غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
لطف آرام کا نہیں ملتا
آدمی کام کا نہیں ملتا
کیسے حاضر جواب ہو کہ جواب
میرے پیغام کا نہیں ملتا
اُس نے جب شام کا کیا وعدہ
پھر پتہ شام کو نہیں ملتا
جستجو میں بہت ہے وہ کافر
بھید اسلام کا نہیں ملتا
مل گیا میں تمہیں وگرنہ غلام
کوئی بے دام کا نہیں...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ستم ہے کرنا، جفا ہے کرنا، نگاہِ اُلفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی، ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
ہماری میّت پہ تم جو آنا تو چار آنسو گرا کے جانا
ذرا ہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا، وہ جانتے ہیں تھیں یہ رسمیں...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دل پُر اضطراب نے مارا
اسی خانہ خراب نے مارا
میری آنکھوں سے ہے عیاں پسِ مرگ
نرگسِ نیم خواب نے مارا
دیکھ لینا کہ حشر کا میدان
میرے حاضر جواب نے مارا
یاد کرتے ہو غیر کے اشعار
ہائے اس انتخاب نے مارا
دل لگاوٹ نے کردیا بسمل
اور پھر اجتناب نے...
نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
(افتخار راغب)
خواہش نہیں ذرا بھی مجھے نام وام کی
میرے قلم کو پیاس ہے کوثر کے جام کی
یہ دل کہ جس میں پیار بسا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا
اِک چیز بس یہی ہے مِرے پاس کام کی
پیغامِ شاہِ دیں صلی اللہ علیہ وسلم کی محتاج کائنات
رحمت ہے سب کے واسطے...
غزل
(امیر مینائی)
ہم لوٹتے ہیں، وہ سو رہے ہیں
کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت
جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں
پیری میں بھی ہم ہزار افسوس
بچپن کی نیند سو رہے ہیں
روئیں گے ہمیں رُلانے والے
ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں
کیوں کرتے ہیں غمگسار تکلیف
آنسو مرے مُنہ...
اشعارِ اثر
(اثر - تخلص ہے، میر محمد نام، شاہ جہاں آبادی ، چھوٹے بھائی تھے خواجہ میر درد مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ کے، واقف تھے فن تصوف سے اورآگاہ تھے علم معرفت سے۔)
بے وفا تجھ سے اب گلا ہی نہیں
تو تو گویا کہ آشنا ہی نہیں
یا خدا پاس، یا بتاں کے پاس
دل کبھی اپنا یاں رہا ہی نہیں...
غزل
(آرزو - تخلص ہے، سراج الدین علی خاں نام، متوطن اکبر آباد کے)
آتا ہے صبح اُٹھ کے تیری برابری کو
کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشیدخاوری کو
دل مارنے کا نسخہ پُہنچا ہے عاشقوں تک
کیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو
اس تندخو صنم سے ملنے لگا ہے جب سے
ہر کوئی مانتا ہے میری دلاوری کو
اپنی...
غزل
(صدف مرزا)
کِیا کرتی ہوں تنہائی میں اشکوں سے وضو اکثر
تصور میں رہا کرتی ہے، تجھ سے گفتگو اکثر
تری آنکھوں میں خود کو ڈھونڈتی ہوں اس لئے شاید
کہ اپنی ہی رہا کرتی ہے مجھ کو جستجو اکثر
تکا کرتی ہوں تنہا بیٹھ کر پہروں جو پھولوں کو
تمہاری ان میں ہوتی ہے شباہت ہو بہو اکثر
وہ رازِ...
بابل
(صدف مرزا)
میرے لہو میں دیئے جس کے خوں کے جلتے ہیں
نقوش جس کے میرے خال و خد میں ڈھلتے ہیں
مہک سے جس کی گُل و لالہ مجھ میں کھلتے ہیں
میری ہنسی میں سبھی رنگ اس کے ملتے ہیں
وہ جس کی تھام کے انگلی کو چلنا سیکھا تھا
قلم سے اس کے ہی میں نے یہ لکھنا سیکھا تھا
وہ جس نے پڑھنا مجھے حرف...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا
تو ہنس کے بولے وہ منہ قابلِ نقاب نہ تھا
شبِ وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھا
نقاب اُلٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا
لپٹ کے چوم لیا منہ، مٹا دیا انکار
نہیں کا اُن کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا
مرے جنازے پہ...
غزل
(جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
منہ پہ رکھنے لگے نقاب بہت
آج کل بڑھ گیا حجاب بہت
ہم بھی اُمید وصل سے خوش ہیں
ہے زمانہ کو انقلاب بہت
جان بچتی نظر نہیں آتی
آج ہے دل کو اضطراب بہت
دارِ فانی میں کیا ہو خاطر جمع
خود پریشاں ہے یہ خواب بہت
نہ جما رنگ اشک خوں...
غزل
(جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
کل نشہ میں تھا وہ بُت مسجد میں گر آجاتا
ایماں سے کہو یارو! پھر کس سے رہا جاتا
مردے کو جلا لیتے، گرتے کو اُٹھا لیتے
اک دم کو جو یاں آتے تو آپ کا کیا جاتا
یہ کہیئے کہ دھیان اُس کو آتا ہی نہیں، ورنہ
محشر سے تو سو فتنے وہ دم...
اپنی اپنی جنّت
(عالیہ تقوی - الہ آباد)
شیخ جی بولے ایک لڑکے سے
کام اچّھے کرو مرے بچّے
دیکھنا ٹی وی، کھیلنا کریکٹ
کرلو توبہ بس ان سے اب جھٹ پٹ
رکّھو بس روزہ و نماز سے کام
تاکہ جنّت میں پھر ملے انعام
بولا لڑکا مجھے تو معاف کرو
بس یہ جنّت تمہیں مبارک ہو
شہد اور دودھ بیر اور انار
مجھ کو ان...
مدح عمر فاروق رضی اللہ عنہ
(شایق مفتی)
یہ دل ہو آشنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا
تصور ہو خدا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا
بلاشک کاشفِ وحی خدا تھا
کلامِ حق نما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا
خلیفہ اور راتوں کو کرے گشت
عجب کچھ عدل تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا
خلیفے دوسرے میں مصطفی صلی اللہ...
مدح صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
(شایق مفتی)
بھلا کیا ہوسکے ہم سے بیاں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا
خدائی جبکہ ہے سارا جہاں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا
ابھی تک قرب ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کا
ہے آغوش محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکاں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا
ہوئے ہیں...
غزل
(ساغر صدیقی)
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی
پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرِد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی
ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت...
غزل
(ساغر صدیقی)
اگرچہ ہم جارہے ہیں محفل سے نالہء دلفگار بن کر
مگر یقین ہے کہ لوٹ آئیں گے نغمہء نوبہار بن کر
یہ کیا قیامت ہے باغبانو کہ جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمہاری آنکھوں میں خار بن کر
جہاں والے ہمارے گیتوں سے جائزہ لیں گے سسکیوں کا
جہان میں پھیل جائیں گے ہم...
غزل
(اکبر الہ آبادی )
یہ عمر ، یہ حُسن اور ناز و ادا، ا س پر یہ سنگار اللہ اللہ
مستیء نگہ اُف اُف کی جگہ ، سینے کا اُبھار اللہ اللہ
یہ گیسوے پیچاں دام خرد یہ نرگسِ فتاں دشمنِ دیں
یہ عارض رنگیں غیرتِ گل ہستی کی بہار اللہ اللہ
گالوں میں ترے کندن کی دمک بالوں میں ترے عنبر کی مہک
سینے پہ جواہر...
غزل
(ساغر نظامی)
بلند از باوفا و جفا ہو گئے ہم
محبت سے بھی ماورا ہو گئے ہم
اشاروں اشاروں میں کیا کہہ گئیں وہ
نگاہوں نگاہوں میں کیا ہو گئے ہم
ترے دل میں تیری نظر میں سما کر
تمنائے ارض و سما ہوگئے ہم
حقیقت نہ تھی دل لگانے کے قابل
حقیقت سے کیوں آشنا ہوگئے ہم
محبت کی کچھ تلخیوں...
غزل
(ساغر نظامی)
آیا وہ مرا جانِ بہاراں نظر آیا
ہر سمت گلستاں ہی گلستاں نظر آیا
پھر چھیڑ دیا روح کو مضرابِ نظر نے
پھر تیر سا پیوستِ رگِ جاں نظر آیا
پھر کاکل شب رنگ میں جھلکا رُخِ روشن
پھر کفر کے آغوش میں ایماں نظر آیا
کافر ہوں،میں کافر ہوں مرا کفر محبت
یہ کفر مجھے حاصلِ ایماں...