نتائج تلاش

  1. کاشفی

    یادِ ایام - تابش صدیقی

    یادِ ایام (ایک چاندنی رات کا تصّور) سکوتِ شام تھا، ہم تم تھے، دریا کا کنارہ تھا جدا ہونے سے پہلے کس قدر دلکش نظارہ تھا کسی نے آسماں سے حُسن کے موتی بکھیرے تھے فضا میں قاف کی پریوں کے جلوؤں کے بسیرے تھے شباب و حُسن کی رنگینیاں تھیں جلوہ زا گویا فضا کا ذرّہ ذرّہ اک سراپا شعر تھا گویا شرابِ...
  2. کاشفی

    میر مہدی مجروح میری بدخوئی کے بہانے ہیں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) میری بدخوئی کے بہانے ہیں رنگ کچھ اور اُن کو لانے ہیں رحم اے اضطراب رحم کہ آج اُن کو زخمِ جگر دکھانے ہیں کیسی نیند اور پاسباں کس کا یاں نہ آنے کے سب بہانے ہیں کر کے ایفائے عہد کا مذکور اپنے احساں اُنہیں جتانے ہیں اُس کی شوخی کی ہے کوئی حد بھی اک نہ آنے کے سَو بہانے...
  3. کاشفی

    درد گھر تو دونوں پاس ہیں لیکن ملاقاتیں کہاں - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) گھر تو دونوں پاس ہیں لیکن ملاقاتیں کہاں آمدورفت آدمی کی ہے، پہ وہ باتیں کہاں ہم فقیروں کی طرف بھی تو نگاہیں دم بدم پھینکتے جاتے تھے آپ آگے، وہ خیراتیں کہاں بعد مرنے کے مرے ہوگی مرے رونے کی قدر تب کہا کیجے گا لوگوں سے وہ برساتیں کہاں یوں تو ہے دن رات میرے دل میں اس کا...
  4. کاشفی

    درد تو مجھ سے نہ رکھ غبار جی میں - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) تو مجھ سے نہ رکھ غبار جی میں آوے بھی اگر ہزار جی میں بے زار ہے مجھ سے تو، پہ مجھ کو اب تک ہے وہی پیار، جی میں گل اب تو ملے ہے ہنس کے لیکن بلبل یہ چبھیں گے خار جی میں یوں پاس بٹھا جسے تو چاہے پر جاگہ نہ دیجو یار جی میں کیا فائدہ درد شور و شر سے اُپجے ہے جو کچھ سو مار...
  5. کاشفی

    درد تجھ ہی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) تجھ ہی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچہء دل ہے وہ دل گرفتہ کہ جس کو کِسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت، مصیبت، ملامت، بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا کیا مجھ کو داغوں نے...
  6. کاشفی

    درد کاش تاشمع نہ ہوتا گزرِ پروانہ - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) کاش تاشمع نہ ہوتا گزرِ پروانہ تم نے کیا قہر کیا، بال و پر پروانہ شمع کے صدقے تو ہوتے ابھی دیکھا تھا اُسے پھر جو دیکھا تو نہ پایا اثرِ پروانہ کیوں اُسے آتشِ سوزاں میں لیے جاتی ہے سوجھتا بھی ہے تجھے کچھ نظرِ پروانہ ایک ہی جست میں لی منزلِ مقصود اُس نے راہرو، رشک کی جا...
  7. کاشفی

    درد ہر طرح زمانے کے ہاتھوں سے ستم دیدہ - خواجہ میر درد

    غزل خواجہ میر درد ہر طرح زمانے کے ہاتھوں سے ستم دیدہ گر دل ہوں تو آزردہ خاطر ہوں تو رنجیدہ ہم گلشنِ دوراں میں اے خفتگیِ طالع سرسبز تو ہیں لیکن جوں سبزہ خوابیدہ اے شورِ قیامت رہ اُدھر ہی میں کہتا ہوں چوں کے ہے ابھی یاں سے کوئی دل شوریدہ اوروں سے تو ہنستے ہو نظروں سے ملا نظریں اِدھر کو نظر...
  8. کاشفی

    درد مژگان تر ہوں یا رگِ تاکِ بریدہ ہوں - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) مژگان تر ہوں یا رگِ تاکِ بریدہ ہوں جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی اُفتادہ ہوں پہ سایہء قدِّ کشیدہ ہوں ہر شام مثلِ شام ہوں میں تیرہ روزگار ہر صبح مثلِ صبح گریباں دریدہ ہوں کرتی ہے بوئے گل تو میرے ساتھ اختلاط پر آہ! میں تو موجِ...
  9. کاشفی

    صدائے درویش - امجد حیدر آبادی

    صدائے درویش (ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی) اس رنج کی دنیا میں جامِ طرب افزا دے اس میکدہء لاَ میں، اِک ساغر الاّ دے اے فضل و کرم والے! محتاج کو دِلوادے امید کے بندے کو محروم نہ پلٹا دے دے اے مرے مولا دے، دے اے مرے داتا دے اِس اپنے بھکاری پر، اے شاہ کرم فرما آیا ہے ترے در پر...
  10. کاشفی

    قرطبہ - روش صدیقی

    قرطبہ (روش صدیقی - 1925ء) (1) بہارِ خلد سے رنگیں تھا گلستاں تیرا غلامِ احمد مرسل تھا باغباں تیرا جلال ملّتِ بیضا تھی بارگاہ تری! سجود گاہِ ملائک تھا آستاں تیرا! فرشتے وادی انوار تجھ کو کہتے تھے! ہر ایک ذرّہ تھا خورشید آسماں تیرا وہ صبحِ گلکدہء وادی الکبیر کہاں؟ کہ جس کے عکس میں منظر تھا...
  11. کاشفی

    یادِ سلف - محروم

    یادِ سلف (محروم - 1910ء) شگفتہ لالہ و گل اب بھی ہوتی ہیں بہاروں میں وہی ہے لمبی لمبی دوب اب بھی سبزہ زاروں میں وہی اب ہے جو پہلے تھا ترنّم آبشاروں میں دکھاتی ہے کرشمے اب بھی قدرت کوہساروں میں نظارے ہیں وطن کے دلنشیں، جیسے کہ پہلے تھے مگر افسوس ہم ویسے نہیں جیسے کہ پہلے تھے نہ وہ دل ہے،...
  12. کاشفی

    مَے گسار شاعر کا ترانہ - عابد لاہوری

    مَے گسار شاعر کا ترانہ (عابد لاہوری) فلک پہ مہروماہ مِری محفلوں کے جام ہیں ستارے سب غلام ہیں کہ رقص میں دوام ہیں مناظرِ شب و سحر جو زندگی میں عام ہیں کئی ضیا پذیر ہیں، کئی سیاہ فام ہیں تمام پر جھلک رہا ہے اِک حجاب نور کا کوئی کہے کہ عکس ہے یہ جلوہ گاہ طور کا شراب دلگداز سے ہے گرمجوش...
  13. کاشفی

    میر مہدی مجروح مانگیں نہ ہم بہشت، نہ ہو واں اگر شراب - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) مانگیں نہ ہم بہشت، نہ ہو واں اگر شراب دوزخ میں ڈال دیجئے، دیجئے مگر شراب زاہد کے بخت بد کی ہے خوبی، وگرنہ کیوں چھوڑے کوئی شراب کی اُمید پر شراب توبہ تو ہم نے کی ہے، پر اب تک یہ حال ہے پانی بھر آئے منہ میں، دکھا دیں اگر شراب گویا شراب ہی بھرا عمر کا قدح موت اُس کی...
  14. کاشفی

    میر مہدی مجروح نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں وہ اگر آگئے مقابل میں فرطِ شوخی سے وہ نظر نہ پڑے آئے بھی اور نہ آئے محفل میں ہو جو ہمّت تو سب کچھ آساں ہو دقتیں ہیں جو کارِ مشکل میں دیکھ کیفیت گدائے مغاں کشتیء مئے ہے دستِ سائل میں وہ اور آئیں مری عیادت کو یوں کہو یہ بھی آگئی دل میں...
  15. کاشفی

    میر مہدی مجروح میرے دل میں تو ہرزماں ہو تم - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) میرے دل میں تو ہرزماں ہو تم چشمِ ظاہر سے کیوں نہاں ہو تم بیوفائی کا عیب کیا ہے یہ تو سچ ہے کہ میری جاں ہو تم جب چلو ٹیڑہی کی چلتے ہو میرے حق میں تو آسماں ہو تم دل و دیں دونوں نذر کرتا ہوں ایسی چیزوں کے قدرداں ہو تم دیکھ غمگیں مجھے بگڑتے ہو پرلے درجے کے بدگماں ہو تم...
  16. کاشفی

    میر مہدی مجروح اُن آنکھوں نے ایسا جھکایا مجھے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) اُن آنکھوں نے ایسا جھکایا مجھے کہ کچھ ہوش اپنا نہ آیا مجھے ہزار آفتوں میں پھنسایا مجھے بھلا آدمی کیوں بنایا مجھے نمود صور ہے بھی اور پھر نہیں یہ کیا خواب ہے جو دکھایا مجھے کوئی مجھ سی بھی جنسِ کاسد نہ ہو کہ جس نے لیا پھیر لایا مجھے نہیں بخل کچھ مبدع فیض میں توجہ کے...
  17. کاشفی

    دلِ اندوہگیں میں آج یہ پھر کس کی یاد آئی - جگن ناتھ آزاد

    غزل (جگن ناتھ آزاد) دلِ اندوہگیں میں آج یہ پھر کس کی یاد آئی کہ رخصت ہوگئے صبرو سکوں، تاب و توانائی خس و خاشاکِ گلشن میں یہ رعنائی یہ زیبائی چمن میں ہے کسی سحر آفریں کی کارفرمائی وہ گردوں پر گھٹا چھائی، پیامِ زندگی لائی فضا نے تازگی پائی، گلستاں میں بہار آئی کس کے حسنِ عالمگیر کے یہ سب...
  18. کاشفی

    بلوچیوں کے گیت - جناب علی احمد

    بلوچیوں کے گیت (جناب علی احمد ، ستمبر 1947ء پاکستان) بلوچی شاعری کے وجود کا علم اس وقت تک کسی کو نہ ہوا تھا جب تک کہ لیچ نے "بلوچی زبان کا خاکہ" کے عنوان سے چند مسلسل مضامین 1840ء کے "جرنل آف دی ایشیاٹک سوسائٹی بنگال" میں شائع نہ کئے۔ لیکن چھاپے کی خرابیوں اور عملے کی غلطیوں کی وجہ سے یہ نظمیں...
  19. کاشفی

    میر مہدی مجروح منہ چھپانے لگے حیا کر کے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) منہ چھپانے لگے حیا کر کے ہوئے بیگانہ آشنا کر کے ایسے پھر چہچہے نہ ہوویں گے مجھ کو پچھتاؤ گے رہا کر کے لطف کیسا، وفا ہے کیا، وہ تو رکھتے احسان ہیں، جفا کر کے رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا رات کاٹی خدا خدا کر کے اب وہ باتیں کہاں، کبھی پہلے گالیاں سنتے تھے دعا کر کے...
  20. کاشفی

    میر مہدی مجروح کیوں منہ چھپا ہے، کس لیئے اتنا حجاب ہے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) کیوں منہ چھپا ہے، کس لیئے اتنا حجاب ہے تیری تو شرم ہی ترے رُخ پر نقاب ہے بیکار اپنی عرضِ تمنّا نہ جائے گی میرا حریف غمزہء حاضر جواب ہے مشکل ہے وصل میں بھی تلافی فراق کی پہلو میں گر یہی دلِ حسرت مآب ہے آتش کی آب اُس کی بقا پر دلیل ہے میں بھی ہوں جب تلک نفسِ شعلہ تاب...
Top