نتائج تلاش

  1. کاشفی

    یقینِ شکست - کیفی اعظمی

    یقینِ شکست (کیفی اعظمی) مری آنکھ کُھل گئی یک بیک ، مِری بے خودی کی سحر ہوئی کہ مآلِ عشق سے آشنا یہ فریب خوردہ نظر ہوئی وہ حسین رُت بھی بدل گئی، وہ فضا بھی زیروزبر ہوئی ہوئی موت مجھ سے قریب تر، مجھے آج اِس کی خبر ہوئی ترے التفات نے کردیا تھا مجھے نصیب سے بےخبر میں تمام کیف و سرور تھا ،...
  2. کاشفی

    احمد ندیم قاسمی خلش - احمد ندیم قاسمی

    خلش (احمد ندیم قاسمی- 1940ء) ہر کلی میں پھول بننے کی نہاں ہے آرزو دیکھ کر طوفاں کوکَھول اُٹھتا ہے قطرے کا لہو ہر ستارہ چاند بننے کے لئے بیتاب ہے چاند کا دل بھی تمنّاؤں سے لذّت یاب ہے اُس کے سینے میں بھی ہے خورشید بننے کا خیال اُس کی نظروں میں بھی ہے مہرِ درخشاں کا جمال ہے خزف ریزے کے...
  3. کاشفی

    عدم گو تری محفل سے او بیدادگر جاتا ہوں میں- عدم

    غزل (عدم) گو تری محفل سے او بیدادگر جاتا ہوں میں دیکھ کیا تفتہ جگر، آشفتہ سر جاتا ہوں میں جستجوؤں پر ثباتِ زیست کا ہے انحصار جستجوئیں ختم ہوتی ہیں تو مر جاتا ہوں میں شوقِ بے پایاں کی کوشش کا کوئی حاصل بھی ہے؟ اے فریبِ آرزو آخر کدھر جاتا ہوں میں؟ کیوں اُٹھاتا ہے مجھے محفل سے او بیدادگر؟...
  4. کاشفی

    دیہات کی رات- فاخر ہریانوی

    دیہات کی رات (فاخر ہریانوی- 1901ء) چپکے چپکے گیت خاموشی کے گاتی ہے فضا دیکھ کر تاروں کی جانب مسکراتی ہے فضا اوڑھ کر اپنے تنِ نازک پہ چادر چاندنی بام گردوں سے اُترتی ہے زمیں پر چاندنی مسجد و محراب سے شورِ اذاں اُٹھتا نہیں سرد اور خاموش چولہوں سے دھواں اُٹھتا نہیں لیٹ جاتی ہےگھروں میں...
  5. کاشفی

    Mein Kampf (میری جدوجہد) - از: Adolf Hitler

    مجھے یہودیوں سے کیوں نفرت ہے (ہٹلر کی کتاب " Mein Kampf" (میری جدوجہد - My Struggle) کا ایک اقتباس) میرے لئے آج یہ بتانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کہ لفظ "یہودی" نے سب سے پہلے کب میری توجہ کو اپنی طرف مبذول کیا۔ جب تک میرے والد زندہ رہے مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی اُن کے منہ سے یہ لفظ...
  6. کاشفی

    غزل :: صبح تک روئی، جو دیکھا اپنے دیوانے کا حال :: از: نجم ؔندوی

    غزل صبح تک روئی، جو دیکھا اپنے دیوانے کا حال شمع پر روشن نہ ہوتا کاش پروانے کا حال خُم اِدھر ٹوٹا پڑا ہے اور ساغر اُس طرف بس سمجھ لے اب اسی سے کوئی میخانے کا حال کچھ تو کہہ اے آئینہ، تو بھی تو اُس محفل میں تھا کم سے کم کچھ زلف کی رُوداد، کچھ شانے کا حال ہر کتابِ زندگی دو باب پر ہے منقسم...
  7. کاشفی

    گورِ غریباں کا پرنس - ممتاز جونپوری - 1902ء

    گورِ غریباں کا پرنس (ممتاز جونپوری - 1902ء) کل سو گیا میں فکرِ عذاب و ثواب میں ویرانہ ایک مجھ کو نظر آیا خواب میں گو دیکھنے میں تھا وہ بیاباں ہولناک تھیں بستیاں زمیں کے نیچے ہجاب میں مٹی کے پُتلے، خاک کی بالیں پہ سر دھرے لیٹے تھے مُنہ چھپائے ردائے تراب میں یوں سنگ ریزے خاک پہ تھے منتشر...
  8. کاشفی

    وہ خوگر ہیں اگر جور و جفا کے - مضطر بدایونی

    غزل (جناب مضطر بدایونی) وہ خوگر ہیں اگر جور و جفا کے تو بندے ہم بھی ہیں صبر و رضا کے میں قربان آپ کے ظلم و ستم پر میں صدقے آپ کی جور و جفا کے پریشان پھر رہی ہیں کیوں نگاہیں اُٹھا دیں مل کے سب پردے حیا کے نہیں بیباکیاں اچھی ستم گر ابھی دن ہیں ترے شرم و حیا کے پڑے گا صبر مضطر کا کسی دن...
  9. کاشفی

    ہمیں اب فرشتے نظر آرہے ہیں - وسیم خیرآبادی

    غزل (جناب سید محمد عسکری صاحب وسیم خیرآبادی) ہمیں اب فرشتے نظر آرہے ہیں ہٹو بھی کہ پیشِ خدا جارہے ہیں تپِ ہجر سے داغ کمھلا رہے ہیں کڑی دھوپ ہے، پھول مرجھا رہے ہیں سمجھتا ہوں گلزارِ جنّت کو وعظ کسے سبز باغ آپ دکھلا رہے ہیں وہی مجھ سے ہیں اُن کی ترچھی نگاہیں دمِ نزع بھی تیر برسا رہے ہیں...
  10. کاشفی

    ایّامِ گل میں اور ہی ساماں ہوگیا - جناب پروفیسر ثاقب، وکٹوریا کالج، گوالیار - 1915ء

    غزل (جناب پروفیسر ثاقب، وکٹوریا کالج، گوالیار - 1915ء) ایّامِ گل میں اور ہی ساماں ہوگیا پھر تار تار اپنا گریباں ہوگیا ساقی کی چشمِ مست پہ قرباں ہوگیا کامل طریقِ عشق میں ایماں ہوگیا صد شکر، اُس بُتِ کافر کو شیخ بھی ایماں نذر دے کے مسلماں ہوگیا آوارگانِ دشتِ محبت کے واسطے سجدہ درِ حبیب کا...
  11. کاشفی

    اُسے ہر جگہ جلوہ گر پارہے ہیں - جلال لکھنوی

    غزل (جلال لکھنوی) اُسے ہر جگہ جلوہ گر پارہے ہیں تصور سے تصویر کِھچوارہے ہیں تسلّی یہ خوب آپ فرما رہے ہیں کہ ٹھہرے ہوئے دل کو تڑپا رہے ہیں غلط ہے اجی عشق کا ان سے دعویٰ چلو جھوٹ ہی قسمیں ہم کھا رہے ہیں میں دیتا تھا دل جب کسی نے نہ روکا نہ دو جان اب لوگ سمجھا رہے ہیں وہ جلوہ دکھاتے تو...
  12. کاشفی

    جام اک بھر کے دے اے پیرِخرابات مجھے - مہاراجہ بہادر سر کِشن پرشاد

    غزل (مہاراجہ بہادر سر کِشن پرشاد) جام اک بھر کے دے اے پیرِخرابات مجھے کر دے اب بہرِ خدا مستِ مے ذات مجھے محو فی الذّات ہیں، خورشید سے نسبت ہے انہیں نظر آتے ہیں جو اُڑتے ہوئے ذرّات مجھے یار بر میں ہے، اِدھر جام لئے ہے ساقی کس لئے راس نہ آئے گی یہ برسات مجھے واعظا پندونصیحت یہ کِسے کرتا ہے...
  13. کاشفی

    ساغر نظامی دل سے بھی غمِ عشق کا چرچا نہیں کرتے - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) دل سے بھی غمِ عشق کا چرچا نہیں کرتے ہم ان کو خیالوں میں بھی رسوا نہیں کرتے آنسو کو گہر، بوند کو دریا نہیں کرتے طوفانِ غمِ دوست کو رسوا نہیں کرتے ہم ان سے ستم کا بھی تقاضا نہیں کرتے احساسِ کرم حسن میں پیدا نہیں کرتے آنکھوں سے بھی ہم عرضِ تمنّا نہیں کرتے خاموش تقاضا بھی...
  14. کاشفی

    ساغر نظامی ہے کمالِ رقصِ صوفی بھی نشاطِ پادشاہی - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) ہے کمالِ رقصِ صوفی بھی نشاطِ پادشاہی بڑی مدّتوں میں ٹوٹا، یہ فریبِ خانقاہی یہی میری آدمیّت کی دلیلِ برتری ہے کہ لگا نہیں جبیں پر کبھی داغِ بےگناہی مجھے کیوں ہو فکرِ شاہد کہ معاملہ ہے روشن میں تری کھُلی شہادت، تو مری کھُلی گواہی ہے عجیب لا اُبالی، مرا مسلکِ جنوں بھی نہ...
  15. کاشفی

    درد دل مرا پھر دُکھا دیا کس نے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) دل مرا پھر دُکھا دیا کس نے سو گیا تھا جگا دیا کس نے میں کہاں اور خیالِ بوسہ کہاں منہ سے منہ یوں بھڑا دیا کس نے وہ مرے چاہنے کو کیا جانے یہ سندیسا سُنا دیا کس نے ہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھے سب یکایک چھپا دیا کس نے وہ بُلائے سے بھاگتا تھا اور درد تجھ تک بُلا دیا کس نے
  16. کاشفی

    اکبر الہ آبادی اک بوسہ دیجئے، مرا ایمان لیجئے - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) اک بوسہ دیجئے، مرا ایمان لیجئے گو بُت ہیں آپ ، بہرِ خدا مان لیجئے دل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیا اُلٹا مجھ ہی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیا مجھ سے کبیدہ ہو کے کہا، پان لیجئے مرنا قبول ہے مگر الفت نہیں قبول دل تو نہ دوں گا آپ کو...
  17. کاشفی

    اکبر الہ آبادی کسی کی قسمت میں زہر ِغم ہے، کسی کو حاصل مئے طرب ہے - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) کسی کی قسمت میں زہر ِغم ہے، کسی کو حاصل مئے طرب ہے وہی بگاڑے، وہی بنائے، اُسی کی قدرت کا کھیل سب ہے نظر جو آئے وہ آفتِ جاں تو دل کو کیوں کر بچائے انساں ادا ہے بانکی، نگاہ ترچھی ستم ہے، عشوہ حیا غضب ہے جلا چکی آتش محبت تمام میرے دل و جگر کو تمہیں نہیں ہے یقیں اب تک، یہی...
  18. کاشفی

    اکبر الہ آبادی غم نہیں اس کا جو شہرت ہوگئی - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) غم نہیں اس کا جو شہرت ہوگئی ہوگئی اب تو محبت ہوگئی اب کہاں اگلے سے وہ راز و نیاز مِل گئے صاحب سلامت ہوگئی ہائے کیا دلکش ہے اُس کی چشم مست آنکھ ملتے ہی محبت ہوگئی چودھواں سال اُن کو ہے نامِ خدا عمر آفت تھی قیامت ہوگئی ناز سے اُس نے جو دیکھا شیخ کو اُن کی دینداری ہی...
  19. کاشفی

    اکبر الہ آبادی غمِ فراق کا صدمہ اُٹھا نہیں سکتا - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) غمِ فراق کا صدمہ اُٹھا نہیں سکتا اب اپنی جاں میں اے جاں بچا نہیں سکتا کسی کو رنگِ محبت دکھا نہیں سکتا جو دل میں ہے وہ زباں پر میں لا نہیں سکتا حیائے حُسن اُنہیں ہے، حجابِ عشق مجھے غرض وہ آ نہیں سکتے، میں جا نہیں سکتا یہ کہہ کے اُٹھ گئے ہنگام نزع سے رفیق یہ راہ وہ ہے...
  20. کاشفی

    اکبر الہ آبادی غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گلِ تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرضِ عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گُلِ تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر...
Top