غزل
(افسر میرٹھی)
دل قابو سے نکلے گا تو کیا جانے کیا کیا ہوگا
گھر گھر نام دھرے جائیں گے ہر گھرمیں چرچا ہوگا
دل پر اپنا بس چلتا تو وحشت کاہے کو ہوتی
اور کسی سے کیا مطلب ہے تو خود کیا کہتا ہوگا
سچ تو یہ ہے اس دنیا میں حرکت ہی سے برکت ہے
جس نے کچھ ڈھونڈا ہوگا تو اس نے کچھ پایا ہوگا...
غزل
(راز رامپوری)
پھر بسانا ہے کسی عالم کو
دیکھو دیکھو نہ مٹاؤ ہم کو
سجدے کرنے کو ملک کافی تھے
کیوں بنایا ہے بنی آدم کو
سادگی ہائے محبت یعنی
ان سے اُمید ِ وفا ہے ہم کو
منزلیں ہجر کی طے کرنا ہیں
رات اندھیری ہے، ستارو چمکو
شادمانی کی تمنا نہ کریں
غم ملے جائے جو پیہم ہم کو
لاؤ غم سارا...
غزل
(فراق گورکھپوری)
عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں
اس ہوا میں یہ چراغ زیر داماں کچھ نہیں
کیا ہے دیکھو حسرتِ سیرِ گلستاں کچھ نہیں
کچھ نہیں اے ساکنانِ کنج زنداں کچھ نہیں
جینے والے جی رہے ہیں اور ہی عالم میں اب
دوستو طول غمِ شبہائے ہجراں کچھ نہیں
عشق کی ہےخود نمائی عشق کی...
غزل
(ذوقی)
بارہا ہجر میں یوں ہم نے اُنہیں یا دکیا
جسم کو روح کیا، روح کو فریاد کیا
اس لگاوٹ سے نگاہوں نے کچھ ارشاد کیا
روح کو کشمکش یاس سے آزاد کیا
اس نے اس حسنِ تبسم سے نگاہیں ڈالیں
سب یہ سمجھے کہ سرِ بزم کچھ ارشاد کیا
میں نے کس دن قفس غم سے رہائی چاہی
میں نے کب شکوہء بے مہری...
غزل
(ذوق)
میں کہاں سنگِ درِ یار سے ٹل جاؤں گا
نہ وہ پتھر ہے پھسلنا کہ پھسل جاؤں گا
دل یہ کہتا ہے کہ تاچرخِ زحل جاؤں گا
بلکہ میں توڑ کے اُس کو بھی نکل جاؤں گا
آج اگر راہ نہ پاؤں گا تو کل جاؤں گا
کوچہء یار میں ، میں سر ہی کے بل جاؤں گا
کہتا وحشت سے ہے یہ جامہء پیری میرا
دیکھ...
غزل
(ذوق)
خوب روکا شکایتوں سے مجھے
تونے مارا عنایتوں سے مجھے
بات قسمت کی ہے کہ لکھتے ہیں
خط وہ کن کن کنایتوں سے مجھے
واجب القتل اُس نے ٹھہرایا
آیتوں سے، روایتوں سے مجھے
حالِ "مہر و وفا" کہوں تو ، کہیں
نہیں شوق ان حکایتوں سے مجھے
کہہ دو اشکوں سے کیوں ہوکرتے کمی
شوق کم ہے...
غزل
(سعید احمد اختر)
ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا
اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا
ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی
ہر صبح سُلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا
اپنا تو نہیں تھا میں کبھی، اورغموں نے
مارا مجھے ایسا رہا تیرا نہ خدا کا
پھیلے ہوئے ہر سمت جہاںحرص و ہوس ہوں
پھولے...
حسب حال غزل
شہر میں ہر سمت قتل عام ہے
خون میں ڈوبی سحر اور شام ہے
جا بجا انسانیت کی دھجیاں
ہر جگه کہرام ہی کہرام ہے
آنکھ کی محراب ، اشکوں کے چراغ
اب یہی منظر ہمارے نام ہے
چھوڑئیے رنگ چمن کی داستاں
اب قفس میں ہی مجھے آرام ہے
حسن ہے بے عیب راہی سر بہ سر
عشق تو...
غزل
کرم حیدری
زمانہ گزرا ہے دل میں یہ آرزو کرتے
کہ تیرے اشکِ ندامت سے ہم وضو کرتے
لہو سفید ہوا تھا سب اہلِ دنیا کا
ہم اپنے خون سے کس کس کو سرخرو کرتے
یہی تو ایک تمنا رہی دوانوں کی
کبھی کبھی تیرے کوچے میں ہاؤ ہو کرتے
اب اِس کے بعد خدا جانے حال کیا ہوگا
کہ ہم تو جاں سے گئے حفظِ...
میں تجھے محسوس کرنا چاہتی ہوں
(ناہید ورک)
مجھ کو اپنے آپ سے بچھڑے ہوئے
کتنے زمانے ہوگئے ہیں
سُرمئی شاموں کے پہرے میں
طلب کی ریت پر تنہائی ننگے پیر چلتی ہے
تو میرا دل وصالِ معنی سے بچھڑے ہوئے
اک حرفِ تنہا کی طرح بجھ جاتا ہے
میری سحر سے رات
جب سرگوشیاں کرتی ہے
تو کوئی بھی اک لبریز...
افتخارِ فکر و فن
(فیض احمد فیض کی یاد میں)
مومن خاں شوق
وہ رازدانِ علم و فن، ادب نواز شخصیت
وہ افتخارِ فکر و فن
روایتوں کا گل ستاں، شرافتوں کی انجمن
اور اس کی زندگی تمام حوصلوں کا بانکپن
ورق ورق حدیثِ گُل، کتابِ آرزو تمام
لکھا کیا قلم قلم، وفا کی داستانِ غم
نگر نگر پھرا کیا، شاعری...
غزل
(اصغر حُسین اصغر گونڈوی)
عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے
ساری خطا مرے دلِ شورش ادا کی ہے
مستانہ کررہا ہوں رہِ عاشقی کو طے
کچھ ابتداء کی ہے نہ خبر انتہا کی ہے
کھِلتے ہی پھول باغ میں پژمردہ ہو چلے
جنبشِ رگ بہار میں موجِ فنا کی ہے
ہم خستگانِ راہ کو راحت کہاں نصیب
آواز کاں میں ابھی...
غزل
(سید شرف الدین یاس ٹونکی)
ہوگئی اک بات ناصح دل کے آجانے کی بات
کہنے سننے کا ہے کچھ موقع نہ سمجھانے کی بات
ہے مری عرضِ تمنّا اُن کے شرمانے کی بات
اور شرمانا ہے اُن کا میرے مٹ جانے کی بات
بات کیا کرتے مجھے صورت دکھا کر چل دئیے
کہہ گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ کہہ جانے کی بات...
غزل
(جگر مراد آبادی)
ملا کے آنکھ نہ محرومِ ناز رہنے دے
تجھے قسم جو مجھے پاک باز رہنے دے
میں اپنی جان تو قربان کرچکوں تجھ پر
یہ چشمِ مست ابھی نیم باز رہنے دے
گلے سے تیغِ ادا کو جدا نہ کر قاتل!
ابھی یہ منظر راز و نیاز رہنے دے
یہ تیرناز ہیں تو شوق سے چلائے جا
خیالِ خاطر اہلِ نیاز رہنے دے...
غزل
(حسرت)
نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
محبت کا یہ بھی ہے کوئی قرینا
وہ کیا قدر جانیں دل ِ عاشقاں کی
نہ عالم، نہ فاضل، نہ دانا، نہ بینا
وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں، جو دل میں
تمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینا
یہ کیا قہر ہے ہم پہ یارب کہ بے مے
گزر جائے ساون کا یوں ہی مہینا
بہار...
غزل
(حسرت)
چھپ کے اس نے جو خودنمائی کی
انتہا تھی یہ دل ربائی کی
مائلِ غمزہ ہے وہ چشمِ سیاہ
اب نہیں خیر پارسائی کی
دام سے اُس کے چھوٹنا تو کہاں
یاں ہوس بھی نہیں رہائی کی
ہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش
صلح میں شان ہے لڑائی کی
اس تغافل شعار سے حسرت
ہم میں طاقت نہیں جدائی کی
غزل
(حسرت)
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیونکریاد آتے ہیں
نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیتِ صہبا کے افسانے
شرابِ بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں
رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی
وہ دشتِ خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں
نہیں آتی تو یاد اُن کی...
نظم نما غزل:)
(جگر)
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی ، نظر میں اب تک سما رہے ہیں
یہ چل رہے ہیں وہ پھر رہے ہیں، یہ آرہے ہیں وہ جارہے ہیں
وہی قیامت ہے قد بالا، وہی ہے صورت وہی سراپا
لبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مُسکرارہے ہیں
وہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنم
میں نقش حرماں بنا...