غزل
(محسن امرتسری)
ہو رہے ہیں عہدوپیماں کچھ نیاز و ناز سے
دل کا محسن اب خدا حافظ ہے بزمِ راز میں
انتہا بیتاب ہو کر آگئی آغاز میں
سر کا جُھکنا تھا کہ دل پہنچا حریمِ ناز میں
دل میں کچھ ہے اور زباں پر کچھ ،کہاں سے ہو اثر
ساز ہم آہنگ ہوں تو سوز ہو آواز میں
فرقِ ناقوس و اذاں نقصِ...
غزل
(ہری چند اختر)
آباد اگر نجد کا ویرانہ نہیں ہے
مجنوں کو بُلا لاؤ، وہ دیوانہ نہیں ہے؟
ہے شمعِ وفا محفلِ اُلفت میں ضیا ریز
اس شمع پہ لیکن کوئی پروانہ نہیں ہے
یہ عقل کی باتوں میں تو آئے گا نہ ہرگز
عاشق ترا ہشیار ہے دیوانہ نہیں ہے
ساقی تری محفل ہے مئے ناب میں غرقاب
اور میرے لئے...
غزل
(سیفی نوگانوی)
عشق بے چین رکھے گا مجھے معلوم نہ تھا
درد رہ رہ کے اُٹھے گا مجھے معلوم نہ تھا
نام سنتے ہی نکل آئے گاآنسو بن کر
رازِ الفت نہ چھُپے گا مجھے معلوم نہ تھا
اُس کے غم سے کبھی فرصت نہ ملے گی مجھ کو
ہاتھ دل سے نہ ہٹے گا مجھے معلوم نہ تھا
میرے احساس کی دُنیا ہی نرالی ہو...
غزل
(سید عبدالحمید عدم)
افسانہ چاہتے تھے وہ، افسانہ بن گیا
میں حُسنِ اتفاق سے دیوانہ بن گیا
وہ اِک نگاہ دیکھ کے خود بھی ہیں شرمسار
ناآگہی میں یُونہی اِک افسانہ بن گیا
موجِ ہوا سے زُلف جو لہرا گئی تری
میرا شعور لغزشِ مستانہ بن گیا
حُسن ایک اختیارِ مکمل ہے، آپ نے
دیوانہ کر دیا...
غزل
(شاکر صدیقی)
حُسن کی جلوہ پاشیاں جب ہوں نظر کے سامنے
دل ہو ہزار مرمریں خس ہے شرر کے سامنے
رنگ جمال خواب تھا یاد ہے اسقدر مجھے
کوند گئی تھیں بجلیاں میری نظر کے سامنے
عشق کی فتنہ کوشیاں، آنکھ کی خون فروشیاں
لالہ و گل ہیں داغ داغ قلب و جگر کے سامنے
دونوں جہاں کی چاندنی میری نظر...
غزل
(ریاض خیر آبادی)
ساغر چڑھائے پھول کے ہرشاخسار نے
دریا بہا دئے خم ابر بہار نے
روشن کئے چراغِ لحد لالہ زار نے
اس مرتبہ تو آگ لگادی بہار نے
اودی گھٹائیں چھائی ہیں اے میکشو چلو
پریوں کے تخت روک لئے سبزہ زار نے
اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں ایک آہ کی
بے آس ہو کے اس دل امیدوار نے...
غزل
(ساغر نظامی)
مقسوم دل کروں خلش نشتر کو میں
اب کے تری نظر سے لڑادوں نظر کو میں
میرا مذاق عشق زمانے پہ کھل گیا
اب کیا کہوں چھپا نہ سکا چشم تر کو میں
خاموشیء جمود میں پھونکونگا صورِ حشر
تیری خبر سنا کے دلِ بے خبر کو میں
یا آرزو نے عمرِ محبت سنوار دی
یا دستِ آرزو سے گیا عمر بھر کو میں...
درسِ خود داری
(از: آغا حشر کاشمیری)
یقین اُن کی عنایت کا زینہار نہ کر
بہشت بھی جو یہ بُت دیں تو اعتبار نہ کر
ہر ایک اشک تماشائے صد گلستان ہے
امیدِ عیش کو شرمندہء بہار نہ کر
وہ مرگ عشق کی لذت سے آشنا ہی نہیں
دعائے خضر پہ آمین بار بار نہ کر
ترانہ جنگ کا شور شکست دل کو سمجھ
کبھی اطاعتِ...
غزل
(ثاقب جالندھری - 1900ء)
گہرے تعلقات ہیں اُس رنگ و بُو کے ساتھ
جنّت رگوں میں دوڑ رہی ہے لہو کے ساتھ
گزرے گی جس طرح بھی گزاریں گے زندگی
وعدہ نباہ کا ہے ہر اِک آرزو کے ساتھ
یہ جانتی ہے سوختہ سامانیوں کا راز
صحرا نہ جل اُٹھے مری آوازِ ہُو کے ساتھ
ہے اضطراب اور بلا کا ہے اضطراب...
چاند کو رہا کردو ۔
(کے اشرف )
-
-
-
مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ آرٹیکل K. Ashraf صاحب کا تھا جسے کسی نے چُرا کے اس میں کافی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس لیئے میں نے اسے ڈلیٹ کر دیا ہے۔۔۔ انتظامیہ سے گذارش ہے کہ اس لڑی کو بھی ڈلیٹ کر دیں۔پلیز۔
شکوہ ء وطن
(ڈاکٹر سکندر شیخ مطرب - امریکہ)
(نظم مکمل پیش نہیں کی گئی ہے)
بہل نہ پائی طبیعت تو آنکھ بھر آئی
دل اداس کو کیا کیا نہ بات سمجھائی
تمہاری یاد بھی آئی تو اسکے بعد آئی
دیار غیر میں پہلے وطن کی یاد آئی
خیال آیا کبھی دوستوں کا یاروں کا
ستم گزاروں کا سوچا کبھی تو پیاروں کا...
غزل
(حکیم آزاد انصاری)
جانتے ہیں، قادرِ ہر کار تم، بیکار ہم
مانتے ہیں، فاضلِ مختار تم، ناچار ہم
اب ہمیں جب دیکھئے، ہم شاغلِ تسبیحِ دوست
اب ہمیں جب پوچھئے، محوِ خیالِ یار ہم
حُسن کی اقلیم کے مغرور شاہنشاہ تم
عشق کی سرکار کے بدبخت خدمتگار ہم
آج فرصت مل چکی ہے آرزوئے زیست سے
آج...
غزل
(حفیظ ہوشیار پوری)
غم سے گر آزاد کرو گے
اور مجھے ناشاد کرو گے
تم سے اور اُمید وفا کی؟
تم اور مجھ کو یاد کرو گے؟
ویراں ہے آغوشِ محبت
کب اس کو آباد کرو گے؟
عہدِ وفا کو بھولنے والو
تم کیا مجھ کو یاد کرو گے
آخر وہ ناشاد رہے گا
تم جس دل کو شاد کرو گے
میری وفائیں اپنی...
غزل
(ماہرالقادری)
زمانے میں آرام و راحت کہاں ہے
یہاں آسماں ہے وہاں آسماں ہے
میں قائل ہوں دیرو حرم کا بھی لیکن
ترا آستاں پھر ترا آستاں ہے
محبت کے رہرو کو تنہا نہ سمجھو
طلب راہبر ہے ، جُنوں پاسپاں ہے
زمانے کی سب راحتیں ہیں مُسلّم
غموں سے مگر مجھ کو فرصت کہاں ہے
قفس سے ہی اب...
غزل
(رضا علی وحشت)
نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے
دلِ فسردہ لئے جاتا ہے چمن سے مجھے
مثالِ شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھی
یہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے
بڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشتِ خاطر
نکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے
عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ
مگر نکال...
غزل
(ماہرالقادری)
مجاز ہی کو حقیقت بنائے جاتے ہیں
وہ ہیں کہ سارے زمانے پہ چھائے جاتے ہیں
عجیب شان سے جلوے دکھائے جاتے ہیں
مجھ ہی سے چھپ کے، مجھ ہی میں سمائے جاتے ہیں
مشاہدات کی دُنیا بسائے جاتے ہیں
تحیّرات کے سکّے بٹھائے جاتے ہیں
تجلیوں کے فسانے سنائے جاتے ہیں
خموش ہیں وہ، مگر...
غزل
(حرماں خیر آبادی)
کاش کچھ بہتر ہو انجامِ سفر میرے لئے
رات دن گردش میں ہیں شمس و قمر میرے لئے
کیا یہی ہے حاصلِ لیل و نہارِ زندگی
شام سے اک کشمکش ہے تاسحر میرے لئے
آج کس رفعت پہ ہوں تیری نگاہِ لطف سے
سر بہ سجدہ ہو نہ جائیں بام و در میرے لئے
ایک نظارے نے اس کے دل کے ٹکڑے کر دیئے
آج قاتل...
نوائے فراق
(فراق گورکھپوری)
اُمید و یاس کے اب وہ پیام بھی تو نہیں
حیاتِ عشق کی وہ صبح و شام بھی تو نہیں
بس اک فریبِ نظر تھا جمال گیسو و رُخ
وہ صبح بھی تو نہیں اب وہ شام بھی تو نہیں
وفورِ سوزِ نہاں کا علاج کیوں کر ہو
جو لے سکے کوئی وہ تیرا نام بھی تو نہیں
انہیں محال ہے تمیزِ قیدو آزادی
کہ...
غزل
(حفیظ ہوشیار پوری)
(مندرجہ ذیل اشعار مشفق محترم خان بہادر نواب احمد یار خاں صاحب دولتانہ کی ذات گرامی سے معنون کرتا ہوں کہ انہیں کا نام اس “قافیہ پیمائی “کا محرّک ہوا۔)
مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ
وہی آہ صبحگاہی، وہی گریہء شبانہ
تب و تاب یک نفس تھا غمِ مستعارِ ہستی
غمِ عشق نے...
غزل
(منظور حسین ماہر القادری)
مآلِ گل کی خبر کو ششِ صبا معلوم
کلی کلی کو ہے گلشن کی انتہا معلوم
ہر اک قدم رہِ الفت میں ڈگمگاتا ہے
یہ ابتدا ہے تو پھر اس کی انتہا معلوم!
تجلیات کی اک رو میں بہ چلا ہے دل
نہ آرزو کی خبر ہے نہ مدعا معلوم
چلے ہیں اُس کے طلبگار سوئے دیر و حرم
جو...