نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ساغر نظامی کچھ دور نہیں ہے وہ زمانہ - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) کچھ دور نہیں ہے وہ زمانہ بجلی ہوگی نہ آشیانہ محکم ہے یہ عزمِ باغیانہ یا میں نہیں یا نہیں زمانہ بجلی جو گری تو غم نہ کیجے سو بار بنے گا آشیانہ پرواز کر اے اسیرِ گلشن ہر شاخ ہے تیرا آشیانہ (ق) تخریب مری جنونِ تعمیر تعمیر مری مدافعانہ بُنیادِ حیات رکھ رہا ہوں تخریب تو ہے...
  2. کاشفی

    ساغر نظامی ترے نام پر نوجوانی لُٹادی - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) ترے نام پر نوجوانی لُٹادی جوانی نہیں زندگانی لُٹادی یہاں عشرتِ زندگانی لُٹادی وہاں دولتِ جاودانی لُٹادی تقاضہ، تقاضہ، مقدّر، مقدّر جوانی نے خود ہی جوانی لُٹادی بہ ہر کو بہارے، بہ ہر سو نگارے نگاہوں نے اپنی جوانی لُٹادی یہ اک روز مٹتی، یہ اک روز لُٹتی یہ اک چیز تھی آنی...
  3. کاشفی

    ساغر نظامی طاقِ حرم و کُرسی و منبر سے گزر جا - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) طاقِ حرم و کُرسی و منبر سے گزر جا دیوار سے، محراب سے اور در سے گزر جا دُنیا ہو کہ عقبیٰ ہو، جہنّم ہو کہ جنّت ہرجادہء و ہرمنزل و ہر در سے گزر جا ہر گام پہ قزّاق ہیں، ہر موڑ پہ رہزن بچنا ہے تو جذبات کے محشر سے گزر جا غم بھی کوئی منزل ہے رہِ عشق و جنوں میں؟ آلام کے موّاج...
  4. کاشفی

    ساغر نظامی وہ میرا جانِ ہر محفل کہاں ہے - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) وہ میرا جانِ ہر محفل کہاں ہے نگاہِ شوق کی منزل کہاں ہے ستارو، تم نے دیکھا ہو تو لادو مری اُمید کا حاصل کہاں ہے مرا آنسو سہی انمول موتی تمہارے ہار کے قابل کہاں ہے تمہارا حُسن میرے دل کی منزل تمہارے حُسن کی منزل کہاں ہے ہے میخانہ حقیقت ہی حقیقت یہاں بحثِ حق و باطل کہاں ہے
  5. کاشفی

    اکبر الہ آبادی کچھ آج علاجِ دلِ بیمار تو کرلیں - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) کچھ آج علاجِ دلِ بیمار تو کرلیں اے جانِ جہاں، آؤ، ذرا پیار تو کرلیں مُنہ ہم کو لگاتا ہی نہیں وہ بُتِ کافر کہتا ہے یہ اللہ سے انکار تو کرلیں سمجھے ہوئے ہیں کام نکلتا ہے جنوں سے کچھ تجربہء سجہء و زنار تو کرلیں سوجان سے ہو جاؤنگا راضی میں سزا پر پہلے وہ مجھے اپنا گنہگار...
  6. کاشفی

    اکبر الہ آبادی وقتِ طلوع دیکھا، وقتِ غروب دیکھا - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) وقتِ طلوع دیکھا، وقتِ غروب دیکھا اب فکرِ آخرت ہے، دنیا کو خوب دیکھا اِس نے خدا کو مانا، وہ ہورہا بُتوں کا یا اِس نے خوب سمجھا، یا اُس نےخوب دیکھا نامِ خدا کو اکثر زیب زباں تو پایا عشقِ بتاں کو لیکن نقشِ قلوب دیکھا اوروں پہ معترض تھے، لیکن جو آنکھ کھولی اپنے ہی دل کو...
  7. کاشفی

    درد گرچہ بیزار تو ہے پر اسے کچھ پیار بھی ہے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) گرچہ بیزار تو ہے پر اسے کچھ پیار بھی ہے ساتھ انکار کے پردے میں کچھ اقرار بھی ہے زاہد شرک خفی کی بھی خبر ٹک لینا ساتھ ہر دانہء تسبیح کے زنّار بھی ہے چشمِ رحمت سے ادھر کو بھی نظر کیجئے گا اسی اُمید پہ آیا یہ گنہگار بھی ہے دل بھلا ایسے کو اے درد نہ دیجے کیونکر ایک تو یار...
  8. کاشفی

    درد مجھ کو تجھ سے جو کچھ مُحبّت ہے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) مجھ کو تجھ سے جو کچھ مُحبّت ہے یہ مُحبّت نہیں ہے، آفت ہے لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے بند احکامِ عقل میں رہنا یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے ایک ایمان ہے بساط اپنی نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے آپھنسوں میں بتوں کے دام میں یوں درد یہ بھی خدا کی قدرت ہے
  9. کاشفی

    درد پہلو میں دل تپاں نہیں ہے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) پہلو میں دل تپاں نہیں ہے ہر چند کہ یاں ہے، یاں نہیں ہے عالم ہو قدیم خواہ حادث جس دم نہیں ہم، جہاں نہیں ہے ڈھونڈے ہے تجھے تمام عالم ہرچند کہ تو کہاں نہیں ہے عنقا کی طرح میں کیا بتاؤں جز نام مرا نشاں نہیں ہے جوں شمع نہ رازِ دل کہوں گا ایسی بھی مری زباں نہیں ہے وعدے...
  10. کاشفی

    پریشاں خاطری میں لب پہ کیوں آئے دعا میری - نذیر - ڈیرہ اسمٰعیل خاں ، 1910ء

    غزل (نذیر - ڈیرہ اسمٰعیل خاں ، 1910ء) پریشاں خاطری میں لب پہ کیوں آئے دعا میری نہ رسوائے جہانِ آرزو ہوگی وفا میری مجھے عہدِ گذشتہ کی وفائیں یاد آتی ہیں میری اس انتہا سے خوب تھی وہ ابتدا میری میری فطرت کا مقصد ہے تغیّر آشنا رہنا نہ غم ہی مستقل میرا، نہ راحت دیرپا میری مقدر میں نہیں ہے...
  11. کاشفی

    طوفاں بپا ہے اشکوں کا اور درد میں ڈوبے نالے ہیں! - صامت شامی

    غزل (صامت شامی) طوفاں بپا ہے اشکوں کا اور درد میں ڈوبے نالے ہیں! وہ یاد آئے پھر ٹھیس لگی، پھر اپنی جان کے لالے ہیں معلوم نہیں کیا بات ہے یہ، کیا بھید ہے یہ، کیا راز ہے یہ اکثر وہی دیکھے وقفِ الم، جو سو نازوں کے پالے ہیں اُمیدِ وفا و یادِ جفا، بے تابیء حسرتِ نظاّرہ اک دل بیمارِ محبت ہے اور...
  12. کاشفی

    شہسَوار - وقار انبالوی

    شہسَوار (وقار انبالوی) وہ آئے جب سوارِ تو سنِ ناز قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے؟ (داغ دہلوی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گُلستانِ وفا کا رنگ پرداز پرستانِ ادا کا ناوک انداز شبستانِ حیا کی شمعِ روشن نیستانِ طرب کا زمزمہ ساز نگارستانِ دل کا نقشِ رنگیں بہارِ آرزو کا رنگِ اعجاز فروغِ...
  13. کاشفی

    غنچے کہتے تھے کہ اک پھول کہیں اور بھی ہے - ضیا فتح آبادی

    غزل (ضیا فتح آبادی) غنچے کہتے تھے کہ اک پھول کہیں اور بھی ہے تارے کہتے تھے کہ اک چاند یہیں اور بھی ہے لالہ و گُل ہی پہ موقوف نہیں حُسنِ شگفت میرے گلشن کی بہاروں کا امیں اور بھی ہے جس پہ شاعر کی نگاہیں ہی پہنچ سکتی ہیں چاند تاروں سے پرے ایسی زمیں اور بھی ہے میں تری چاندنی راتوں میں رہا...
  14. کاشفی

    مُرغی کا کوّے سے رشتہ

    مُرغی کا کوّے سے رشتہ ہوگیا۔ جب مُرغے کو پتا چلا تو وہ مرغی کے پاس گیا اور بولا: "میری آواز پورے شہر میں گونجتی ہے، مرغوں کی یونین کا پریذیڈینٹ بھی ہوں" مُرغی: میں تمہارے جذبات کی قدر کرتی ہوں، لیکن امی، ابو کی خواہش ہے کہ لڑکا ایئر فورس میں ہو۔۔۔۔۔!!
  15. کاشفی

    دو نظمیں - سعید احمد اعجاز

    دو نظمیں (سعید احمد اعجاز) زورِ خطابت عرش سے اک ندائے "کن" آئی کائنات اُٹھی لے کے انگڑاتی کتنی پُر زور یہ خطابت تھی! ارادہ میرے غم خانے میں جب تُو آئے گا بیٹھ کر روؤں گا تیرے سامنے اور بتاؤں گا نہ دُکھ اپنا تجھے!
  16. کاشفی

    زندگی - جلیل مانکپوری

    زندگی (جلیل - 1920) کیا کیا فریب دے کے ستاتی ہے زندگی ہر دم ہنسا ہنسا کے رُلاتی ہے زندگی بیزار کیسے کوئی بھلا اس سے ہوسکے انساں کو سو طرح لُبھاتی ہے زندگی روٹھے جو ایک دفعہ دل اس سے تو لاکھ بار دے کر فریب اس کو مناتی ہے زندگی آئے جو کوئی پاس تو کہتی ہے "دور ہو" اور دُور ہو تو پاس بُلاتی...
  17. کاشفی

    التجائے دید - عطاء اللہ کلیم

    التجائے دید (عطاء اللہ کلیم) کب تک یوں ہی مشقِ ستم و ناز کروگے کب تک نہ درِ لطف و کرم باز کروگے تم قہر کے پردے میں بھی ہو مائلِ الطاف ہم دیکھیں گے افشا جو نہ یہ راز کروگے تم حسن کے سلطاں ہو لگاؤ گے جسے ہاتھ گزراغ بھی ہے تم اسے شہباز کروگے یہ رسمِ وفا جس کو مٹاتے ہو جہاں سے تم آپ اسی رسم...
  18. کاشفی

    خیال کے گلستاں میں جانِ حزیں کو جھُولا جھُلا رہا ہوں - اختر انصاری دہلوی

    غزل (اختر انصاری دہلوی) خیال کے گلستاں میں جانِ حزیں کو جھُولا جھُلا رہا ہوں بھری ہی رنج و محن سے دنیا، میں اس کو دل سے بُھلا رہا ہوں کبھی دلوں کو غم و مصیبت کے تذکروں سے رُلا رہا ہوں کبھی دماغوں کو عیش و عشرت کے قصّے کہہ کر سُلا رہا ہوں پھر آرزوؤں کی دلفریبی پہ جان دینے لگا ہوں، یعنی میں...
  19. کاشفی

    ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں - اختر انصاری دہلوی

    غزل اختر انصاری دہلوی ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں اِک دُکھ بھری کہانی کہتی ہیں میری آنکھیں عیش و طرب کے جلسے، درد و الم کے منظر، کیا کچھ نہ ہم نے دیکھا، کہتی ہیں میری آنکھیں جب سے دل و جگر کی ہمدرد بن گئی ہیں غمگینیوں میں ڈوبی رہتی ہیں میری آنکھیں لبریز ہو کے دل کا ساغر چھلک...
  20. کاشفی

    اُٹھائیں اگر آپ منہ سے نقاب - عابد لاہوری

    غزل (عابد لاہوری) اُٹھائیں اگر آپ منہ سے نقاب تو پھیکا پڑے چہرہء آفتاب بہت آستانوں پہ سجدے کیئے بہت کردیا میں نے رسوا شباب نہ کر ان سے ملنے کی اے دل ہوس کہاں خس ، کہاں شعلہء برق تاب وہ بہکی ہوئی چالِ بیباک و مست وہ مہکے ہوئے گیسوئے مشک ناب اُنہیں جب سے دیکھا ہے عابد نے یوں نہ آرام دن...
Top