ساغر نظامی طاقِ حرم و کُرسی و منبر سے گزر جا - ساغر نظامی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 27, 2012

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (ساغر نظامی)
    طاقِ حرم و کُرسی و منبر سے گزر جا
    دیوار سے، محراب سے اور در سے گزر جا
    دُنیا ہو کہ عقبیٰ ہو، جہنّم ہو کہ جنّت
    ہرجادہء و ہرمنزل و ہر در سے گزر جا
    ہر گام پہ قزّاق ہیں، ہر موڑ پہ رہزن
    بچنا ہے تو جذبات کے محشر سے گزر جا
    غم بھی کوئی منزل ہے رہِ عشق و جنوں میں؟
    آلام کے موّاج سمندر سے گزر جا
    سایہ ہے تخیّل کا توہم کا ہے پرتو
    نیکی سے گزر، کارگہہ شر سے گزر جا
    تو مشعلِ جادیدِ رہِ ہستی و مستی
    حدّاثرِ ہادیء و رہبر سے گزر جا
    کوئی تری منزل نہیں اے جلوہء رعنا
    چشم و نگہہ و ناظرومنظر سے گزر جا
    کب تک نگہء ساقیء کمسن کی غلامی
    میخانہء و جام و مئے و ساغر سے گزر جا
    فطرت تری طوفان، طبیعت تری سیلاب
    ہر گوشہء پیمانہ و ساغر سے گزر جا
    یہ بھی تری منزل نہیں اے مردِ مسافر
    حیرت کدہء گنبدِ بے در سے گزر جا
    مستی ہے تو ہستی ہے، جنوں ہے تو فسوں ہے
    موقع جو ملے، پیشیء داور سے گزر جا
    اس بھیڑ میں کیوں تیرے قدم اُٹھ نہیں سکتے
    منظر سے نہیں تو پسِ منظر سے گزر جا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,903
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ کاشفی صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    بہت شکریہ محمد وارث صاحب!
    بہت شکریہ فرخ منظور صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر