نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اکبر الہ آبادی بہار آئی ، کھلے گُل، زیب صحن ِبوستاں ہوکر - اکبر الہ آبادی

    غزل (سید اکبر حسین الہ آبادی) بہار آئی ، کھلے گُل، زیب صحن ِبوستاں ہوکر عنادل نے مچائی دھوم سرگرم فغاں ہوکر بلائیں شاخ گل کی لیں نسیم صبحگاہی نے ہوئیں کلیاں شگفتہ روئے رنگیں تپاں ہوکر جوانانِ چمن نے اپنا اپنا رنگ دکھلایا کسی نے یاسمن ہو کر، کسی نے ارغواں ہوکر کیا پھولوں نے شبنم سے وضو...
  2. کاشفی

    اہلِ محبّان پاکستان یعنی کراچی کی عوام تحریک انصاف کے جلسے کو کامیاب بنائیں

    اہلِ محبّان پاکستان، یعنی کراچی کی عوام تحریکِ انصاف عمران خان کے 25 دسمبر 2011 کے جلسے میں شریک ہو کر اس جلسے کو کامیاب بنائیں لیکن یاد رہے! الیکشن میں کامیاب کراچی کو OWN کرنے والے مخلص لوگوں کو ہی کرنا ہے۔
  3. کاشفی

    اس سے کچھ میرا بھی ذکر اے دل ناشاد رہے - ضامن علی جلال لکھنوی

    غزل (ضامن علی جلال لکھنوی) اس سے کچھ میرا بھی ذکر اے دل ناشاد رہے وقت پر بھول نہ جانا یہ ذرا یاد رہے ہم سے کتنے ہی تری یاد میں برباد رہے تو سلامت رہے کوچہ ترا آباد رہے قہقہے خوب لگے بے اثری پر اس کی کیا مجھے شاد کیا خوش مری فریاد رہے گوش زد اُس بت ظالم کے نہ ہونا بہتر نارسا یوں ہی الہٰی...
  4. کاشفی

    آج کس مست کی رخصت ہے میخانے سے - ضامن علی جلال لکھنوی

    جلال لکھنوی تعارفِ شاعر: ضامن علی نام- جلال تخلص۔ حکیم اصغر علی داستانگو کے بیٹے اور لکھنؤ کے رہنے والے تھے ۔ 1250ہجری کو محلہ پار لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نواب آصف الدولہ کے مدرسہ میں تعلیم پائی۔ عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھتے ہی تھے کہ شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ اوّل امیر علی خان ہلالی کو اپنا...
  5. کاشفی

    داغ ہمت کا ہارنا نہ مصیبت میں چاہیئے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) ہمت کا ہارنا نہ مصیبت میں چاہیئے تھوڑا سا حوصلہ بھی طبیعت میں چاہیئے دل دو طرح کا تیری محبت میں چاہیئے راحت میں ایک ، ایک مصیبت میں چاہیئے آجائے راہ راست پہ کافر ترا مزاج اک بندہء خدا تری خدمت میں چاہیئے اپنا بھی کام نکلے وہ ناراض بھی نہ ہوں ایسے مزے کی...
  6. کاشفی

    داغ یہ بات بات میں کیا ناز کی نکلتی ہے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) یہ بات بات میں کیا ناز کی نکلتی ہے دبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے ٹھہر ٹھہر کے جلا دل کو ایک بات نہ پھونک کہ اس میں بوئے محبت ابھی نکلتی ہے بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کو مری زباں سے کروں کیا وہی نکلتی ہے ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل دعا وہی...
  7. کاشفی

    داغ جانچ لو ہاتھ میں پہلے دل شیدا لے کر - داغ دہلوی

    غزل (داح دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) جانچ لو ہاتھ میں پہلے دل شیدا لے کر نہیں پھرنے کا مری جاں یہ سودا لے کر ناز ہوتا ہے اُنہیں مال پرایا لے کر دُون کی لیتے ہیں میرا دل شیدا لے کر دل کاسودا جو کرے تم سے وہ سودائی ہے دام دیتے ہی نہیں مال پرایا لے کر رکھ دیا ہاتھ مرے منہ پہ تب کافر نے صبح...
  8. کاشفی

    حالی جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا - مولانا الطاف حسین حالی

    غزل (مولانا الطاف حسین حالی) جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا یہ بھید ہےاپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا ہو لاکھ غیروں کا غیر کوئی نہ جانتا اس کو غیر ہرگز جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کو تصور اپنا نہ کیجئے گا اسی میں ہے خیر حضرت دل کہ یار بھولا ہوا ہے ہم کو کرے وہ یاد،...
  9. کاشفی

    حالی کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا - مولانا الطاف حسین حالی

    غزل (مولانا الطاف حسین حالی) کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا باقی ہے جو ابد تک وہ ہے جلال تیرا ہے عارفوں کو حیرت اور منکروں کو سکتہ ہر دل پہ چھا رہا ہے رعب جمال تیرا چھوٹے ہوئے ہیں گو جی پر دل بندھے ہوئے ہیں ملنے سے بھی سوا ہے چھٹنا محال تیرا گو حکم تیرے لاکھوں یاں ٹالتے رہے ہیں لیکن...
  10. کاشفی

    امیر مینائی میری طرح نہ اک دن ابرِ بہار رویا - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی) میری طرح نہ اک دن ابرِ بہار رویا وہ ایک بار رویا میں لاکھ بار رویا مجنوں سے میں نے پوچھا کل حال بیخودی کا کچھ کہہ سکا نہ منہ سے، پر زار زار رویا کیا بیکسی کا عالم میرے مزار پر ہے جو آگیا وہ بن کر شمع مزار رویا آواز دے رہے ہیں مقتل میں زخم بسمل خنداں ہوا جو پہلے انجام...
  11. کاشفی

    دل کو پھر کاکل میں الجھاتے ہیں ہم - نواب سید محمد خاں، رند

    غزل (نواب سید محمد خاں، رند) دل کو پھر کاکل میں الجھاتے ہیں ہم سر پہ پھر روز سیہ لاتے ہیں ہم اے اجل آچک خدا کے واسطے زندگی سے اب تو گھبراتے ہیں ہم کل کہہ آئے تھے نہ آوینگے کبھی بن بلائے آج پھر جاتے ہیں ہم ہم پہ بہتاں اور کی الفت کا ہے لے ترے سر کی قسم کھاتے ہیں ہم رند جب ملتے ہیں وہ...
  12. کاشفی

    کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد - نواب سید محمد خاں، رند

    غزل (نواب سید محمد خاں، رند) کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد میں ماجرائے چمن کیا کروں بیاں صیاد دکھایا کنج قفس مجھ کو آب و دانہ نے وگرنہ دام کہاں میں کہاں کہاں صیاد اُداس دیکھ کے مجھ کو چمن دکھاتا ہے بہت دنوں میں ہوا ہے مزاج داں صیاد پروں کو کھول دے ظالم جو قید کرتا ہے قفس کو لے کے میں...
  13. کاشفی

    روح بدن میں ہے طپاں جی کو ہے کل سے بےکلی - سید آغا حسن تخلص امانت

    غزل (سید آغا حسن تخلص امانت) روح بدن میں ہے طپاں جی کو ہے کل سے بےکلی جلد خبر لو ہمدلو جاں فراق میں چلی باد صبا جو صبح دم باغ میں ناز سے چلی نخل نہال ہوگئے پھول گئی کلی کلی تار کشی دوپٹہ تو اوڑھے کرن جو ٹانک کر ہو شب ماہتاب میں کیا ہی صنم جھلا جھلی قصّہ کیا جو ابر میں اس گل تر سیر کا...
  14. کاشفی

    مومن ہے نگاہ لطف دشمن پر تو بندہ جائے ہے - مومن

    غزل (مومن خان مومن) ہے نگاہ لطف دشمن پر تو بندہ جائے ہے یہ ستم اے بیمروت کس سے دیکھا جائے ہے سامنے سے جب وہ شوخ دلربا آجائے ہے تھامتا ہوں پر یہ دل ہاتھوں سے نکلا جائے ہے حالِ دل کس سے کہوں میں کس سے دیکھا جائے ہے سر اُٹھے بالیں سے کیا کچھ جی ہی بیٹھا جائے ہے تاب و طاقت ، صبرو راحت، جان و...
  15. کاشفی

    ناسخ ان لبوں کی یاد میں داغ دل دیوانہ ہے - ناسخ

    غزل (شیخ امام بخش ناسخ) ان لبوں کی یاد میں داغ دل دیوانہ ہے آتشِ یاقوت سے روشن چراغ خانہ ہے پھر بہار آئی کف ہر شاخ پر پیمانہ ہے ہر روش میں جلوہء بادِ صبا مستانہ ہے ہر بگولے میں عیاں اک لغزش مستانہ ہے گردش چشم غزالاں گردش پیمانہ ہے ہے بساں شمع روشن ہر چراغ چشم غول ہوچکا ہے بارہا آباد جو...
  16. کاشفی

    آج دل بےقرار ہے کیا ہے - میر غلام حسن

    غزل (میر غلام حسن) آج دل بیقرار ہے کیا ہے درد ہے انتظار ہے کیا ہے جس سے جلتا ہے دل جگر وہ آہ شعلہ ہے یا شرار ہے کیا ہے یہ جو کھٹکے ہے دل میں کانٹا یاں مژہ ہے نوک خار ہے کیا ہے چشم بددور تیری آنکھوں میں نشہ ہے یا خمار ہے کیا ہے میرے ہی نام سے خدا جانے ننگ ہے اس کو عار ہے کیا ہے کیوں...
  17. کاشفی

    دل غم سے ترے لگا گئے ہم - میر غلام حسن

    غزل (میر غلام حسن) دل غم سے ترے لگا گئے ہم کس آگ سے گھر جلا گئے ہم ماتم کدہ جہاں میں چوں شمع رو رو کے جگر بہا گئے ہم مانندحباب اس جہاں میں کیا آئے تھے اور کیا گئے ہم کھویا گیا اس میں گو دل اپنا پر یار تجھے تو پا گئے ہم آتا ہے یہی تو ہم کو رونا یوں موت کا غم بھلا گئے ہم افسانہ سرگذشت...
  18. کاشفی

    جوش میں قُرباں اے مرے تُرکِ قبا پوش - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) میں قُرباں اے مرے تُرکِ قبا پوش کبھی آ اِس طرف بھی زُلف بردوش نگارِ خوش خرام دیارِ شیریں بُتِ آشوبِ عقل و فتنہء ہوش ہنوز اے شہریارِ کشورِ دل! گدائے راہ کا خالی ہے آغوش کسی دن تو بُن اے جانِ خرابات! انیسِ خلوتِ رندانِ مَے نوش کروں کس طرح دامن پارہ پارہ کدھر ہے اے...
  19. کاشفی

    جوش آ، اور جہاں کو غرقِ لبِ نوش خند، کر - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) آ، اور جہاں کو غرقِ لبِ نوش خند، کر آوازہء فُسونِ جوانی بُلند کر بَل ابروؤں پہ ڈال کے زُلفوں کو کھول دے کونین کو اسیرِ کمان و کمند کر سُنتا ہوں دردِ عشق ہے ہر درد کی دوا آ، اور میرے دردِ جگر کو دوچند کر آشُفتہ خُو طبیب ہے، نازک مزاج دل کیوں کر کہوں علاجِ دلِ دردمند...
  20. کاشفی

    جوش دُوربینیء و جوانی، یہ تماشا کیسا؟ - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) دُوربینیء و جوانی، یہ تماشا کیسا؟ عیشِ امروز کے طوفان میں فردا کیسا اُس زمانے میں کہ ہو جامہ دری جب ایمان راہ میں خار سے دامن کا بچانا کیسا مَہ وشوں کے نفسِ عطر فشاں کے ہوتے ذکرِ جاں بخشیء انفاسِ مسیحا کیسا سر پہ جس وقت گرجتے ہوں جُنوں کے بادل پُختہ کاری کی صدا، عقل...
Top