ...
غزل
(شایق مفتی)
آرزو کوئی تو بر لائیے آپ
وصل میں مجھ سے نہ شرمائیے آپ
غم دوری سے نہ تڑپائیے آپ
میرے پہلو سے نہ اُٹھ جائیے آپ
غیر کے گھر نہ گئے تھے شب کو
خیر بہتر ہے قسم کھائیے آپ
حال قاصد سے زبانی کہیئے
خط نہ اغیار سے لکھوائیے آپ
دیکھ لوں عارض پر نور کو میں
رخ سے آنچل کو...
پابندیاں لگانے والوں کے نام معذرت کے ساتھ - :)
غزل
(ساغر صدیقی)
چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے
ان دنوں وقت پہ، حالات پہ پابندی ہے
بکھری بکھری ہوئی زلفوں کے فسانے چھیڑو
مے کشو! عہد خرابات پہ پابندی ہے
دل شکن ہو کے چلے آئے تری محفل سے
تیری محفل میں تو ہر بات پہ پابندی ہے...
غزل
(ساغر صدیقی)
تن سلگتا ہے من سلگتا ہے
جب بہاروں میں من سلگتا ہے
نوجوانی عجیب نشہ ہے
چھاؤں میں بھی بدن سلگتا ہے
جب وہ محو خرام ہوتے ہیں
انگ سرو سمن سلگتا ہے
جانے کیوں چاندنی میں پچھلے رات
چپکے چپکے چمن سلگتا ہے
تیرے سوزِ سخن سے اے ساغر
زندگی کا چلن سلگتا ہے
غزل
(ساغر صدیقی)
ہر شے ہے پر ملال بڑی تیز دھوپ ہے
ہر لب پہ ہے سوال بڑی تیز دھوپ ہے
چکرا کے گر نہ جاؤں میں اس تیز دھوپ میں
مجھ کو ذرا سنبھال بڑی تیز دھوپ ہے
دے حکم بادلوں کو خیاباں نشیں ہوں میں
جام و سبو اچھال بڑی تیز دھوپ ہے
ممکن ہے ابر رحمت یزداں برس پڑے
زلفوں کی چھاؤں ڈال بڑی...