زندگی
(جلیل - 1920)
کیا کیا فریب دے کے ستاتی ہے زندگی
ہر دم ہنسا ہنسا کے رُلاتی ہے زندگی
بیزار کیسے کوئی بھلا اس سے ہوسکے
انساں کو سو طرح لُبھاتی ہے زندگی
روٹھے جو ایک دفعہ دل اس سے تو لاکھ بار
دے کر فریب اس کو مناتی ہے زندگی
آئے جو کوئی پاس تو کہتی ہے "دور ہو"
اور دُور ہو تو پاس بُلاتی...