ساغر نظامی بلند از باوفا و جفا ہو گئے ہم - ساغر نظامی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 13, 2010

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (ساغر نظامی)

    بلند از باوفا و جفا ہو گئے ہم
    محبت سے بھی ماورا ہو گئے ہم

    اشاروں اشاروں میں کیا کہہ گئیں وہ
    نگاہوں نگاہوں میں کیا ہو گئے ہم

    ترے دل میں تیری نظر میں سما کر
    تمنائے ارض و سما ہوگئے ہم

    حقیقت نہ تھی دل لگانے کے قابل
    حقیقت سے کیوں آشنا ہوگئے ہم

    محبت کی کچھ تلخیوں کی بدولت
    مغنیء شیریں نوا ہو گئے ہم

    نہ دیکھے گئے اُس نظر کے تقاضے
    زسرتابہ پا مُدعا ہوگئے ہم

    سمجھنا ترا کوئی آساں ہے ظالم
    یہ کیا کم ہے خود آشنا ہوگئے ہم

    بھٹک کر پڑے رہزنوں کے جو ہاتھوں
    لُٹے اس قدر ، رہنما ہو گئے ہم

    جنونِ خودی کا یہ اعجاز دیکھو
    کہ جب موج آئی خدا ہوگئے ہم

    چٹکنے نہ پائی تھیں کلیاں چمن میں
    کہ اس جانِ گل سے جدا ہوگئے ہم

    محبت نے عمرِ ابد ہم کو بخشی
    مگر سب یہ سمجھے فنا ہوگئے ہم

    نہیں کم یہ ہستی کی معراج ساغر
    کہ خاکسترِ میکدہ ہوگئے ہم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ! کیا خوبصورت غزل ہے۔ شکریہ کاشفی صاحب۔ دو اشعار دیکھیے گا۔
    اس شعر میں "آساں" ہونا چاہیے۔

    سمجھنا ترا کوئی آسان ہے ظالم
    یہ کیا کم ہے خود آشنا ہوگئے ہم

    اس شعر میں "ہاتھوں" ہونا چاہیے۔
    بھٹک کر پڑے رہزنوں کے جو ہاتوں
    لُٹے اس قدر ، رہنما ہو گئے ہم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. علی فاروقی

    علی فاروقی محفلین

    مراسلے:
    268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت خوب جناب، بہت عمدہ غزل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    شکریہ سخنور صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    شکریہ فاروقی صاحب!
     
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بلند از وفا و جفا ہو گئے ہم
    محبت سے بھی ماورا ہو گئے ہم

    اشاروں اشاروں میں کیا کہہ گئیں وہ
    نگاہوں نگاہوں میں کیا ہو گئے ہم

    ترے دل میں تیری نظر میں سما کر
    تمنائے ارض و سما ہوگئے ہم

    حقیقت نہ تھی دل لگانے کے قابل
    حقیقت سے کیوں آشنا ہوگئے ہم

    محبت کی کچھ تلخیوں کی بدولت
    مغنّیِ شیریں نوا ہو گئے ہم

    نہ دیکھے گئے اُس نظر کے تقاضے
    زسرتابہ پا مُدعا ہوگئے ہم

    سمجھنا ترا کوئی آساں ہے ظالم
    یہ کیا کم ہے خود آشنا ہوگئے ہم

    بھٹک کر پڑے رہزنوں کے جو ہاتھوں
    لُٹے اس قدر ، رہنما ہو گئے ہم

    جنونِ خودی کا یہ اعجاز دیکھو
    کہ جب موج آئی خدا ہوگئے ہم

    چٹکنے نہ پائی تھیں کلیاں چمن میں
    کہ اس جانِ گل سے جدا ہوگئے ہم

    محبت نے عمرِ ابد ہم کو بخشی
    مگر سب یہ سمجھے فنا ہوگئے ہم

    نہیں کم یہ ہستی کی معراج ساغرؔ
    کہ خاکسترِ میکدہ ہوگئے ہم

    (ساغرؔ نظامی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر