نتائج تلاش

  1. کاشفی

    میر مہدی مجروح ہم اپنا جو قصّہ سنانے لگے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) ہم اپنا جو قصّہ سنانے لگے وہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگے کہا تھا اُٹھا پردہء شرم کو وہ اُلٹا ہمیں کو اُٹھانے لگے ذرا دیکھئے اُن کی صنّاعیاں مجھے دیکھ کر مُنہ بنانے لگے کہا میں نے مِل یا مجھے مار ڈال وہ جھٹ آستینیں چڑہانے لگے مجھے آتے دیکھا جونہی دور سے قدم اور جلدی...
  2. کاشفی

    میر مہدی مجروح قتل کرتا ہے تو کر خوف کسی کا کیا ہے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) قتل کرتا ہے تو کر خوف کسی کا کیا ہے سر یہ موجود ہے ہردم کا تقاضا کیا ہے نزع کے وقت یہ آنکھوں کا اشارا کیا ہے سامنے میرے دھرا ساغرِ صہبا کیا ہے اپنا یوں دُور سے آ آکے دکھانا جوبن اور پھر پوچھنا مجھ سے کہ تمنّا کیا ہے چشم پُر آب مری دیکھ کے ہنس کر بولے یہ تو اک نوح کا...
  3. کاشفی

    میر مہدی مجروح کیا غصّہ میں آتا ہے جو کرتا ہوں گِلا میں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) کیا غصّہ میں آتا ہے جو کرتا ہوں گِلا میں خود آپ اُنہیں چھیڑ کے لیتا ہوں مزا میں فتنہ نے کہا دور ہی سے دیکھ کے اُن کو یہ آکے اگر ناز سے بیٹھا تو اُٹھا میں کیا پھول کے غنچہ ہے سرشاخ پہ خنداں سمجھا ہے اسی طرح گزاروں گا سدا میں کیا تم کو بھی اُلفت ہے یہ کہہ دیجئے سچ سچ...
  4. کاشفی

    میر مہدی مجروح آج نکلا جو آفتاب نہیں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) آج نکلا جو آفتاب نہیں اُس کے چہرہ پہ کیا نقاب نہیں اس کے لینے میں اضطراب نہیں آبِ حیواں ہے یہ شراب نہیں بوسہ غیروں کو کیوں نہ دیجے گا یہ مری بات کا جواب نہیں اُس کی زلفیں بنا رہے ہیں غیر دل کو بیوجہ پیچ و تاب نہیں ڈوبی اُس بحر میں مری کشتی موج کو جس میں اضطراب نہیں...
  5. کاشفی

    جگر سب ان پہ ہیں تصدق وہ سامنے تو آئیں - جگر مراد آبادی

    غزل (جگر مُراد آبادی) سب ان پہ ہیں تصدق وہ سامنے تو آئیں اشکوں کی آرزوئیں آنکھوں کی التجائیں اُس سے بھی شوخ تر ہیں اس شوخ کی ادائیں کر جائیں کام اپنا لیکن نظر نہ ائیں اس حسن برق وش کے دل سوختہ وہی ہیں شعلوں سے بھی جو کھیلیں دامن کو بھی بچائیں آلودہ خاک ہی میں رہنے دو اس کو ناصح دامن اگر...
  6. کاشفی

    زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں

    زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں یہ زمیں، چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں سرخ پھولوں سے مہک اُٹھتی ہیں دل کی راہیں دن ڈھلے یوں تیری آواز بُلاتی ہے ہمیں یاد تیری کبھی دستک کبھی سرگوشی سے رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں ہر مُلاقات کا انجام جُدائی کیوں ہے اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے...
  7. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری حُسن نے رکھی ہے بنیادِ جہاں میرے لئے - حفیظ ہوشیار پوری

    تقدیرِ عشق (حفیظ ہوشیار پوری) حُسن نے رکھی ہے بنیادِ جہاں میرے لئے یہ زمیں میرے لئے، یہ آسماں میرے لئے موت کی پرواز سے ہے دُور میرا آشیاں زندگانی ہے حیاتِ جاوداں میرے لئے میں قناعت کر نہیں سکتا جہانِ تیرہ پر جادہء راہِ طلب ہے کہکشاں میرے لئے میری خاکِ راہ کا ہر ذرّہ ہے نوکِ سناں ہر قدم...
  8. کاشفی

    جوش دُوری - جوش ملیح آبادی

    دُوری (جوش ملیح آبادی) یہ بُعد ہے سراسر یہ محض فاصلہ ہے جلوؤں کو جو یہاں کے رنگیں بنا رہا ہے دنیا کی ہر وہ صورت دل کو لُبھا رہی ہے جو دور سے تجلّی اپنی دکھا رہی ہے ہر چند کچھ نہیں ہے افتادگی کی ہستی جب دور ہو زمیں سے دل کھنچتی ہے پستی ہر دُور کی صدا میں اک دُھن ہے ایک گت ہے اِس بُعد کو...
  9. کاشفی

    دل میں سو زخم ہیں آنکھوں سے لہو جاری ہے - احسن مارہروی

    غزل ( احسن مارہروی ) دل میں سو زخم ہیں آنکھوں سے لہو جاری ہے چمنستانِ محبت کی یہ گُل کاری ہے ہر نفس آتے ہی، جانے کے لئے جاری ہے زندگی کی تگ و دو، موت کی تیاری ہے دردِ دل کا نہیں کرتا کوئی دنیا میں علاج چارہ سازی سے مجھے یاس بنا چاری ہے جانِ محزوں سے یہ کہہ کر دلِ وارفتہ چلا میرا قصّہ تو...
  10. کاشفی

    نیرنگِ تصوّر - تخت سنگھ

    نیرنگِ تصوّر (تخت سنگھ) سحر کا وقت ہے، بیٹھا ہوں میں پھولوں کی محفل میں تلاطم خیز ہے موجِ ترنّم قلزمِ دل میں جھلکتا ہے کسی کا حُسن، فردوسِ نظر بن کر کسی کے اشک سبزے پر مچلتے ہیں گہر بن کر کوئی آواز دیتا ہے مجھے بُلبل کے نغموں میں اُڑاتا ہے کوئی میری ہنسی چھپ چھپ کے پھولوں میں کسی کی آہِ...
  11. کاشفی

    نہ کہہ کہ اب وہ محبت میں سوز و ساز نہیں - تابش صدیقی

    سوزِ ناتمام (تابش صدیقی 1935ء) نہ کہہ کہ اب وہ محبت میں سوز و ساز نہیں ترے ہی سینے میں اے بے خبر! گداز نہیں ابھی وہی ہے نمودِ سحر، وہی راتیں ترے ہی دل کو مگر خوئے امتیاز نہیں نگاہِ حُسن میں اب تک وہی ہے کیف و خمار مگر تو ذوقِ نظر سے ہی سرفراز نہیں ہے ذرّے ذرّے کے لب پر پیامِ شوق مگر تری...
  12. کاشفی

    بکھرے موتی

    سسٹر سمیعہ الہٰی کی اجازت سے
  13. کاشفی

    ہم ہیں پاکستان

  14. کاشفی

    اسی کا نقش یہ ہستی ہے، مٹ گیا ہوں میں - کیفی چریا کوٹی

    غزل (کیفی چریا کوٹی) اسی کا نقش یہ ہستی ہے، مٹ گیا ہوں میں کوئی بتائے کہ اب کس کو دیکھتا ہوں میں نکل گیا تھا بہت دور اپنی ہستی سے یہ کس کو ڈھونڈ رہا تھا کہ مل گیا ہوں میں وہ جس نے چھوڑ دیا مجھ کو پاس منزل کے اسی مسافرِ عارف کا نقشِ پا ہوں میں تمام عمر ہے اس ذوقِ بے خودی کے نثار وہ مل...
  15. کاشفی

    عشق میں ترے مرنا عمرِ جاودانی ہے - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

    غزل (ایک فرانسیسی اُردو شاعر : الکزینڈر ہیڈرلی - Alexender Hederley، تخلص آزاد) عشق میں ترے مرنا عمرِ جاودانی ہے یہ جو زندگانی ہے خاک زندگانی ہے ان کے سننے کے قابل کب مری کہانی ہے وہ کبھی جو سنتے ہیں اپنی خوش بیانی ہے آہ کی شرر ریزی آج آزمانی ہے آگ گھر میں دشمن کے، شب مجھے لگانی ہے جو کریں...
  16. کاشفی

    عزت سے مجھے پاس جو بٹھلاؤ تو آؤں - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

    غزل (ایک فرانسیسی اُردو شاعر : الکزینڈر ہیڈرلی - Alexender Hederley، تخلص آزاد) عزت سے مجھے پاس جو بٹھلاؤ تو آؤں کیوں آپ سے آؤں مجھے لے جاؤ تو آؤں تم دل کو بٹھاتے ہو مرے مجھ کو بلا کر دل کو نہ بٹھاؤ مجھے بٹھلاؤ تو آؤں کیا گھر میں تمہارے درودیوار کو دیکھوں تم اپنی جو صورت مجھے دکھلاؤ تو آؤں...
  17. کاشفی

    میرا جی چاہے نہ مجھے گو دل تیرا، تو مجھ کو چاہ بڑھانے دے - میرا جی

    گیت (میرا جی) چاہے نہ مجھے گو دل تیرا، تو مجھ کو چاہ بڑھانے دے اِک پاگل پریمی کو اپنی چاہت کے نغمے گانے دے تو رانی پریم کہانی کی، چپ چاپ کہانی سنتی جا یہ پریم کی بانی سنتی جا، پریمی کو گیت سُنانے دے یہ چاہت میرا جذبہ ہے، میرے دل کا میٹھا نغمہ ان باتوں سے کیا کام تجھے، ان باتوں کو کہہ جانے...
  18. کاشفی

    تمہاری یاد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے - عبدالعزیز فطرت

    غزل (عبدالعزیز فطرت) تمہاری یاد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے ضیائے حسن سے یہ گھر ہوں جگمگائے ہوئے فسانہ ہائے غمِ عشق باغ میں نہ کہو یہ نغمے بلبلِ شوریدہ کے ہیں گائے ہوئے گلوں کے ذوقِ نمو کا نہ پوچھئے احوال ہیں فرطِ جوش سے چہرے بھی تمتمائے ہوئے جہانِ حسن میں دیوانہ وار پھرتا ہوں متاعِ ہوش و...
  19. کاشفی

    حسرت موہانی وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز - حسرت موہانی

    غزل (حسرت موہانی) وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز اک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے ناز اُس نازنیں پہ ختم ہیں سب شیوہائے ناز جس کو بنا کے خود بھی ہے نازاں خدائے ناز کیا کیا نہ آرزو کے بڑھیں دل میں حوصلے رکھ دیں کبھی جو فرقِ ہوس پردہ پائے ناز اربابِ اشتیاق ہیں اور انتہائے شوق حالانکہ حُسن...
  20. کاشفی

    بھرے جا بادہء سرجوش سے ساقی سبو میرا - وقار انبالوی

    غزل (وقار انبالوی) بھرے جا بادہء سرجوش سے ساقی سبو میرا شرابِ آتشیں دے دے کے گرما دے لہُو میرا ترے جلوؤں سے رنگیں لالہ زارِ آرزو میرا شگفتہ ہے تیرے دم سے مذاقِ رنگ و بُو میرا مری خاموشیاں ہیں تاک میں مرگِ معیّن کی حیات افزائے سرمستاں ہے شورِ ہاو ہو میرا نہیں گر ناخدا۔ آسودہءِ ساحل رہوں...
Top