نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کہہ دو مجھ سے تم اک بار،کہہ دو ناں!

    کہہ دو مجھ سے تم اک بار،کہہ دو ناں!
  2. کاشفی

    دل کے چمن میں پھول کھلا

    دل کے چمن میں پھول کھلا
  3. کاشفی

    دوگانا لاکھوں حسیں ہیں مجھے تم کیوں پسند ہو

    لاکھوں حسیں ہیں مجھے تم کیوں پسند ہو
  4. کاشفی

    اتنے بڑے جیون ساگر میں تونے پاکستان دیا ، ہو اللہ ہو اللہ

    اتنے بڑے جیون ساگر میں تونے پاکستان دیا ، ہو اللہ ہو اللہ
  5. کاشفی

    درد جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا جان سے ہوگئے بدن خالی جس طرف تونے آنکھ بھر دیکھا نالہ، فریاد، آہ اور زاری آپ سے ہوسکا جو کر دیکھا اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا زور عاشق مزاج ہے کوئی درد کو قصہ مختصر دیکھا
  6. کاشفی

    دہر سے ناآشنا ہے خلق سے بیگانہ ہے - ابوالفاضل راز چاند پوری

    غزل (ابوالفاضل راز چاند پوری) دہر سے ناآشنا ہے خلق سے بیگانہ ہے کون کہہ سکتا ہے کہ کس دُھن میں تِرا دیوانہ ہے؟ ابتدا و انتہا کیا ہستیء موہوم کی ابتدا اک داستاں ہے، انتہا افسانہ ہے! ہوش میں جب تک رہا تنہا رہا غمگیں رہا اب ہوں دیوانہ تو اِک عالم مِرا دیوانہ ہے ساغر ِ اُمید کا یہ ظرف! اے...
  7. کاشفی

    سُن میرے محبوب سُن

    سُن میرے محبوب سُن
  8. کاشفی

    میں نے تمہاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا

    میں نے تمہاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا
  9. کاشفی

    داغ ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا ابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا بتو! دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کو خدا کا بھروسا، سہارا تمہارا اُن آنکھوں کی آنکھوں سے لوں میں بلائیں میسر ہے جن کو نظارا تمہارا محبت کے دعوے ملے خاک میں سب وہ کہتے ہیں کیا ہے اجارا تمہارا...
  10. کاشفی

    ساغر نظامی قوم کیوں اِس دَور میں آسودہء منزل نہیں - ساغر نظامی

    غزل (صمد یار خاں ساغر چشتی نظامی سیمابی - علیگڑھ) قوم کیوں اِس دَور میں آسودہء منزل نہیں میں بتا دوں پہلے دل پہلو میں تھا، اب دل نہیں وہ کرم جس میں ترا لطف ستم شامل نہیں کیوں گوارا ہو کہ ہم رنگِ مذاقِ دل نہیں رونقِ محفل اگر کچھ ہے تو پروانوں سے ہے شمع کا جلنا فروغِ گرمیء محفل نہیں...
  11. کاشفی

    اب وہ شوق بزم آرائی کہاں - ابوالفاضل راز چاند پوری

    غزل (ابوالفاضل راز چاند پوری) اب وہ شوق بزم آرائی کہاں اب وہ ذوقِ بادہ پیمائی کہاں مضطرب ہے قلب محزوں، مضطرب اب فضائے حسن و رعنائی کہاں سرد ہے اب سرد جوش ِانبساط اب خیالِ رنجِ تنہائی کہاں مطلعِ اُمید ہے ظلمت فروز اب وہ فکر عالم آرائی کہاں محفل شعرو سخن برہم ہوئی اب وہ لطف...
  12. کاشفی

    لب پہ میرے جو حق بیانی ہے - حامد حسین باقری

    غزل (حامد حسین باقری) لب پہ میرے جو حق بیانی ہے بس یہ مَولا کی مہربانی ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا دیکھو “دنیا سرائے فانی ہے“ حرصِ دُنیا سراب ہے لوگو نہ بجھے پیاس یہ وہ پانی ہے تنہا آیا ہے، تنہا جائے گا بات یہ تو بہت پرانی ہے تجھ کو دینا ہے روز حشر حساب...
  13. کاشفی

    امیر مینائی میں الفت کے وہ حسن کے جوش میں - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) میں الفت کے، وہ حسن کے جوش میں نہ میں ہوش میں ہوں ، نہ وہ ہوش میں لٹک کر وہ زلف آئی ہے تاکمر کہ لیلٰی ہے مجنوں کے آغوش میں نہ اُٹھو ابھی بزم سے مے کشو ہمیں بھی تو آلینے دو ہوش میں نکل آنکھ سے اشک ٹھہرا ہے کیا گہر ہو کبھی اس بنا گوش میں...
  14. کاشفی

    امیر مینائی اے ضبط دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) اے ضبط دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب دو چار سو برس تو الہٰی سحر نہ ہو اک پھول ہے گلاب کا آج اُن کے ہاتھ میں دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو ڈھونڈھے سے بھی نہ معنی باریک جب...
  15. کاشفی

    امیر مینائی پہلے تو مجھے کہا نکالو - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) پہلے تو مجھے کہا نکالو پھر بولے غریب ہے بلا لو بیدل رکھنے سے فائدہ کیا تم جان سے مجھ کو مار ڈالو اُس نے بھی تو دیکھیں ہیں یہ آنکھیں آنکھ آر سی پر سمجھ کے ڈالو آیا ہے وہ مہ، بجھا بھی دو شمع پروانوں کو بزم سے نکالو گھبرا کے ہم آئے تھے سوئے حشر...
  16. کاشفی

    امیر مینائی خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم - امیر مینائی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم الھم صلی علی محمد ﷺ وعلی آل محمد ﷺ نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم مرسل داور خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم نورمجسم، نیّر اعظم، سرور عالم، مونسِ آدم نوح کے ہمدم، خضر کے رہبر، صلی...
  17. کاشفی

    لذت بادہ سے تلخی کا مزا یاد آیا - سید محمدحنیف اخگر

    غزل (سید محمد حنیف اخگر) لذت بادہ سے تلخی کا مزا یاد آیا حسب توفیق شفا زہر دوا یاد آیا جراءت ترک تمنا کا خیال آتے ہی عہد پابندیء آداب وفا یاد آیا اختصار شب وعدہ کی شکایت پہ اُسے شب ہجراں کی درازی کا گلہ یاد آیا دل کو احساس مسرت ہی بہت تھا لیکن تیرے غم میں تھی وہ لذت کہ خدا یاد...
  18. کاشفی

    امیر مینائی تیرے جوروستم اُٹھائیں ہم - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) تیرے جوروستم اُٹھائیں ہم یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم نالے کرتے نہیں یہ الفت میں باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم اب لب یار کیا ترے ہوتے لب ساغر کو منہ لگائیں ہم دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم...
  19. کاشفی

    امیر مینائی جب یار ہوا جفا کے قابل - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) جب یار ہوا جفا کے قابل تب ہم نہ رہے وفا کے قابل ہے خوف سے سارے تن میں رعشہ اب ہاتھ کہاں دعا کے قابل آئے مجھے دیکھنے اطبّا جب میں نہ رہا دوا کے قابل بولے مرے دل پہ پیس کر دانت یہ دانہ ہے آسیا کے قابل کلفت سے امیر صاف کر دل یہ آئینہ ہے جلا کے...
  20. کاشفی

    اُٹھا کے آنکھ کو دیکھا جو دھیان سے اوپر - حکیم میر ضامن علی صاحب جلال لکھنوی

    غزل (حکیم میر ضامن علی صاحب جلال لکھنوی) اُٹھا کے آنکھ کو دیکھا جو دھیان سے اوپر تو پایا ان کو بہت لامکان سے اوپر کھڑے تھے وہ سرِبالیں مگر نہ دیکھ سکا نگہ نہ کی گئی مجھ ناتوان سے اوپر پڑے ہیں سوزجگر کے بیان سے چھالے زباں کے نیچے، زباں پر، زبان سے اوپر اثر کو عالمِ بالا میں جا کے...
Top